ایشین گیمز: پاکستان کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1951ء میں بھارتی دارالحکومت دلی میں پہلی ایشین گیمز منعقد ہوئی تھیں جن میں چھ کھیلوں کے مقابلوں میں گیارہ ممالک نے شرکت کی تھی۔ پاکستان نے اولین ایشیائی کھیلوں میں حصہ نہیں لیا مگر اس کے بعد سے منعقد ہونے والی تمام اییشن گیمز میں پاکستان شریک ہوتا رہا ہے۔ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کو سب سے زیادہ یعنی چار مرتبہ ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کا موقع ملا ہے۔ بھارت اور جنوبی کوریا میں دوبار ایشیائی کھیل منعقد ہوئے ہیں۔ پاکستان نے تیرہ ایشین گیمز میں شرکت کرکے اب تک چالیس گولڈ میڈلز جیتے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ چودہ طلائی تمغے ایتھلیٹکس میں حاصل کیے ہیں۔ہاکی میں پاکستان کے حاصل کردہ طلائی تمغوں کی تعداد سات ہے۔ اسکواش اور سنوکر میں اب تک ایک گولڈ میڈل پاکستان کے پاس ہے۔ اتفاق سے ان دونوں کھیلوں میں پاکستان نے گولڈ میڈلز 1998ء کے بنکاک گیمز میں حاصل کیے تھے۔ ایتھلیٹکس میں پاکستان کا ماضی انتہائی شاندار رہا ہے۔ عبدالخالق، مبارک شاہ، غلام رازق اور محمد نواز کی شاندار کارکردگی ایک روشن باب ہے لیکن1990ء کے بیجنگ اولمپکس میں غلام عباس کے چار سومیٹرز ہرڈلز کےگولڈ میڈل کے بعد چمکتے تمغے پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے خواب بن گئے ہیں اور پاکستانی ایتھلیٹس کی شرکت اب رسمی طور پر وائلڈ کارڈ کے ذریعے رہ گئی ہے۔ ہاکی میں پاکستان نے آخری گولڈ میڈل بیجنگ میں ہی جیتا تھا۔ چار سال بعد ہیروشیما میں یہ کانسی کے تمغے میں تبدیل ہوا اور پھر اگلے ایشین گیمز میں بھی اس کی یہی پوزیشن رہی۔ چار سال قبل بوسان کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستانی ہاکی ٹیم وکٹری اسٹینڈ پر ہی نہ پہنچ سکی۔ باکسنگ میں پاکستانی باکسرز کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے چھ طلائی تمغوں کے علاوہ انہوں نے چاندی کے بیس اور کانسی کے چونتیس تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔ مہراللہ اور فیصل کریم پر عائد پابندی کے بعد دوحا میں پاکستان کی نظریں اصغرعلی شاہ پر ہوں گی۔ ماضی میں پاکستانی پہلوان ایشیائی کھیلوں میں اپنی موجودگی کا بھرپور انداز میں احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن اب ان کی قوت بھی حریف پہلوانوں کے سامنے ماند پڑگئی ہے۔ | اسی بارے میں گیل اور گنگا کے سامنے بولرز بے بس20 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈین کرکٹ کو ’زوال‘20 November, 2006 | کھیل اپیلٹ کمیٹی کی کاروائی شروع20 November, 2006 | کھیل بلے بازی بچپن کی محبت ہے: چندرپال20 November, 2006 | کھیل نہیں، ریلیکس نہیں کرتا: عمران فرحت19 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||