پاکستان میں ہاکی ٹیلنٹ کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں میں ہاکی کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے اور قومی کھیل کو مزید بدحالی سے بچانے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک میں موجود ہاکی کے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور سابق اولمپئن خواجہ ذکا الدین نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اس پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کے سات بڑے شہروں میں سابق اولمپئنز کی زیر نگرانی تربیتی کیمپ لگائے جائیں گے جن میں پینتیس، پینتیس کھلاڑیوں کی تربیت کی جائے گی۔ یہ کیمپ 25 جون سے 31 جولائی تک لاہور، کراچی، فیصل آباد، بہاولپور، پشاور ،بنوں اور کوئٹہ میں لگائے جا رہے ہیں۔ خواجہ ذکا الدین نے کہا کہ ان کیمپوں میں تربیت کے لیے جن سابق اولمپئنز کو بطور کوچ لگایا جا رہا ہے انہیں مکمل اختیارات دیے جائیں گے اور ایسی سہولتیں دی جائیں گی کہ وہ بہت بہتر انداز میں کھلاڑیوں کی تربیت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی تربیت کے بعد ان میں سے بہترین اٹھارہ کھلاڑیوں کی ٹیم بنائی جائے گی اور اس طرح ہمیں ملک بھر سے سات ٹیمیں مل جائیں گی۔ ان ٹیموں کے درمیان لاہور میں ٹورنامنٹ کروایا جائے گا اور اس ٹورنامنٹ کے دوران سلیکشن کمیٹی بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کر کے ایک ٹیم بنائے گی اور اس ٹیم کا مقابلہ پاکستان کی قومی ٹیم سے ہوگا۔ خواجہ ذکا الدین نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ تھا کہ ہر پوزیشن کے لیے چار، چار کھلاڑی موجود ہوتے تھے اور ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو یہ احساس ہوتا تھا کہ اگر انہوں نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تو دوسرا کھلاڑی ان کی جگہ لینے کے لیے موجود ہے لیکن اب سکول، کالجز میں ہاکی کھیلی نہیں جا رہی اسی لیے ٹیلنٹ کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جو کھلاڑی قومی ٹیم میں جگہ حاصل کر لیتا ہے تو اسے اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ اگر اس نے کارکردگی نہیں دکھائی تو ٹیم میں جگہ نہیں رہے گی۔ خواجہ ذکا الدین نے کہا کہ ٹیلنٹ کی تلاش کا یہ پروگرام اسی لیے بنایا گیا ہے کہ ایسے کھلاڑی تیار کیے جائیں جو قومی ٹیم کے متبادل ہوں اور قومی ٹیم کو سخت مقابلہ دیں تاکہ کھلاڑی زیادہ محنت کریں، خود کو زیادہ فٹ کرنے کی کوشش کریں اور ٹیم میں اپنی جگہ کے لیے کارکردگی دکھائیں۔ خواجہ دکا الدین کا کہنا تھا کہ وہ یہ تمام کوشش اس سال کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے چمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت اہم ٹورنامنٹ ہے اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس ٹورنامنٹ کے لیے ایسی ٹیم بنائی جائے جو بہتر کارکردگی دکھا سکے‘۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کوچ اصلاح الدین نے کہا تھا کہ پاکستان کی ٹیم کا موجودہ معیار ناقص ہے اور اچھی ٹیم کی تیاری کےلیے چار سے پانچ سال درکار ہیں۔ اس ضمن میں خواجہ ذکا الدین کا کہنا ہے کہ حالات اتنے خراب نہیں اور چمپیئنز ٹرافی میں بھی ٹیم بہتر پوزیشن حاصل کر سکتی ہے۔ پریس کانفرنس میں موجود پاکسان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری خالد محمود نے | اسی بارے میں ایشیا کپ ہاکی میں عدم شرکت30 May, 2007 | کھیل جدید کوچنگ کی ضرورت، کامران 25 May, 2007 | کھیل فٹنس ناکامی کی وجہ: ہاکی کوچ17 May, 2007 | کھیل پاکستان اذلان شاہ ٹورنامنٹ سے باہر09 May, 2007 | کھیل سینئر کھلاڑیوں پر دروازے بند نہیں30 April, 2007 | کھیل اصلاح، منظور جوڑی کے لیے چیلنج09 April, 2007 | کھیل ہاکی فیڈریشن سیکریٹری مستعفی21 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||