اصلاح، منظور جوڑی کے لیے چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اصلاح الدین اور منظور الحسن پر اس وقت پاکستانی ہاکی ٹیم کی تشکیل اور اسے وننگ کامبی نیشن میں تبدیل کرنے کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان دونوں سابق اولمپئنز کو بیجنگ اولمپکس تک پاکستانی ہاکی ٹیم کا منیجر اور کوچ مقرر کیا جاچکا ہے اور آئندہ ماہ اپوہ ملائشیا میں منعقد ہونے والا سولہواں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ اصلاح الدین اور منظور الحسن اس سے قبل بھی ٹیم کی کوچنگ سے وابستہ رہ کر اچھے نتائج دے چکے ہیں۔ 1986ء ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم گیارہویں نمبر پر آئی تھی جس کے بعد اسے جیت کی راہ پر دوبارہ گامزن کرنے کے لیے ان دونوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور ان کی نگرانی میں ٹیم نے1990 ورلڈ کپ میں نقرئی اور1990 ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے علاوہ متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ منظورالحسن اور اصلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ بیجنگ اولمپکس تک ایک متوازن ٹیم کی تشکیل کی ذمہ داری کو پورا کر سکیں۔ منظورالحسن نے کہا کہ وننگ کامبی نیشن راتوں رات تیار نہیں ہوجاتا اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ پاکستانی ہاکی کو اس وقت جس صورتِ حال کا سامنا ہے اس میں متوازن ٹیم تیار ہونے میں وقت لگے گا۔ مشکل کام ضرور ہے لیکن وہ پرعزم ہیں۔ منظور الحسن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کیا جائے تاکہ جب سینئر کھلاڑیوں کے جانے کا وقت ہو تو متبادل کھلاڑی ان کی جگہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں کسی سینئر کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور جو بھی اچھی کارکردگی دکھائے گا وہ منتخب ہوگا۔
پاکستانی ہاکی کے بنیادی مسائل کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے منظور الحسن نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر باصلاحیت کھلاڑی سامنے آتے تھے اس کے لیے فیڈریشن کو حکومت کی طرف سے فنڈز بھی ملتے تھے اور اس پر نظر بھی رکھی جاتی تھی کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو لیکن پھر نہ وہ نظر رہی اور نہ وہ ٹیلنٹ رہا۔ اس کے علاوہ ڈیپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں کو ملازمتیں دینی ختم کردیں۔ ان حالات میں نوجوان اس کھیل کی طرف کیسے آئیں گے؟ ٹیم کے منیجر اصلاح الدین نے کہا کہ موجودہ حالات میں فوری طور پر اچھے نتائج حاصل نہیں ہوسکتے اس کے لیے محنت اور نتائج کے لیے صبر ضروری ہے لیکن انہیں پوری امید ہے کہ وہ موجودہ کھلاڑیوں میں سے اچھی ٹیم تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اصلاح الدین نے کہا کہ فوری طور پر فزیکل فٹنس پر بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل عباس کو بھی ورلڈ کلاس کھلاڑی بننے میں وقت لگا تھا۔ ان کی نظر میں کچھ اچھے کھلاڑی ہیں جن میں سے کسی کا سکوپ اور کسی کی ہٹ بہت اچھی ہے ان کھلاڑیوں پر محنت کرنی ہوگی۔ فارورڈز گول کرنے کے سنہری مواقع ضائع کرتے رہے ہیں اس خامی کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے آٹھ ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ ٹورنامنٹ ہالینڈ نے جیتا تھا جس نے فائنل میں اولمپک چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی تھی جبکہ تیسری پوزیشن کے میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو ہرایا تھا۔ | اسی بارے میں فزیکل فٹنس بہتر کرنی ہوگی: اصلاح26 February, 2007 | کھیل ہاکی کوچ دو سال کے لیے تقرر ہونگے 23 January, 2007 | کھیل آسٹریلیا کے ’سکیورٹی خدشات‘19 January, 2007 | کھیل ہاکی میں شکست پر ملا جلا ردعمل13 December, 2006 | کھیل ایشین گیمز: پاکستان کا سفر25 November, 2006 | کھیل ریحان بٹ ہاکی ٹیم کا نیا کپتان مقرر07 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||