شکست کا خوف جیت کے آڑے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت تیسری ٹیسٹ سیریز میں مدمقابل آئے تو شکست کا خوف دونوں کپتانوں فضل محمود اور ناری کنٹریکٹر کے ذہنوں میں موجود تھا۔ اسی لئے انہوں نے سیریز کے پانچوں ٹیسٹ میچوں میں دفاعی حکمت عملی اپنائے رکھی۔
ظاہر ہے ایسی صورت میں کسی نتیجے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ دورے سے قبل عبدالحفیظ کاردار ریٹائرمنٹ ختم کرکے واپس میدان میں اترے لیکن وہ ٹیم میں جگہ نہیں بناسکے اور قیادت کی ذمہ داری فضل محمود کے سپرد کردی گئی۔ لیکن وہ ٹیم کے انتخاب کے معاملات سے الگ تھلگ رکھے جانے پر سلیکٹرز میاں محمد سعید اور ڈاکٹر جہانگیرخان سے خوش نہیں تھے۔ ڈاکٹر جہانگیرخان بھارت جانے والی ٹیم کے منیجر بھی مقرر کئے گئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلی گئی یہ سیریز امپائرنگ کے پست معیار کی بھی نذر ہوئی۔ فضل محمود نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چار دہائیوں کے باوجود امپائرنگ کے مضحکہ خیز فیصلے وہ نہیں بھول سکتے جن کی تعداد بھارت کے خلاف دیئے گئے چار فیصلوں کے مقابلے میں اٹھائیس تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بھارتی امپائروں نے جانبداری کی بدترین مثالیں قائم کرتے ہوئے بھارتی بیٹسمینوں کے بولڈ اور کاٹ بی ہائنڈ ہونے پر نوبال دے دیں۔ فضل محمود نے پاکستان ٹیم میں شامل ایک اسٹار کرکٹر کا نام نہ لیتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اس کرکٹر کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ کے لئے ٹیم کے اعلان میں ایک گھنٹے کی تاخیر ہوئی کیونکہ اس نے اچانک میچ فیس کا مطالبہ کردیا تھا۔ اُس نے بھارتی کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ فضل محمود نے اپنی کتاب میں بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر اے کے بروہی کی اس دلچسپ تقریر کا تذکرہ کیا ہے جو انہوں نے کرکٹ کلب آف انڈیا کے عشائیے میں کی جس میں انہوں نے سیریز میں امپائرنگ کے خراب معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ معزز میزبان بار بار بینیفٹ آف ڈاؤٹ کی اصطلاح استعمال کررہے ہیں جو ہمیشہ بیٹسمین کے حق میں جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصطلاح عدالت میں بارہا استعمال ہوتی رہتی ہے تو کیا وہ یہ سوچیں کہ بھارتی بیٹسمینوں نے کوئی جرم سرزد کیا ہے کہ اس اصطلاح کا فائدہ انہیں کو جا رہا ہے جس پر تقریب میں زبردست قہقہہ بلند ہوا۔ ممبئی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ لِٹل ماسٹر حنیف محمد اور سعید احمد کی شاندار سنچریوں کی وجہ سے یاد رہے گا جنہوں نے پاکستان کا اسکور 350 تک پہنچا دیا۔ حنیف محمد نےایک سو ساٹھ رنز کی شاندار اننگز کے دوران ٹیسٹ میچوں میں دو ہزار رنز بھی مکمل کئے۔ بھارت نے اس کا جواب چار سو انچاس رنز بناکردیا جس میں نمایاں حصہ نویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے فاسٹ بولر راماکانت ڈیسائی کا رہا جنہوں نے پچاسی رنز بنائے۔ وکٹ کیپر جوشی کے ساتھ ان کی نویں وکٹ کی شراکت ایک سو انچاس رنز کی رہی۔ مستند بیٹسمینوں میں وجے منجریکر تہتر اور کپتان ناری کنٹریکٹر باسٹھ رنز کے ساتھ قابل ذکر رہے۔ محمود حسین نے پانچ اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے محمد فاروق نے چار وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں چار وکٹوں پر ایک سو چھیاسٹھ رنز بنائے تھے جس میں امتیاز احمد کی نصف سنچری شامل تھی۔ پاکستان نے کانپور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں جاوید برکی اور نسیم الغنی کی شاندار بلّے بازی کی بدولت تین سو پچپن رنز بنائے۔ اِس کا جواب بھارت نے پولی امریگر کی سنچری کے ساتھ چار سو چار رنز بناکر دیا۔ ایم ایل جے سیما پانچ سو منٹ کی صبرآزما بیٹنگ کے بعد سنچری سے صرف ایک رن کی کمی سے دور رہ گئے۔ دوسری اننگز میں پاکستان کا اسکور تین وکٹوں پر ایک سو چالیس رنز تھا جب میچ ختم ہوا۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں بارش نے پاکستان کو ممکنہ جیت سے محروم کیا۔ پاکستان نے جیتنے کے لئے میزبانوں کو دو سو اڑسٹھ رنز کا ہدف دیا تھا جس نے ایک سو ستائیس رنز پر چار وکٹیں کھودی تھیں کہ امپائرز نے چائے کے وقفے کے بعد کھیل شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس پر کپتان فضل محمود سخت ناراض تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ فیلڈ خشک ہوچکی تھی اور میچ شروع کیا جاسکتا تھا۔ اس میچ میں پاکستان نے مشتاق محمد، انتخاب عالم اور حنیف محمد کی نصف سنچریوں سے تقویت پاتے ہوئے تین سو ایک رنز اسکور کئے تھے۔ بعد میں فضل محمود کی تباہ کن بولنگ کے نتیجے میں بھارتی ٹیم صرف ایک سو اسّی رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ فضل محمود نے صرف پچیس اوورز اور تین گیندوں پر چھبیس رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پاکستان کی دوسری اننگز ایک سو چھیالیس رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلئر کی۔ حنیف محمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے میچ میں دوسری نصف سنچری اسکور کی۔ مدراس ( چنئی ) کے کارپوریشن اسٹیڈیم میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں رنز کا سیلاب دیکھنے میں آیا جس نے کسی نتیجےکے امکان کو سرے سے ہی ختم کردیا۔ پاکستان نے چار سو اڑتالیس رنز بنائے۔ حنیف محمد نے نصف سنچری سے ایک بار پھر اپنی بھرپور فارم کا ثبوت فراہم کیا اور امتیاز احمد اور سعید احمد نے سنچریاں اسکور کیں۔ بھارتی اننگز میں بھی دوسنچریاں بنیں ، چندو بورڈے ایک سو ستتر رنز پر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ پولی امریگر نے ایک سو سترہ رنز اسکور کئے جس کا نتیجہ پانچ سو انتالیس رنز کی صورت میں سامنے آیا۔ آف اسپنرحسیب احسن نے چھ وکٹیں حاصل کیں ، بچ جانے والے وقت میں پاکستان نے بغیر کسی نقصان پرانسٹھ رنز بنائے تھے۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم شکست سے بچ گئی۔ بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار سو تریسٹھ رنز بنائے۔ پولی امریگر نے سیریز میں تیسری سنچری اسکور کرڈالی، کپتان کنٹریکٹر آٹھ رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔ پاکستان کی ٹیم دو سو چھیاسی رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ مشتاق محمد نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ایک سو ایک رنز بنائے۔ وہ سترہ سال اٹھتر دن کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری اسکور کرنے والے دنیا کے کم عمر بیٹسمین بن گئے۔ جاوید برکی نے نصف سنچری بنائی ، فالوآن کے بعد پاکستان ٹیم اسوقت مشکل سے دوچار ہوگئی جب ایک سو بیالیس رنز پر اس کے پانچ بیٹسمین آؤٹ ہوگئے تھے اور شکست سامنے نظر آرہی تھی۔ امپائرنگ کے خراب معیار نے فضل محمود کی مشکل بڑھادی تھی۔ اس مرحلے پر محمود حسین اور محمد فاروق ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اتنا وقت گزارگئے کہ بھارت کے لئے تین اوورز میں چوہتر رنز بنانا ناممکن ہوگیا۔ اس سیریز میں پولی امریگر اور راما کانت ڈیسائی کی کارکردگی بھارت کی طرف سے نمایاں رہی پاکستان کی جانب سے حسب معمول حنیف محمد ڈھال بن کر سامنے آئے۔ سعید احمد نے قابل اعتماد بیٹسمین ہونے کا بھرپور مظاہرہ کیا جبکہ مشتاق محمد اس دورے کی دریافت قرار پائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||