’ایشیا کپ نہ کھیلنے کا دفاع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق اولمپیئن اور موجودہ سلیکٹر سمیع اللہ نےایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم نہ بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا تعلق پاکستانی ٹیم کی موجودہ غیرتسلی بخش کارکردگی اور ایشین ہاکی فیڈریشن کی سیاست ہے۔ ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ اس سال بھارت کے شہر چنئی میں کھیلا جائے گا جس میں پاکستانی ٹیم شرکت نہیں کرے گی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس فیصلے کو راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے متعدد سابق اولمپیئنز اسے تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔ سمیع اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اس لئے بھی درست ہے کہ جب ایشین ہاکی فیڈریشن کے انتخابات ہوئے تھے تو کسی بھی ملک نے پاکستان کی حمایت نہیں کی تھی صرف اس بنیاد پر کہ پاکستان کے چند لوگوں نے ان کے خلاف اسٹینڈ لیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ بین الاقوامی ہاکی میں ایشیا کپ کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے تمام اخراجات بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کو برداشت کرنا تھے جنہیں بچاکر یہی رقم سات شہروں میں لگائے جانے والے گرومنگ کیمپس پر کام آئے گی۔ ماسکو اور بیجنگ میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کے بارے میں سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ان ٹورنامنٹس میں پاکستان کو صرف ہوائی ٹکٹ کا خرچ برداشت کرنا پڑرہا ہے اس کے علاوہ وہاں نئے کھلاڑیوں کو کافی میچوں میں آزمانے کا موقع ملے گا اور چیمپئنز ٹرافی کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔ اپنے دور میں فلائنگ ہارس کے نام سے مشہور سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں نئے کھلاڑیوں کو بھیجنے کا تجربہ کامیاب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینٹرفارورڈز شبیرجونیئر اور محمد امین اور سینٹر ہاف آصف میں اچھا کھلاڑی بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہیں امید ہے کہ چار پانچ سال کے بجائے، جیسا کہ ٹیم منیجمنٹ کہہ رہی ہے ، اس سے پہلے ہی ہم ایک اچھی ٹیم تیار کرسکتے ہیں۔
شکیل عباسی کو اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں ڈراپ کرنے کے بعد دوبارہ کیمپ میں شامل کرنے کے بارے میں سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے شکیل عباسی ہی نہیں بلکہ کپتان ریحان بٹ کو بھی ڈراپ کرنے کی تجویز دی تھی وجہ صرف یہ تھی کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ بین الاقوامی سطح کا بہت بڑا ٹورنامنٹ نہیں ہے لہذا اس میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اور یہ سلسلہ چیمپئنز ٹرافی تک جاری رکھا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ شکیل عباسی کی جگہ ٹیم میں لئے گئے امین اور شبیر جونیئر سامنے آئے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ شکیل عباسی کو طارق عزیز کے ساتھ رائٹ ان یا لیفٹ ان پر شفٹ کردیا جائے۔ سہیل عباس سمیت متعدد پرانے کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی کے بارے میں سمیع اللہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی پالیسی واضح ہے کہ یہ کھلاڑی ٹیم میں واپس نہیں آئیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ نئے کھلاڑی یہ سوچ کر محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ سینیئرز کے ٹیم میں آنے کے بعد ان کی جگہ نہیں رہے گی۔ | اسی بارے میں پاکستان اذلان شاہ ٹورنامنٹ سے باہر09 May, 2007 | کھیل جدید کوچنگ کی ضرورت، کامران 25 May, 2007 | کھیل پاکستان میں ہاکی ٹیلنٹ کی تلاش05 June, 2007 | کھیل سینئر کھلاڑیوں پر دروازے بند نہیں30 April, 2007 | کھیل فزیکل فٹنس بہتر کرنی ہوگی: اصلاح26 February, 2007 | کھیل ایشیا کپ ہاکی میں عدم شرکت30 May, 2007 | کھیل ہاکی میں شکست پر ملا جلا ردعمل13 December, 2006 | کھیل کھلاڑی ہارگئے آفیشلز رہ گئے22 August, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||