BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 May, 2007, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جدید کوچنگ کی ضرورت، کامران

ہاکی میچ
ہاکی کے کھلاڑی کو جو پہلے مراعات ملتی تھیں وہ اب نہیں ہیں: کامران
پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ کامران اشرف کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو دنیائے ہاکی میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے تو کھیل کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔

کامران اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کا معیار نیچے آگیا ہے، ہاکی کا دائرہ محددو ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی کے کھلاڑی کو جو پہلے مراعات ملتی تھیں وہ اب نہیں ہیں۔ ’ادارے کھلاڑیوں کو ملازمتیں نہیں دے رہے ہیں اور جو ہیں وہ کنٹریکٹ پر ہیں یہ صورتحال کھلاڑی کو مستقبل کی طرف سے پریشان کرتی ہے اور ایک نوجوان ہاکی کے بجائے کرکٹ میں کشش دیکھ رہا ہے‘۔

کامران اشرف کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ہاکی میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت تبدیلیاں آچکی ہیں، کوچنگ کے انداز بدل چکے ہیں، دوسری ٹیموں کے پاس کوالیفائیڈ کوچز ہیں جو اپنے کھلاڑیوں کو جدید تقاضوں سے روشناس کرا رہے ہیں۔

جونیئر ٹیم کا ریکارڈ
 پاکستان صرف ایک بار جونیئر ورلڈ کپ جیت سکا ہے جب اس نے1979 میں فرانس میں کھیلا گیا اولین عالمی جونیئر کپ اپنے نام کیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مزید ایک بار1993 میں فائنل تک پہنچ سکا۔2001 کے عالمی جونئیر کپ میں پاکستان کوالیفائی ہی نہ کرسکا جبکہ2005ء میں اس کی ساتویں پوزیشن رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی زمانے میں ہم یہ کہتے تھے کہ یورپ ہاکی کی مہارت میں ہم سے آگے نہیں لیکن اب وہ بھی مہارت میں ہم سے بہتر ہوگئے ہیں۔

کامران اشرف نے کہا کہ چینی ہاکی ٹیم کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے ایشین گیمز میں پاکستان کو ہراکر سب کو حیران کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری اس لیے آئی کہ اس نے کورین کوچ کی خدمات حاصل کیں جو انیس سو چھیاسی کے ایشین گیمز میں پاکستان کو ہرانے والی کورین ٹیم میں شامل تھا۔ 1994 کے ایشین گیمز میں جب کوریا نے پاکستان کو دوبارہ ہرایا تو وہ اس ٹیم کے کوچ تھے، بعد میں انہی کی کوچنگ میں کوریائی ٹیم نے سڈنی اولمپکس میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور اب وہ تین سال سے چینی ٹیم کے ساتھ وابستہ ہیں۔

کامران اشرف نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہے لیکن اسے نکھارنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو فی الحال سینئر ٹیم میں شامل نہیں کیا جارہا ہے اس سلسلے میں فیڈریشن سے درخواست کی گئی ہے کہ ان کھلاڑیوں کو جونیئر ایشیا کپ تک جونیئر ٹیم میں ہی رکھا جائے۔

پاکستان کے لیے جونیئر ایشیا کپ اس لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی فائنلسٹ ٹیمیں2009ء کے جونیئر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرینگی۔

کامران اشرف کہتے ہیں کہ جونیئر ٹیم کی کوچنگ ان کے لیے چیلنج ہے۔ یہ نئی ٹیم ہے جسے متوازن شکل دینی ہے۔ اس ٹیم نے حال ہی میں کینیا اور مصر کا دورہ کیا تھا اور اگست میں وہ جرمنی میں آٹھ فریقی ٹورنامنٹ میں حصہ لے گی۔

پاکستان صرف ایک بار جونیئر ورلڈ کپ جیت سکا ہے جب اس نے1979 میں فرانس میں کھیلا گیا اولین عالمی جونیئر کپ اپنے نام کیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مزید ایک بار1993 میں فائنل تک پہنچ سکا۔2001 کے عالمی جونئیر کپ میں پاکستان کوالیفائی ہی نہ کرسکا جبکہ2005ء میں اس کی ساتویں پوزیشن رہی تھی۔

کامران اشرف پاکستان کی طرف سے دو اولمپکس میں حصہ لے چکے ہیں ۔ایک سو باون انٹرنیشنل میچوں میں ایک سو چھبیس گول کرنے والے کامران اشرف 1994ء کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے رکن تھے۔اس عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم نے بارہ گول کئے تھے جن میں سے آٹھ کامران اشرف کے تھے۔

انٹرنیشنل ہاکی میں وہ حنیف خان کے ساتھ سب سے زیادہ دس ہیٹ ٹرکس کے پاکستانی ریکارڈ میں شریک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد