BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 19:53 GMT 00:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کمزورٹیم سے میچ تربیت سے بہتر‘

 پاکستانی ہاکی ٹیم
بورڈ کی سست روی روبو کپ میں پاکستان کی عدم شمولت کی وجہ بنی
پاکستانی ہاکی ٹیم کو دنیائے ہاکی کی نسبتاً کمزور ٹیموں کے ساتھ چار ملکی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے ماسکو بھیجا جا رہا ہے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ اس کے علاوہ اولمپکس کی تیاری کے لیے ان کے پاس کوئی بہتر ٹورنامنٹ نہیں ہے۔

ماسکو میں 5 سے 8 جولائی تک ہونے والے چار ملکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کے علاوہ سکاٹ لینڈ ، روس اور یوکرائن کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں اور یہ تینوں ٹیمیں پاکستان سے رینکنگ میں کافی پیچھے ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود کا کہنا ہے کہ ہاکی کی بہترین ٹیموں کے شیڈول پہلے سے طے ہو چکے ہیں اور اولمپکس تک کوئی بھی ٹورنامنٹ ایسا نہیں کہ جس میں پاکستان کی ٹیم کو بھجوایا جا سکے لہذٰا اب ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ ٹیم کو اولمپکس کی تیاری کے لیے کم از کم ماسکو تو بھجوایا جائے کیونکہ خالد محمود کے بقول’میچ چاہے کمزور ٹیم سے ہی کیوں نہ ہو وہ محض تربیت سے بہتر ہوتا ہے‘۔

ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری کا جواز اپنی جگہ لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سست روی کے سبب پاکستان کی ٹیم جون میں جرمنی میں ہونے والی روبو بینک ٹرافی میں شرکت کرنے سے محروم رہی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مقررہ وقت میں ٹیم کی انٹری نہیں بھجوائی جس وجہ سے پاکستانی ٹیم کو بہتر یورپین ٹیموں سے مقابلے کا موقع نہیں مل سکا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود
’یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان ان کمزور ٹیموں سے بھی جیت جائے گا‘

دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستانی ٹیم کو بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ میں بھی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایشیا کپ میں ایشیا کی بہترین ٹیموں جنوبی کوریا، بھارت اور ملائیشیا نے شرکت کرنی ہے۔ہاکی فیڈریشن کے اس فیصلے پر بھی سابق اولمپئنز نے کافی تنقید کی ہے۔

ماسکو میں ہونے والے چار ملکی ٹورنامنٹ کے لیے جو ٹیم منتخب کی گئی ہے اس میں نئے کھلاڑی بھی شامل کیے گئے ہیں اور پاکستان کی ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے چئرمین اور سابق اولمپئن خواجہ ذکاء الدین کا کہنا ہے کہ نئے کھلاڑی شامل کرنے کا مقصد ٹیم کی تعمیرِ نو کرنا ہے۔

خواجہ دکا الدین نے امید ظاہر کہ پاکستان کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیت جائے گی اور اس جیت سے نفسیاتی طور پر ٹیم کو فائدہ ہو گااور ٹیم کا مورال بلند ہو گا۔
خواجہ ذکا الدین کے برعکس پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری خالد محمود زیادہ پر امید نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی ٹیم کسی کو جیتنے نہیں دیتی اور مکمل یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان ان کمزور ٹیموں سے بھی جیت جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد