جب بھارتی اسپن کے چھکے چھوٹ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے بہت دور چلے گئے جس کا اثر زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں پر بھی پڑا۔ اگرچہ ہاکی کے میدان میں دونوں ملک اولمپکس اور ایشیائی گیمز میں ایک دوسرے کے سامنے آتے رہے لیکن کرکٹ کے میدان ان دو روایتی حریفوں کو مدمقابل دیکھنے کے لئے ترستے رہے۔ یہ طویل دوری اسوقت ختم ہوئی جب 18 سال کے صبرآزما انتظار کے بعد بشن سنگھ بیدی کی قیادت میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بھارتی ٹیم میں اس دور کے مایہ ناز اسپنرز بیدی ، پرسنا ، چندرشیکھر اور وینکٹ راگھون موجود تھے۔ جبکہ بیٹنگ میں اسے سنیل گاوسکر کے علاوہ امرناتھ برادران ، وشواناتھ، وینگسارکر اور چیتن چوہان کی خدمات حاصل تھیں۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم جس کے کپتان نارتھمپٹن شائر کاؤنٹی میں بیدی کے دیرینہ دوست مشتاق محمد تھے، ظہیرعباس ، ماجد خان ، آصف اقبال اور صادق محمد کے علاوہ نوجوان جاوید میانداد جیسے بیٹسمینوں کی موجودگی میں بہت مضبوط دکھائی دیتی تھی۔ بولنگ میں پاکستان کے پاس عمران خان اور سرفراز نواز کی شکل میں عالمی معیار کے تیز بولرز تھے۔ اسی سیریز میں دنیائے کرکٹ ایک نئے نام کپل دیو سے آشنا ہوئی جو بعد میں ورلڈ کلاس آل راؤنڈر کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن اس سیریز کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں بھارتی اسپن کا طلسم ٹوٹ گیا۔
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ایک نئے گراؤنڈ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلا گیا جو ڈرا ہوا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں پر 503 رنز اسکور کئے جس میں ظہیرعباس نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 176 رنز بنائے۔ جاوید میانداد جو اپنے روشن مستقبل کی نوید نیوزی لینڈ کے خلاف اولین ٹیسٹ سیریز میں سناچکے تھے 154 رنز ناٹ آؤٹ کی دھواں دار اننگز سے اپنے باصلاحیت ہونے کی ایک اور سند دے گئے۔ بھارت نے بھی وکٹ کو بیٹنگ کے لئے سازگار دیکھ کر رنز کے انبار لگادیئے۔ وشواناتھ نے ایک عمدہ اننگز کھیلی اور 145 رنز بنائے۔بھارت نے 9 وکٹوں پر462 رنز بنائے جس میں سنیل گاوسکر کے 89 اور وینگسارکر کے 83 رنز تھے۔ بھارت کی طرف سے چندر شیکھر چار وکٹوں کے ساتھ کامیاب بولر رہے تھے جبکہ پاکستان کی طرف سے مشتاق محمد چار وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں بولر رہے۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں آصف اقبال کی سنچری کی بدولت 4 وکٹوں پر 264 رنز اسکور کئے اور ظہیرعباس صرف 4 رنز کی کمی سے دونوں اننگز میں سنچریوں کے اعزاز سے محروم رہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے 8 وکٹوں سے میدان مار لیا۔ لگاتار 13 ٹیسٹ میچز کے ڈرا پر ختم ہونے کے بعد یہ پہلا نتیجہ خیز ٹیسٹ میچ تھا جس کے بعد پاکستان بھر میں جشن منایا گیا۔ عمران خان اور سرفراز نواز کے درمیان چار چار وکٹوں کی مساوی تقسیم نے بھارت کی پہلی اننگز کو محض 199 رنز پر محدود کردیا جس میں وینگسارکر 76 رنزکے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔ پاکستان کی اننگز میں ظہیرعباس نے رنز کا ڈیر لگا دیے۔ انہوں نے 235 رنز ناٹ آؤٹ کی وہ اننگز کھیلی جو طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ وسیم باری نے نائٹ واچ مین کی حیثیت سے 85 رنز بناکر بھارتی بولنگ کی مایوسی کو انتہا پر پہنچا دیا۔ کپتان مشتاق محمد نے 67 رنز بنائے۔ 340 رنز کے ملبے تلے دب کر دوسری اننگز میں بھارتی بیٹسمینوں نے زبردست مزاحمت کی اور 465 رنز بنا ڈالے۔ اوپنرز گاوسکر اور چیتن چوہان نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے لیکن ان دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 192 رنز بناکر آنے والے بیٹسمینوں کے حوصلے بلند کردیئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وشواناتھ 83 ، سریندر امرناتھ 60 کپل دیو 43 اور سید کرمانی نے 39 رنز بنائے۔ پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے 125 رنز کا ہدف ملا بھارتی کپتان بیدی کی منفی حکمت عملی کے باوجود پاکستانی بیٹسمینوں نے اس تک رسائی حاصل کرلی۔ جب ظہیرعباس نے وشواناتھ کو چھکا لگا کر پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا تو 8 اوورز کا کھیل باقی رہتا تھا۔ لاہور ٹیسٹ کے سنسنی خیز اختتام کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایک اور ڈرامائی نتیجہ شائقین کا منتظر ہے۔ تیسرے ٹیسٹ میں بھی یہ سنسنی خیزی جاری رہی۔ پاکستان نے جاوید میانداد کے وننگ شاٹ پر دو صفر سے سیریز اپنے نام کی تو صرف 7 گیندوں کا کھیل باقی رہ گیا تھا۔ بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے عمران خان اور سرفراز نواز کی خطرناک گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ماسٹر بیٹسمین سنیل گاوسکر کی سنچری کی بدولت 344 رنز بنائے اور کپل دیو نے نصف سنچری اسکور کی۔
پاکستان کی پہلی اننگز کا اسکور 9 وکٹوں پر 481 تک پہنچانے کا سہرا جاوید میانداد کے سر رہا جنہوں نے شاندار سنچری بنائی۔ مشتاق محمد نے 78 رنز کی کپتان اننگز کھیلی۔ دوسری اننگز میں بھارت نے چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر صرف 2 وکٹوں پر 131 رنز اسکور کئے تھے اور بظاہر میچ ڈرا کی جانب بڑھ رہا تھا لیکن آخری دن کرکٹ کی روایتی سحرانگیزی نے اپنا اثر دکھایا۔ سرفراز نواز کی پانچ اور عمران خان کی تین وکٹوں کے بھرپور وار نے بھارت کو 300 رنز پر روک دیا۔ سنیل گاوسکر میچ میں دوسری سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کو جیتنے کے لئے صرف 22 اوورز میں 163 رنز بنانے تھے جو ناممکن نہ سہی لیکن بہت مشکل ہدف تھا۔ اس مرحلے پر کپتان مشتاق محمد نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ماجد خان کے ساتھ مدثر نذر کے بجائے آصف اقبال کو اوپنر بھیجا۔ جس کے بعد ون ڈاؤن کے طور پر انہوں نے ظہیرعباس پر جاوید میانداد کو ترجیح دی۔ بیٹنگ آرڈر میں یہ رد و بدل تیز اسکورنگ کے لئے کیا گیا۔ مشتاق محمد کی یہ تدبیریں کار گار ثابت ہوئیں لیکن اختتامی مرحلے پر پاکستان کو ایک ایسے بیٹسمین کی ضرورت پڑگئی جو بھرپور قوت کے ساتھ گیند کو باؤنڈری کے باہر پہنچا سکے۔ چنانچہ آصف اقبال کے آؤٹ ہونے پر عمران خان میدان میں اتارے گئے۔ ان کے بیدی کو لگائے گئے بلند و بالا چھکے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کرگئے۔ دوسرے اینڈ پر ایک رن کو دو اور دو کو تین میں تبدیل کرنے کے لئے مشہور جاوید میانداد نے 63 رنز کی ناقابل شکست اننگز سے بھارت کی شکست پر مہر ثبت کردی۔ یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی پہلی سیریز جیت تھی۔ اس سیریز کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس نے پاکستان میں کرکٹ کو ایک نئی زندگی دی۔ پاکستان میں سپر اسٹارز کی اصطلاح اسی سیریز کے بعد سننے میں آئی۔ پرنٹ میڈیا پہلے بھی کرکٹ کو اہمیت دیتا تھا لیکن اس سیریز سے کرکٹ کوریج ایک نئے انداز سے سامنے آئی۔ اسی سیریز کے بعد نئے کرکٹ میگزین سامنے آئے اور نوجوان نسل میں کرکٹ کو غیرمعمولی پذیرائی ملتی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||