ہاکی فیڈریشن سیکریٹری مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اخترالاسلام نے اپنے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فرد واحد کے طور پر قومی ہاکی کے معاملات چلا رہے ہیں۔ اخترالاسلام نے بدھ کو کراچی میں پریس کانفرنس منعقد کر کے اپنے استعفے کا اعلان کیا جس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ڈمی سیکرٹری اور ’ربر سٹمپ‘ بن کر رہنا نہیں چاہتے۔ اختر الاسلام، جن کے فیصلہ کن گول نے پاکستان کو 1971 کا اولین ہاکی ورلڈ کپ جتوایا تھا، کہا کہ انہیں طارق کرمانی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا سیکریٹری مقرر کیا تھا۔ اختر الاسلام کے مطابق میر ظفراللہ جمالی کے آنے کے بعد انہوں نے میر جمالی سے کہا کہ انہیں فارغ کر دیا جائے لیکن انہوں نے کہا کہ آپ اپنی ذمہ داری جاری رکھیں۔ اختر الاسلام کے مطابق وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ تمام معاملات میرظفراللہ جمالی چلا رہے ہیں اوربعض ایسے فیصلے کیے گئے جو ان کے مزاج اور ضمیر کے خلاف تھے۔ اخترالاسلام نے کہا کہ وہ ایشین ہاکی فیڈریشن کے انتخابات میں کرنل ( ریٹائرڈ) مدثر اصغر کی نامزدگی کے خلاف تھے لیکن یہ فیصلہ بھی جمالی صاحب کا تھا۔ اس کے علاوہ ہاکی کیمپ میں ایک بتیس سالہ کھلاڑی کو شامل کیا گیا جو واپڈا کا کھلاڑی نہیں بلکہ کوچ تھا۔ ان حالات میں سیکریٹری کی حیثیت سے لوگوں کی تنقید کا سامنا انہیں کرنا پڑ رہا تھا۔ اخترالاسلام نے کہا کہ قومی ہاکی کے بارے میں فیصلہ باہمی مشاورت سے ہونا چاہیے نہ کہ کسی فرد واحد کا۔ انہوں نے کہا ’عام طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پچھلے صدور صرف پالیسی معاملات میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے اور انتطامی معاملات سیکرٹری پر چھوڑ دیتے تھے لیکن جمالی صاحب چونکہ خود ہاکی کھیلے ہوئے ہیں وہ ہر معاملے کو خود نمٹانا چاہتے ہیں جو بعض معاملات میں درست بات نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں ہاکی فیڈریشن: سیکریٹری مستعفیٰ19 July, 2006 | کھیل ہاکی کوچ دو سال کے لیے تقرر ہونگے 23 January, 2007 | کھیل ایشین گیمز: شہناز شیخ کوچ مقرر27 September, 2006 | کھیل شہناز شیخ ہاکی ٹیم کے نئے کوچ05 August, 2006 | کھیل ’غیرملکی کوچ لا سکتے ہیں‘02 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||