BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 August, 2004, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھلاڑی ہارگئے آفیشلز رہ گئے

سہیل عباس
سہیل عباس کی جادوگری بھی کام نہ آئی
ایک کے بعد ایک مایوس کن کارکردگی کے بعد ایتھنز اولمپکس میں پاکستان کی کہانی تقریبا ختم ہوگئی ہے۔ ہاکی ٹیم اسپین کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کو ناممکن نہ سہی انتہائی مشکل بناچکی ہے۔

باکسرز کے چہروں پر مایوسی اور حریف باکسرز کے جڑے ہوئے مکوں کے نشانات صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔یہی دو کھیل ایسے تھے جن میں قوم کو بلند بانگ دعووں کے ساتھ سہانے خواب دکھائے گئے تھے بقیہ کھیلوں میں پاکستان کی شرکت یوں بھی رسمی ہی تھی لہذا ان میں کسی طرح کی توقع فضول تھی۔

ایتھنز اولمپکس میں پاکستان نے ہاکی، باکسنگ، تیراکی، ایتھلیٹکس اور شوٹنگ میں شرکت کی۔

ہاکی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمغے کے حصول میں پاکستان کی سب سے بڑی امید تھی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار نے ہالینڈ کے کوچ رولینٹ آلٹمینز کی خدمات حاصل کرکے قوم کو جیت کے سہانے سپنے دکھائے تھے لیکن اولمپکس میں سوائے جنوبی کوریا کے خلاف میچ کے ، جرمنی اور اسپین کے مقابلے پر پاکستان ٹیم کے مایوس کن کھیل نے ان بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی اور اب برطانیہ کے خلاف جیت بھی پاکستان کو سیمی فائنل تک نہیں لے جاسکے گی۔

باکسنگ میں پاکستان کے چھ باکسرز نے اولمپکس کے لئے کوالیفائی کیا بدقسمتی سے غلط دوا استعمال کرنے کی پاداش میں نعمان کریم پابندی کی زد میں آکر اولمپکس میں شرکت سے محروم ہوگئے لیکن اولمپکس میں شریک پانچ میں سے ایک بھی باکسر کافی عرصے سے جاری ٹریننگ کے مطابق اس تربیت اور اس تربیت کے لئے خرچ کی جانے والی خطیر رقم کا حق ادا نہ کرسکا۔

احمد علی کو پہلے راؤنڈ میں بائی ملی لیکن دوسرے ہی راؤنڈ میں وہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے اسی طرح اصغرعلی شاہ اور مہراللہ دوسرے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ فیصل کریم اور سہیل بلوچ کی کہانی پہلے ہی راؤنڈ میں ختم ہوگئی تھی۔

پاکستان باکسنگ ٹیم کے منیجر کا یہ گلہ بے وقت کی راگنی معلوم ہوتا ہے کہ اصغرعلی شاہ اور مہراللہ کی بدقسمتی کہ وہ ابتدا ہی میں کیوبن تجربہ کار باکسرز کے سامنے آگئے۔ ظاہر ہے کہ یہ اولمپکس ہیں سیف گیمز نہیں انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ یہاں پاکستانی باکسرز مقابلہ بھارتی بنگلہ دیشی یا سری لنکن باکسرز سے نہیں بلکہ باکسنگ کے سپر پاور ممالک سے ہوگا۔

پروفیسر انورچوہدری کو حکومت نے باکسرز کی تربیت کے لئے بڑی رقم دی گوکہ انہوں نے ان باکسرزّ کو ٹریننگ کے لئے باہر بھی بھیجا لیکن اولمپکس جیسے مقابلے میں پاکستانی باکسرز اور دیگر اقوام کے درمیان موجود فرق واضح طور دکھائی دیا۔پاکستانی باکسرز اولمپکس کے لئے جتنی آسانی سے کوالیفائی کرگئے اسی آسانی سے اولمپکس سے باہر بھی ہوگئِے۔

سوئمنگ میں پاکستان نمبر ایک واپڈا کی کرن خان کے مقابلے میں پاکستان آرمی کی رباب رضا کے انتخاب پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا جس میں کرن خان کے والد نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ان کی بیٹی کی کارکردگی اور اعدادوشمار رباب رضا سے اچھے رہے لیکن اس کے باوجود کرن خان کو نظرانداز کردیا گیا۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ اور اولمپک ایسوسی ایشن نے اس الزام کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ رباب رضا کا انتخاب عالمی چیمپئن شپ میں اس کی کارکردگی کی بنیاد پر تیراکی کی عالمی فیڈریشن نے کیا۔

رباب رضا کو اولمپکس میں صرف اس لئے شہ سرخیوں میں جگہ ملی گئی کہ وہ اولمپکس میں شرکت کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون تیراک تھی لیکن جہان تک کارکردگی کاتعلق ہے تو وہ اپنے ہی ریکارڈ کو بہتر بنانے میں بری طرح ناکام رہی اور91ء29 کے مقابلے میں اس کا اولمپکس میں وقت 10ء 30سیکنڈز رہا اور انہوں نے تاریخ کارکردگی کے بغیرمحض شرکت کے ذریعے ہی رقم کی۔

تیراکی میں شرکت کرنے والے مرد تیراک ممتاز احمد بھی اپنا ریکارڈ بہتر کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

ایتھلیٹکس میں محمد ساجد 63 میں سے48 ویں نمبر پر آئے۔ خاتون ایتھلیٹ سمیرا ظہور منگل کو پندرہ سو میٹرز میں ایکشن میں نظرآئیں گی جبکہ شوٹر خرم انعام اسکیٹ میں پہلے دن تین راؤنڈز کھیلنے کے بعد تمغے کی دوڑ سے دور ہوچکے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اچھی کارکردگی کی ایک فیصد بھی نہیں تو قومی خزانے کا ضیاع کرکے ان کھیلوں میں شرکت کا کیا جواز رکھتی ہے؟

پاکستان اسپورٹس کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے ارباب اختیار کے یہ دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے جن کا یہ کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو تجربہ دینے کے لیے اولمپکس اور بڑے مقابلوں میں شرکت ضروری ہے لیکن اگر یہ کھلاڑی اپنے قومی ریکارڈز بھی ان بڑے مقابلوں میں توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکیں اور شرکت برائے شرکت ہو تو اسے محض جوائے ٹرپ اور خزانے پر بوجھ ہی سمجھاجائے گا۔

اولمپکس میں شریک کھلاڑی ایک کے ایک کرکے ہارتے چلے گئے ہیں اب تو آفیشلز ہی باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تو وہی بتاسکیں گے کہ انہیں ان اولمپکس سے کیا تجربہ حاصل ہوا اور انہوں نے کیا پایا۔ بیچارے کھلاڑیوں کو نہ تمغے ملے اور نہ داد تحسین۔ خالی ہاتھ گئے تھے خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد