اظہرالدین: ایک نئے تنازعہ کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کے ایشیا کپ میں بھارتی ٹی وی چینل ”آج تک” کے لئے ایک مبصر کے طور پر کام کر نے سے ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے آئی سی سی کے صدر احسان مانی اور چیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ اظہرالدین کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کئے جانے اور تبصرے کرنے پر خوش نہیں ہیں۔ احسان مانی نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں محمد اظہرالدین کے مبصر کے طور پر کرکٹ میچوں میں شرکت پر تنقید کی۔ یاد رہے کہ محمد اظہرالدین پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی بناء پر تاحیات پابندی عائد ہے۔ تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر جگموہن ڈالمیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ بھارتی بورڈ نے اظہرالدین کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کیا ہے۔ ان کے مطابق کسی نے بھی اظہرالدین کے ایکریڈیشن کارڈ کے لئے بھارتی بورڈ سے رجوع نہیں کیا۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ محمد اظہرالدین کا ایکریڈیشن کارڈ اس لئے بنایا گیا ہے کہ ان پر آئی سی سی نے پابندی عائد نہیں کی تھی اور سری لنکن کرکٹ بورڈ اسے اپنے لئے کوئی مسئلہ نہیں سمجھتا۔ سابق کرکٹر کپل دیو کے ایک تازہ ترین بیان نے اس تنازعہ کو نیا رخ دے دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں کپل دیو نے کہا ہے کہ اظہر الدین کا معاملہ بلا وجہ رگیدا جا رہا ہے اور عالمی کرکٹ کونسل اور بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو مل کر اس معاملہ کا کوئی حل نکال لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ آئی سی سی اور ان (کپل دیو) کی طرح اظہر الدین کو بھی اپنی روزی کمانے کا حق حاصل ہے۔ ان کے خیال میں کسی پر بھی کھیل سے پابندی عائد نہیں کی جانی چاہیے۔ کپل دیو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی نے اپنا نقطہ نظر پہلے ہی دے دیا ہے اور انہیں اس معاملے میں مزید اور کچھ نہیں کہنا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ آئی سی سی کے ساتھ مل کر کے پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||