BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2004, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ٹیم کا پہلا دورہ پاکستان

کاردار
کاردار نے پاکستان کی دوسری اننگز 5 وکٹوں پر 136 رنز کے اسکور پر ڈیکلیئر کی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کے اولین دورے کے بعد انگلینڈ میں بھی غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ رکنیت دیئے جانے کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔

اوول کے میدان پر تاریخی جیت نے دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا تھا۔ ملک بھر میں اب کرکٹ کا تذکرہ فضل محمود، حنیف محمد اور امتیاز احمد کے حوالے سے ہونے لگا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 55-1954 کے سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے نام سے فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ متعارف کرایا۔

اسی سیزن میں پاکستان نے بھارتی ٹیم کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی میزبانی بھی کی جس نے ونو منکڈ کی قیادت میں پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ پاکستان میں کھیلی جانے والی پہلی ٹیسٹ سیریز بھی تھی۔

اس موقع پر شائقین کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ تاہم سیریز کے پانچوں ٹیسٹ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے جس کی وجہ لٹل ماسٹر حنیف محمد نے اپنی سوانح حیات میں یہ بیان کی ہے کہ دونوں ٹیموں نے شکست کی صورت میں اپنے پرستاروں کے شدید ردعمل سے بچنے کے لئے منفی حکمت عملی اختیار کی اور ایمپائرنگ کے معیار پر بھی تنقید کی گئی۔

پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ڈھاکہ میں کھیلا گیا۔ دونوں طرف سے سست بیٹنگ کے بعد اس کا اختتام ڈرا پر ہی ہو سکتا تھا۔ پاکستان نے 257 رنز بنا ئے تھے جن میں امتیاز احمد اور وقار حسن کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔ محمود حسین نے 6 اور خان محمد نے 4 وکٹیں حاصل کر کے بھارت کو صرف 148 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم بھی صرف 158 رنز پر ڈھیر ہوگئی جس کا سبب سبھاش گپتے کی چونکا دینے والی بولنگ تھی۔ انہوں نے 6 اوور میں صرف 18 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی ٹیم محض 42 رنز کے اضافے پر 9 وکٹوں سے محروم ہوگئی۔

ناری اور فضل
بہاولپور میں کھیلا جانے والا پہلا اور آخری ٹیسٹ

اس میچ میں گپتے کی تیز لیگ اسپن گیندیں حنیف محمد کے لئے مستقل مشکلات پیدا کرتی رہیں لیکن انہوں نے اس کمزوری پر قابو پاتے ہوئے بہاولپور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کر کے حساب بے باق کر دیا۔

یہ بہاولپور میں کھیلا جانے والا پہلا اور آخری ٹیسٹ تھا۔ ڈرنگ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 235 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

خان محمد نے 5 اور فضل محمود نے 4 وکٹیں حاصل کر کے اپنی عمدہ بولنگ کا جادو بھرپور انداز میں جگایا۔ جواب میں اپنی 19 ویں ٹیسٹ اننگز میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حنیف محمد نے پونے آٹھ گھنٹے کی بیٹنگ میں سنچری مکمل کی۔

انہوں نے اس اننگز میں 142 بنائے۔ کپتان کاردار نے اننگز ڈکلیئر کی تو پاکستان کا اسکور 9 وکٹوں کے نقصان پر 312 رنز تھا۔ پولی امریگر نےاپنے کیریئر کی بہترین بالنگ کرتے ہوئے 74 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری اننگز میں نسبتاً بہتر کھیلتے ہوئے بھارتی ٹیم نے پنکج رائے اور وجے منجریکر کی میچ میں دوسری نصف سنچری کی بدولت 5 وکٹوں پر 209 رنز بنائے تھے۔

سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں جو لارنس گارڈن ( باغ جناح ) میں کھیلا گیا، پاکستان نے حیران کن طور پر آف اسپنر میراں بخش کو 47 سال اور 284 دن کی عمر میں ٹیسٹ کیپ دی وہ اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کرنے والے دنیا کے دوسرے عمر رسیدہ کرکٹر ہیں۔

پاکستان کی پہلی اننگز کے اسکور 328 رنز کے ساتھ مقصود احمد نمایاں رہے جو صرف ایک رن کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے اور گپتے کی گیند پر تمہانے کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔ ان کے 99 رنز پر آؤٹ ہونے کا اثر لیتے ہوئے نواب شاہ کا ایک شخص کمنٹری سنتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

پاکستان کی پہلی اننگز میں سبھاش گپتے نے میراتھن بولنگ کی اور 73.5 اوور پھینکے جن میں 32 میڈن تھے اور انہوں نے صرف 33 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری اننگز میں بھی سبھاش گپتے نے 3ء36 اوور میں صرف 34 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بھارت نے پہلی اننگز میں 251 رنز اسکور کئے تھے جن میں پولی امریگر کے 78 رنز نمایاں تھے۔

کاردار نے پاکستان کی دوسری اننگز 5 وکٹوں پر 136 رنز کے اسکور پر ڈیکلیئر کی۔ باقی بچ جانے والے وقت میں بھارتی ٹیم 2 وکٹ کے نقصان پر 74 رنز بنا سکی تھی۔

پشاور کے جمخانہ گراؤنڈ پر کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں بھی سست اسکورنگ نے شائقین کو بوریت سے دوچار کردیا۔ گپتے کی 5 وکٹوں کی متاثر کن کارکردگی نے پاکستان کو پہلی اننگز میں 188 رنز تک محدود کر دیا۔

بھارت نے پولی امریگر کی سنچری سے تقویت پاتے ہوئے 57 رنز کی برتری حاصل کرلی۔ دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹسمین ونو منکڈ کے سامنے بے بس رہے اور پوری ٹیم صرف 182 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ امتیاز احمد 69 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔

ونومنکڈ نے طویل بولنگ کرتے ہو ئے 54 اوور میں محض 64 رنز دے کر 5 کھلاڑی آؤٹ کئے۔ پہلی اننگز میں انہوں نے 61 اوور کرائے تھے جن میں انہوں نے ایک وکٹ کے لئے صرف 71 رنز دیئے تھے۔

چار ٹیسٹ میچوں کے ڈرا ہونے کے بعد کراچی میں نوتعمیر شدہ نیشنل اسٹیڈیم میں پہلی بار کھیلے گئے کسی بین الاقوامی میچ کے فیصلہ کن ہونے کی امید دونوں ٹیموں کی محتاط روی کے ساتھ ساتھ بارش نے ختم کر دی۔

پاکستان ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 162 رنز بنا سکی۔ رام چند نے 49 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ فضل محمود اور خان محمد کے درمیان وکٹوں کی مساوی تقسیم کے ذریعے پاکستان نے بھارت کو 145 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

پاکستان کی دوسری اننگز میں علیم الدین نے سنچری بنائی۔ عبدالحفیظ کاردار نے ٹیسٹ کریئر کی بہترین انفرادی اننگز کھیلتے ہوئے 93 رنز اسکور کئے۔ اس سیریز میں خان محمد 22 وکٹوں کے ساتھ نمایاں بولر رہے۔ بھارت کی جانب سے سبھاش گپتے نے 21 وکٹیں حاصل کیں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ سیریز کے پانچوں ٹیسٹ میچ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے تھے۔ فضل محمود اور حنیف محمد دونوں کا اپنی سوانح حیات میں کہنا ہے کہ بھارتی کپتان ونومنکڈ اپنے وقت کے عظیم آل راؤنڈر کی شہرت کے ساتھ پاکستان آئے تھے لیکن پاکستان کے دورے میں وہ ایک خوبصورت خاتون کے عشق میں مبتلا ہوگئے جس کے نتیجے میں کھیل سے ان کی توجہ ہٹ گئی اور منیجر لالہ امرناتھ سے ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے، جن کے بارے میں یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ وہ پشاور ٹیسٹ میں کھیلیں گے۔ وہ سائیڈ میچ میں ضرور کھیلے لیکن ٹیسٹ میں ایکشن میں نظر نہ آئے۔

فضل محمود کے مطابق سیریز کے دوران چند ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ لاہور ٹیسٹ کے دوران پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نے یہ تجویز پیش کی کہ پشاور ٹیسٹ ٹرف وکٹ کے بجائے میٹنگ وکٹ پر کھیلا جائے گا جسے بھارتی منیجر لالہ امرناتھ نے مسترد کر دیا اور یہ ٹیسٹ ٹرف پر ہی کھیلا گیا۔

بھارت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کراچی ٹیسٹ چار کے بجائے پانچ روزہ کرنے کی تجویز بھی رد کر دی۔ سیریز کے دوران امپائرنگ کے معیار پر بھارتی منیجر نے کڑی تنقید کی لیکن ثبوت کے طور پر وہ ایک بھی ٹھوس مثال پیش کرنے سے قاصر رہے۔

تاہم لالہ امرناتھ کے تنقیدی بیان کے بعد امپائر ادریس بیگ نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ سے درخواست کی کہ انہیں کراچی ٹیسٹ کے امپائرنگ پینل سے ڈراپ کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور کراچی ٹیسٹ میں امپائرنگ کے فرائض مسعود صلاح الدین اور داؤد خان نے انجام دیئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد