BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 01:29 GMT 06:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میکگرا نے اکرم کا ریکارڈ توڑ دیا

گلین میکگرا عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے
ہفتے کو آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سپر ایٹ مرحلے کا میچ دفاعی چیمپئن نے آسانی سے جیت لیا لیکن یہ میچ کرکٹ کی تاریخ میں یوں یاد رکھا جائے گا کہ اس میں اپنے وقت کے ایک عظیم فاسٹ بولر نے ایک دوسرے عظیم فاسٹ بولر کا عالمی کپ کی وکٹوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔

آسٹریلین فاسٹ بولر گلین ڈونلڈ میکگرا نے جب بنگلہ دیش کے شہریار نفیس کو آؤٹ کیا تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی کپ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا پاکستانی فاسٹ بولر وسیم اکرم کا ریکارڈ بھی برابر کردیا جو انہوں نے پچپن وکٹیں لے کر قائم کیا تھا۔

اور صرف دو اوور کے بعد آفتاب احمد جب گلین میکگرا کو شاٹ مارنے کی کوشش میں مڈ آف پر نیتھن بریکن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو سینتیس برس کے گلین میک گرا نے وسیم اکرم کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا۔

وسیم اکرم کا ورلڈ کپ ریکارڈ
وسیم اکرم نے تقریباً ساڑھے اٹھارہ برس طویل اپنے کیرئیر میں انیس سو ستاسی کے عالمی کپ سے سن دو ہزار تین کے عالمی کپ مقابلوں تک اڑتیس میچوں میں تئیس اعشاریہ تراسی رن کی اوسط کے ساتھ پچپن وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں ایک دفعہ میچ میں پانچ وکٹیں بھی شامل تھیں۔ ان کا اکانومی ریٹ چار اعشاریہ صفر چار تھا

اس میچ میں میکگرا نے پانچ اووروں میں صرف سولہ رن دیے اور تین وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔

نئے ریکارڈ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے گلین میکگرا کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ وسیم اکرم جیسے عظیم فاسٹ بولر کا بنایا ہوا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے وسیم اکرم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرکٹ کی تاریخ کے بائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے عظیم بولر تھے جو نئی اور پرانی دونوں طرح کی گیند سے وکٹ کے دونوں جانب گیند گھما سکتے تھے۔ ان کا ریکارڈ توڑنا یقیناً ایک زبردست بات سے جو یادگار رہے گی۔

وسیم اکرم نے تقریباً ساڑھے اٹھارہ برس طویل اپنے کیرئیر میں انیس سو ستاسی کے عالمی کپ سے سن دو ہزار تین کے عالمی کپ مقابلوں تک اڑتیس میچوں میں تئیس اعشاریہ تراسی رن کی اوسط کے ساتھ پچپن وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں ایک دفعہ میچ میں پانچ وکٹیں بھی شامل تھیں۔ ان کا اکانومی ریٹ چار اعشاریہ صفر چار تھا۔

وسیم اکرم نے اپنے ایک روزہ میچوں کے مجموعی کیرئیر میں تین سو چھپن میچوں میں تئیس اعشاریہ تریپن کی اوسط سے سب سے زیادہ پانچ سو دو وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کے بعد چار سو اکتالیس وکٹوں کے ساتھ سری لنکا کے مرلی دھرن دوسرے اور پاکستان کے وقار یونس چار سو سولہ وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

گلین میکگرا نے انیس سو چھیانوے کے عالمی کپ سے لے کر موجودہ عالمی مقابلوں کے تینتیس میچوں میں انیس اعشاریہ چودہ رن کی اوسط سے اب تک کل ستاون وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا اکانومی ریٹ تین اعشاریہ اٹھاسی ہے۔ انہوں نے دو مرتبہ عالمی کپ کے میچوں میں پانچ وکٹیں یا اس زیادہ بھی حاصل کیں۔

اپنے ایک روزہ میچوں کے مجموعی کیرئیر میں میکگرا نے دوسو چوالیس میچوں میں بائیس اعشاریہ اکتیس کی اوسط سے تین سو سڑسٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ماہرین کے خیال میں سینتیں برس کے گلین میکگرا کا بطور فاسٹ بولر یہ آخری بڑا ٹورنامنٹ ہے۔ وہ خود بھی عالمی کپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے چکے ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپآگے کیا ہوگا
سپر ایٹ کے مرحلے میں کون کس سے کھیلے گا
میگرا ریکارڈآسٹریلیا کی جیت
میگرا کا ورلڈکپ میں سب سے زیادہ وکٹ کا اعزاز
آسٹریلوی شائقینوجہ کیا ہے؟
’ آسٹریلیا عالمی کرکٹ کا امریکہ ہے‘
کچھ اور کرنا ہوگافیورٹ مگر۔۔۔
آسٹریلیا کی ٹیم پر جوناتھن ایگنیو کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد