ایک ملاقات کپل دیو کے ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان کپل دیو نے ہندی سروس کے سنجیو سری واستو کے ساتھ ایک غیر رسمی انٹرویو میں اپنی زندگی کے چند دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔ شادی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کرنا تو ’ارینج میرج‘ چاہتے تھے لیکن ’لو‘ ہوگیا۔ کپل دیو نے کرکٹ کی زندگی کے بارے میں کچھ یوں اپنے خیالات کا اظہار کیا: س۔ سب سے پہلے جب آپ پہلی سیريز کھیلنے کے لیے پاکستان گئے تھے اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ انیس برس کی رہی ہوگی، کیسا لگ رہا تھا آپ کو؟ ج۔ تب اتنا ہوش نہیں تھا، زیاد کچھ معلوم نہیں تھا۔ ویسے بھی اٹھارہ انیس سال کا لڑکا کیا سوچ سکتاہے فقط ملک کے لیے کھیلنے کی لگن تھی اور اس کے علاوہ دل میں کچھ بھی نہیں تھا۔ س۔ آپ کچھ ’نروس‘ تھے، کیونکہ پاکستان تو ہندوستانی کرکٹرز کا قبرستان بن چکا تھا۔ میرا مطلب ہے کہ آپ پاکستان کے بڑے بڑے کھلاڑیوں سےگھبرا تو نہیں رہے تھے۔ ج۔ نہیں! ایسی بات نہیں تھی۔ ہمارے ہیرو پاکستانی نہیں بلکہ اپنے ہی کرکٹرز تھے۔ بہت اچھالگ رہا تھا کیونکہ میں اپنے ہی ہیروز کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ س۔ اس وقت آپ کے ہیرو کون تھے؟ ج۔ یقینًا وشناتھ کا میں بہت بڑا مداح تھا، جب ان سے ملا تو انسان بھی اچھے نکلے۔ س۔ پھر تیسرا ٹیسٹ ہوا۔ آپ بلا لے کر نکلے اور لگاتار دوگیندوں پر چھکے لگائے۔ پورا ملک آپ کا دیوانہ ہوگيا اور مداحوں کو شاید تب ہی آپ کا پورا نام کپیل دیو نیکھنج بھی پتہ چلا۔ یہ جوش کہاں سے آیا؟ ج۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا میں سمجھتا ہوں کہ یہ سینئر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا ویسے یہ بات تیس سال پرانی ہے اور میری یادداشت اتنی اچھی نہیں ہے ۔ لیکن جب بھی نیا کھلاڑی ٹیم میں آتا ہے تو سینئر کھلاڑی اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ س۔ گیند باز بننے کے بارے میں آپ نے کب سوچا؟ کیا آپ نے بچپن میں تو یہ فیصلہ نہیں کر لیا تھا؟ ج۔ نہیں ایسا نہیں ہے یہ جوش تھا کہ کرکٹ کھیلنا ہے اور ہندوستان کے لیے کھیلنا ہے۔ جب ہم سکول میں کھیلتے ہیں اور جہاں فٹ ہو جاتے ہیں وہی کھلایا جاتا ہے۔شاید میرا قد کاٹھ اچھا تھا اور مجھے تیز بالنگ کے لیے کہا گيا اور اس طرح سفر شروع ہوا۔ سکول کے ایام میں سینئر کھلاڑی کہتے تھے کہ میں ٹیلنٹڈ ہوں اور اس سے مجھے بہت حوصلہ ملا۔
س۔گھر والوں کی حمایت تھی؟ ج۔گھروالوں کی طرف سے پوری حمایت حاصل نہیں تھی اور اس کی مخالفت بھی تھی۔ ہاں وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ تھوڑا بہت پڑھ لکھ لوں تاکہ اپنا کام میں خود کرسکوں۔ س۔بعد میں جب کپل دیو نے اپنے والدین اور کروڑوں ہندوستانیوں کے خواب کو پورا کیا تو کبھی آپّ کے والدین نے کہا کہ اچھا ہوا کپل کہ تم نے زیادہ نہیں پڑھا؟ ج۔کبھی اس متعلق بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن کبھی محسوس ہوتا ہے کہ کچھ اور پڑھا ہوتا ہے تو اچھا ہوتا، لیکن پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ ملک کے لیے کھیلا تو بہت خوشی ہوتی ہے ویسے بھی انسان سب کچھ نہیں پاسکتا۔ س۔جب آپ کھیلنے کے لیے آتے تھے تو شائقین سکس سکس کہتے تھے۔ کیا آپ پر دباؤ محسوس ہوتا تھا؟ ج۔ بہت بار، اگر دیکھا جائے تو مجھے لاپرواہی بھرے شارٹ کھیلنے کی وجہ سے ٹیسٹ ٹیم سے باہر نکالا گيا تھا ٹیم کچھ چاہتی ہے اور آپ کچھ چاہتے ہیں اور آپ کے کھیلنے کا طریقہ کچھ اور ہے۔ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اس لیے آپ کو ٹیم کے لیے کھیلنا پڑتا ہے۔ ہم لوگ ٹیم کی امیدوں پر اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ س۔گواسکر کے ساتھ آپ کے کھٹے میٹھے رشتے رہے ہیں، آپ اور ان کے بیچ تال میل کیسا تھا؟ ج۔ ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں اور ہر کسی کی اپنی مختلف شخصیت ہوتی ہے ۔گواسکر کی اپنی مختلف شخصیت تھی گواسکر بڑے سمجھدار کھلاڑی تھے اور ہیں۔ لیکن میرے اور ان کے سٹائل میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ بے شک ہماری سوچ مختلف تھی لیکن مقصد ایک تھا ٹیم کو فتح دلانا۔ جس دور میں گواسکر کھیلتے تھے اس وقت ان کی سوچ تھی کہ میچ نہ ہاریں۔ لیکن جب میرا دور آیا تو ڈرا میچ کی تعداد کم ہونےلگی اور کھلاڑیوں کی سوچ بدلنے لگی اور وہ جیت کے لیے کھیلنے لگے تو میری اور گواسکر کی سوچ میں فرق تھا۔
س۔ 1983 کے ورلڈ کپ کی جیت کا جشن کیسے منایا؟ ج۔عالم یہ تھاکہ ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی شیمپین لیے کھڑا تھا سچ بتاؤں تو اتنی خوشی اور جشن کے ماحول میں کھانا بھی نہیں کھایا۔ لندن میں گیارہ بجے ریستوران بند ہوجاتے ہیں، ہم لوگ دو بجے رات کو کھانے کے لیے باہر گھومتے رہے اور بریڈ کھا کررات گزاری۔ س۔ جب ہندوستان واپس آئے تو کیسا استقبال ہوا؟ ج۔بہت بہترین اور شاندار استقبال تھا اور امیدوں سے کہیں بڑھ کر۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ بس یہ کہنا چاہوں گا کہ بہترین سماں تھا۔ س۔ اس کے بعد کارکردگی خراب ہوتی گئی تو آپ کوکیا لگا؟ ج۔دیکھا جائے تو ہم اچھے کھلاڑی ہیں لیکن ٹیم کے طور پر ہمیں پریشانی ہوتی ہے۔ جیسی ہماری کارکردگی ہوگی ویسی ہی عزت ملے گی یہ دنیا کا دستور ہے۔ س۔چارسو وکٹ اور چارہزار رن۔ آپ کے دور میں تین آل راؤنڈر اور بھی تھے۔ آپ کی نظر میں کون بہترین تھا؟ ج۔ بطور گیند باز میں رچرڈ ہیڈلی کی بہت عزت کرتا ہوں۔ عمران خان نے شاندارگیند بازی کے ساتھ ساتھ ٹیم کی قیادت کی تھی۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن عمران نے اس کام کو بخوبی انجام دیا۔ آل راؤنڈر کی بات کریں تو بوتھم سب سے بہترین تھے۔ س۔ورلڈ کپ 2007 کی بات کریں تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ بھارتی ٹیم 1983 کی تاریخ کو دوہرا سکتی ہے؟ ج۔ ہاں! بہت فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہو ں کہ ٹیم میں تاریخ کو دوہرانے کی طاقت ہے۔ کئی کھلاڑي میچ جتوا سکتے ہیں ۔ وریندر سہواگ ، سچن تندولکر، دھونی ، یووراج اور کمبلے میچ جتوا سکتے ہیں۔
س۔ 1983 میں ورلڈ کپ جیتنے کے علاوہ کوئی یادگار لمحہ؟ ج۔ پندرہ سال کے کرکٹ کیریئر میں یہ بتانا مشکل ہوگا کہ دوسرا سب سے یادگار لمحہ کون سا ہے۔ تمام یادیں جڑی ہیں میرے ریکارڈ اور بہترین کھیل سے۔ س۔آپ کو فلمیں دیکھنا پسند ہے؟ ج۔ ا س ملک میں کون سا شخص ہوگا جسے فلم دیکھنا پسند نہیں ہوگا۔ میں سکول سے نکل کر فلمیں دیکھنے جاتا تھا اور اس کے لیے گھر پر پٹائی بھی ہوتی تھی۔ س۔آپ کا پسندیدہ سٹار؟ ج۔ دھرمندر اچھے لگتے تھے اس کے علاوہ راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن بھی من پسند تھے۔ س۔اور لڑکیاں بھی آپ پر بہت فدا ہوتی رہی ہوں گی؟ ج۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تو لڑکیوں کو دیکھ کر سیٹیاں بجایا کرتا تھا لیکن میرا چہرا مہرا ہی کچھ ایسا تھا کہ کبھی لڑکیاں پٹی ہی نہیں۔ س۔ آپ کی’لو‘ میرج ہوئي تھی یا ’ارینج‘ میرج ؟ ج۔ کرنا تو ارینج چاہتا تھا لیکن ’لو‘ ہوگیا۔ میں چاہتا تھا کہ گھر والے اپنی پسند کی لڑکی کا انتخاب کریں اور میں اس سے شادی کروں لیکن رومی سے اچانک ملاقات ہوگئی اور پھر اس نے اپنے گھر والوں سے ملوایا اور شادی ہوگئی۔ س۔ حال میں کون سی فلم دیکھی ہے ؟ ج۔ میں فلمیں ٹیلی ویژن پر ہی دیکھتا ہوں۔ تھیٹر جانےکا موقع کم ہی مل پاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ’رنگ دے بسنتی‘ دیکھ رہا تھا چونکہ میں کافی جذباتی ہوں اس لیے آدھی فلم ہی دیکھ پاتا ہوں۔ | اسی بارے میں گنگولی کو کپتان رہنا چاہیے: کپل دیو30 March, 2005 | کھیل کپیل دیو کا ریکارڈ برابر02 December, 2004 | کھیل جب بھارتی اسپن کے چھکے چھوٹ گئے03 March, 2004 | کھیل اظہرالدین: ایک نئے تنازعہ کا آغاز 19 July, 2004 | کھیل ’انضمام اور کمبلے کا کلیدی کردار‘07 March, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||