’ آسٹریلیا عالمی کرکٹ کا امریکہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کرکٹ کا عالمی چیمپئن ہے اور نہ صرف اس نے یہ بات گزشتہ دو ورلڈ کپ مقابلوں میں ثابت کی ہے بلکہ ایک طویل عرصے تک عالمی کرکٹ کونسل کی درجہ بندی میں سرفہرست رہ کر بھی۔ تاہم اس سب کے باوجود آسٹریلین کرکٹ ٹیم کو آسٹریلین شائقین کے سوا بہت زیادہ پسندیدگی سے نہیں دیکھا جاتا۔ وجہ کیا ہے؟ آسٹریلوی شائقین کو کھیلوں کا دیوانہ کہا جاتا ہے اور جب بات آتی ہے کرکٹ کی تو یہ جنون اور دیوانہ پن اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ آسٹریلیا ہی تو عالمی کرکٹ چیمپئن بھی ہے۔ شائد اسی وجہ سے جب بھی آسٹریلیا کی ٹیم کہیں کھیل رہی ہوتی ہے تو میدان کے باہر ٹیم کے حمایتی ہلا گلا اور جشن کا وہ منظر پیش کرتے ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی کچھ ان دنوں ویسٹ انڈیز میں بھی ہورہا ہے جہاں آسٹریلیا ریکارڈ تیسری دفعہ لگاتار عالمی کپ جیتنے کی دوڑ میں ہے۔ لیکن بعض شائقین کے لیے اتنا ہی کافی ہے اور اب کسی اور کو عالمی چیمپئن بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اینٹیگا کے سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں میری ملاقات ہالینڈ کے ایک کرکٹ فین ایشباشا آخے سے ہوئی جو آسٹریلیا کے مقابلے میں ویسٹ انڈیز کے حمایتی تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ آسٹریلیا عالمی معیار کی زبردست ٹیم ہے۔ لیکن اب انہیں چیمپئن رہتے ہوئے بہت عرصہ گزر گیا ہے ۔ اب ان کی جگہ کسی اور کو لینی چاہیے۔ لیکن ہالینڈ کے اس کرکٹ فین کے برعکس خود ویسٹ انڈیز میں کرکٹ کے شائقین آسٹریلیا کی ٹیم کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک مقامی ٹیلی کمیونیکیشن ادارے کے انجینئیرفل گورڈن جو میچ دیکھنے اسٹیڈیم آئے ہوئے تھے کہنے لگے کہ ویسٹ انڈیزکے بعد ان کی ترجیح آسٹریلیا ہوگی۔ لیکن آسٹریلیا کی ٹیم کو ناپسند کرنے والوں کو زیادہ شکوہ بھی آسٹریلوی شائقین سے ہی ہے۔ ایشباشا آخے کے بقول پچھلے میچوں میں آسٹریلوی شائقین کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچوں میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کا رویہ نرم اور اچھا ہوتا تھا جبکہ آسٹریلیا کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں اپنی برتری کا بہت احساس ہے اور لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے۔ ایشاشا کے بھائی اسٹیون نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی کپ کے بہت سے میچ دیکھے ہیں لیکن سب میں آسٹریلوی شائقین کا رویہ بہت برا تھا اور وہ ہر جگہ بدتمیزی سے پیش آتے ہی جو بالکل اچھی بات نہیں ہے۔
میں نے ایک آسٹریلوی فین سے پوچھا کہ اتنی اچھی کارکردگی کے باوجود اگر لوگ آسٹریلیا کو پسند نہیں کر رہے ہیں تو آخر اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ جواب ملا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم جیتنے پر بہت زیادہ فراخدلی اور بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کرپاتی۔ اور شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ آسٹریلین بچپن سے ہی کھیلوں میں اسی رویے کا مظاہرہ دیکھتے ہیں کہ کھیلنا ہے تو بس جیتنے کے لیے اور جیت کو دکھانا بھی ہے۔ لیکن شائد آسٹریلیا کے باہر کے کرکٹ فین فتح پر بھی زیادہ ذمہ دارانہ رویہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایشباشا آخے کے خیال میں آسٹریلین ٹیم کو زیادہ نرم مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں خود آسٹریلیا کی ٹیم کے کوچ جون بیوکینن کے مطابق اگر آسٹریلوی ٹیم ہارتی ہے تو اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے اور گزشتہ برس انگلستان اور پھر حالیہ مہینوں میں ایک روزہ میچوں میں شکستوں کی وجوہات دور ہونے کے بعد اب آسٹریلیا کی ٹیم دوبارہ فارم میں آچکی ہے اور یہ بات ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی یا غرور کا اظہار نہیں ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیم نے اب تک عالمی کپ اور اس کے علاوہ بھی جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ، کسی بھی دوسری ٹیم کے لیے اس کا مقابلہ یا اس غیرمعولی معیار کو حاصل کرنا بہت ہی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اتنی اچھی ٹیم کو بھی بہت اچھا کیوں نہیں سمجھا جاتا، اس کی سب سے بہتر تشریح ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کے رپورٹر ٹینو مورٹن نے یہ کہتے ہوئے کی کہ آسٹریلیا عالمی کرکٹ کا امریکہ ہے۔ لوگ اس کی قوت کا اعتراف تو کرتے ہیں لیکن اس کے طرز عمل کو پسند نہیں کرتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||