ویسٹ انڈیز کے گاتے بجاتے کرکٹرز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں کہ ہاتھی مرا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے دیکھیں تو اس محاورے کا مصداق ماضی کے وہ بڑے نام ہوتے ہیں جو یا تو کوچنگ کر رہے ہوتے ہیں یا پھر نشریاتی اداروں کے لیے کمنٹری۔ لیکن کیا آپ نے کبھی کسی کرکٹر کا سنا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد گانے بجانے میں لگ گیا ہو۔ اینٹیگا صرف ستر ہزار کی آبادی کا چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا تجارتی مرکز یا کہیے کہ ہائی اسٹریٹ بھی مختصر سی ہی ہے۔ اس ہائی اسٹریٹ پر گزرتے ہوئے میں اس وقت چونک پڑا جب میرے کان میں تیز موسیقی کے دوران یہ الفاظ پڑے ۔۔۔ لیڈیز اینڈ جنٹلمین! ویسٹ انڈیز کیپٹن رچی رچرڈسن اینڈ کرٹلے ایمبروز۔ میرا خیال تھا کہ اپنے دور کے دونوں بڑے کھلاڑی کسی تقریب میں بطور مہمان بلائے گئے ہیں لیکن ’دی کوسٹ اوپن ائیر ریسٹورنٹ‘ پہنچا تو وہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا۔
مخالف بیٹنگ لائن تہس نہس کرنے والے کرٹلے ایمبروز کاؤ بوائے ہیٹ پہنے اور رات میں دھوپ کا چشمہ لگائے بولروں کا پسینہ چھڑا دینے والے رچی رچرڈسن دونوں ہی گٹار بجانے میں مگن دکھائی دیے۔کہاں کرکٹ کہاں موسیقی کا بینڈ۔ رچی رچرڈسن کہنے لگے موسیقی ہمیشہ سےان کی زندگی کا حصہ رہی ہے اور وہ جب کھیل رہا تھے اس وقت بھی میچوں کا دباؤ دور کرنے کے لیے موسیقی سے مدد لیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کیرئیر کے اختتام کے قریب انہوں نے ایک گٹار خریدا اور موسیقی بجانے لگے اور ان کی دیکھا دیکھی کرٹلے نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد ہی دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بینڈ میں شامل ہوجائیں گے۔ رچی رچرڈسن کے بینڈ کا نام دی بگ بیڈ ڈریڈ اینڈ دی بالڈ ہیڈ ہے اور یہ بینڈ زیادہ تر اینٹیگا اور اس کے آس پاس ہی اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے گو بیرون ملک بھی وہ کچھ دورے کرچکے ہیں۔ لیکن کرکٹ کی مصروفیات میں سے موسیقی کےلیے وقت کیسے نکلتا تھا، کرٹلے ایمبروز کہتے ہیں کہ موسیقی ویسٹ انڈین لوگوں کے رگ و پے میں داخل ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا تھا اور اچھی کارکردگی کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دباؤ سے نجات حاصل کریں تاکہ ٹیم کے لیے بھرپور کردار ادا کرسکیں اور اس مقصد کے لیے وہ موسیقی کا سہارا لیتے تھے۔
لیکن کیا موسیقی کے باوجود کرٹلے ایمبروز اور رچی رچرڈسن جیسے کرکٹروں کی زندگی سے کرکٹ کو نکالا جاسکتا ہے۔ رچرڈسن کے بقول وہ بچوں میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہیں جبکہ کرٹلے ایمبروز بھی فروغ کرکٹ کے لیے آئی سی سی کے مستقل سفیر ہیں۔ لیکن ٹیم کی عالمی کپ میں اب تک کی کارکردگی سے دونوں ہی خاصے دل شکستہ لگے۔ رچی کا کہنا تھاکہ اگرآپ دیکھ رہے ہوں کہ چیزیں ٹھیک نہیں چل رہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کریں تو ایسے نتائج پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ رچی رچرڈسن کو ویسٹ انڈیز کی مستقل مزاجی سے اچھی کارکردگی دکھانے والی آخری ٹیم کا کپتان سمجھا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں ویسٹ انڈین ٹیم خاصے عرصے سے زوال پذیر ہے اور اب کرکٹ کا انتظام چلانے والوں کو اس زوال کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے کیونکہ یہ انہی کا کام تھا کہ وہ مستقبل کی ضروریات دیکھیں اور اس کی تیاری کریں۔ رچی رچرڈسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک اگر عالمی کپ توقعات کے برعکس بے روح رہا ہے تو اس کے ذمہ دار منتظمین ہیں جنہوں نے بجائے اس کے کہ مقامی لوگوں کو بھرپور طور پر شامل کیا جاتا، چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی اوپر سے مسلط کیا جس سے ویسٹ انڈیز کے لوگ اب تک عالمی کپ کو اپنا سمجھ ہی نہیں پائے۔
موجودہ ٹیم میں موسیقی کے شوق پر کرٹلے ایمبروز کا کہنا تھا کہ کپتان برائن لارا موسیقی بہت پسند کرتے ہیں۔ لیکن اس سوال پر کہ کیا یہ بھی امکان ہے کہ کرکٹ کی مانند برائن لارا بھی ان کے بینڈ میں شامل ہوکر موسیقی میں بھی ایک زبردست ٹیم بن جائیں، ایمبروز کا کہنا تھا کہ وہ برائن لارا کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایمبروز کے بقول لارا موسیقی بجانے والے آدمی ہیں ہی نہیں۔ ہاں البتہ ہوسکتا ہے کہ وہ موسیقی پر تھوڑا بہت رقص کرکے لطف لے لیں لیکن کسی بینڈ وغیرہ میں تو شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کرٹلے ایمبروز کا اپنے اور رچی رچرڈسن کے حوالے سے کہنا تھا کہ کرکٹ کی مانند وہ موسیقی میں بھی بلند مقام کو ہی ہدف بنائے ہوئے ہیں اور اگر شائقین انہیں دنیا میں کسی بڑے کنسرٹ میں دیکھیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ |
اسی بارے میں کرکٹ کے مین آف دی میچ ڈی جے03 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز: کرکٹ کا جوڑ توڑ03 April, 2007 | کھیل سبائنا خاموش، دل اداس03 April, 2007 | کھیل جوش و خروش سے عاری ورلڈ کپ02 April, 2007 | کھیل میکگرا نے اکرم کا ریکارڈ توڑ دیا01 April, 2007 | کھیل ورلڈ کپ جاری رہے گا: آئی سی سی23 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||