سینئر کھلاڑیوں پر دروازے بند نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے منیجر و چیف کوچ اصلاح الدین نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک ایک کرکے سینئر کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ واضح رہے کہ پانچ مئی سے شروع ہونے والے سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے اعلان کردہ اٹھارہ رکنی ٹیم میں چار نئے کھلاڑیوں کو شامل کرتے ہوئے تجربہ کار فارورڈ شکیل عباسی کو ڈراپ کیا گیا ہے جس پر سابق سلیکٹر حسن سردار نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ تجربہ کار شکیل عباسی کو ٹیم میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ اس سے قبل سابق کپتان محمد ثقلین، وسیم احمد، سہیل عباس اور دلاور حسین ایشین گیمز کے کیمپ میں آنے کے بجائے بیرون ملک لیگ کھیلنے چلے گئے تھے۔حسن سردار کے مطابق وسیم احمد اور سہیل عباس کو بھی ٹیم میں ہونا چاہئے تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میرظفراللہ جمالی پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسے کھلاڑی کو ٹیم میں نہیں رکھیں گے جو ملک کو ترجیح نہیں دے گا۔ اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی کے دروازے آنے اور جانے والے کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ ٹیم میں سلیکشن کی بنیاد میرٹ ہے۔ ٹیم سے سینئر کھلاڑیوں کے بتدریج اخراج کے بارے میں ہونے والے اعتراضات کے بارے میں اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے۔ اس وقت بھی ٹیم میں پرانے کھلاڑی موجود ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی متوقع کارکردگی کے بارے میں منیجر و چیف کوچ کا خیال ہے کہ ان کے ذہن میں ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل ہے لیکن یہ کام راتوں رات نہیں ہوسکتا، ورلڈ کپ اور ایشین گیمز کے بعد ٹیم کی پوزیشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم ان کی کوشش ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آتی جائے۔ ’فزیکل فٹنس اور فارورڈز کے گول مس کرنے کے معاملات بہتر کرنے پر کیمپ میں توجہ دی گئی ہے اور پنالٹی کارنر پر گول کرنے اور گول بچانے کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے لئے پانچ پانچ کھلاڑی تیار کیے گئے ہیں۔‘ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم چھٹے نمبر پر رہی تھی جبکہ ایشین گیمز میں اسے چین کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ دونوں مقابلوں میں ٹیم کے کوچ شہناز شیخ تھے۔ اصلاح الدین اور ان کے ساتھی کوچ منظور الحسن کا پہلا امتحان پانچ مئی سے اپوہ ملائشیا میں شروع ہونے والا اذلان شاہ ٹورنامنٹ ہے جس میں پاکستان کے علاوہ بھارت، جنوبی کوریا، ارجنٹائن، آسٹریلیا، چین، کینیڈا اور ملائشیا کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستانی ٹیم پول بی میں جنوبی کوریا، کینیڈا اور ملائیشیا کے ساتھ ہے۔ وہ پانچ مئی کو پہلا میچ میزبان ملائیشیا کے خلاف کھیلے گی۔ گزشتہ سال اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے آٹھ ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||