کرکٹ کے مین آف دی میچ ڈی جے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے جیسے کرکٹ میں کمرشل ازم بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اس میں فٹبال اور دوسرے کھیلوں کی مانند دوران میچ نت نئے تفریحی انداز بھی آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب کے ذہن میں بھارتی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے والے الّے راجہ اور پاکستان کے چاچا کرکٹ کے نام آتے ہوں گے۔ لیکن ویسٹ انڈیز میں یہ منفرد مقام نائجل بیپٹسٹ کو حاصل ہے۔ پاکستان، بھارت یا دنیا میں کہیں بھی کرکٹ کا میچ ہورہا ہو تو شائقین کے پاس سیٹیاں ہوتی ہیں یا باجے گاجے جن سے اسٹیڈیم گونجتا رہتا ہے۔ لیکن اگر میچ ویسٹ انڈیز میں ہورہا ہو تو بات اس سے بہت آگے کی ہوتی ہے اور خود منتظمین کی طرف سے بڑے بڑے اسپیکروں اور ساؤنڈ سسٹم پر موسیقی اور اس پر جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور اس میدان میں نمایاں ترین نام ہے چکی ہائی فائی کا ہے جو سن اسی سے اب تک ویسٹ انڈیز کے تمام ہی جزائر پر نہ جانے کتنے میچوں میں موسیقی کا ہنگامہ بکھیر چکے ہیں کہ تعداد بھی انہیں یاد نہیں۔ پیشے کے اعتبار سے چکی ہائی فائی تقریبات اور کلبوں میں موسیقی چلانے والے مشہور ڈسک جوکی یا ڈی جے ہیں اور اصل نام ان کا نائجل بیپٹسٹ ہے جس کو وہ بڑے انداز سے فرانسیسی میں نیژیل بیتیس بتاتے ہیں۔
نائجل کے مطابق میچوں میں موسیقی کا خیال انہیں ویوین رچرڈز کی بیٹنگ سے آیا۔ بقول چکی ہائی فائی، جب رچرڈز بیٹنگ کررہے ہوتے تھے اور جس طرح بولروں کی درگت بناتے تھے اسے دیکھ کر انہیں خیال آیا کہ ایسے ماحول میں تو بس موسیقی کی کمی ہے۔ بس وہیں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ چکی ہائی فائی کا پسندیدہ میدان اینٹیگا کا سٹیڈیم ہی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تاریخ اس کا سبب ہے۔ اینٹیگا میں برائن لارا نے ٹیسٹ کرکٹ میں چارسو اور ٹرپل سنچری بنائی اور یہیں ویوین رچرڈز نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری سکور کی اور ان تمام مواقع پر وہ بھی جشن میں شامل تھے۔ جب بات بیٹنگ کی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سوال نہ ہو کہ جدید کرکٹ کا سب سے بڑا بیٹسمین کون ہے؟ میں نے بھی یہ سوال نائجل بیپٹسٹ کے سامنا رکھا تو وہ جواب گول کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے اصرار کیا کہ جواب تو دینا ہی ہوگا۔ ہنستے ہوئے چکی ہائی فائی نے کہا کہ ہاں جواب تو دینا ہی ہوگا۔ان کے مطابق ان کے دور کے کرکٹروں میں رچرڈز کے علاوہ برائن لارا کا شمار عظیم ترین بیٹسمینوں میں ہوتاہے اور ہاں عظیم بیٹسمینوں میں تندولکر بھی شامل ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں برائن لارا لاجواب ہے۔
چکی ہائی فائی کا ایک منفرد اعزاز بھی ہے۔ وہ شاید واحد آدمی ہیں جنہیں کرکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ٹیسٹ کے مین آف دی میچ کا اعزاز ملا۔ لیکن کیسے؟ اس ماجرے کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سن انیس سو ستانوے میں ویسٹ انڈیز بھارت کے خلاف ہوم سیریز کھیل رہا تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میں لگاتار تین روز بارش ہوتی رہی اور اس دوران جو لوگ پیسے خرچ کرکے میچ دیکھنے آئے تھے، ان کو صرف چکی ہائی فائی اپنی موسیقی سے محظوظ کرتے رہے۔ باقی دوروز کھیل ہوا جس میں برائن لارا نے سنچری بھی اسکور کی لیکن اس بے نتیجہ میچ کے بعد منتظمین نے انہیں مین آف میچ قرار دے دیا۔ چلیے تین روز تک بارش میں شائقین کا دل لبھا کے انہوں نے مین آف دی میچ کا اعزاز تو پا لیا۔لیکن اس سوال پر وہ ہنسنے لگے کہ میدان کے اندر انہوں نے کس کرکٹر کو سب سے پرمزاح پایا۔ نائجل بیپٹسٹ کے مطابق بہت سے کھلاڑیوں کی حس مزاح بہت تیز تھی لیکن وہ بطور خاص کسی کا نام نہیں لے سکتے۔ تاہم میرے اس سوال پر کرکٹ کو تو سنجیدہ مزاج شریف لوگوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا، چکی ہائی فائی کہنے لگے کہ اب کرکٹ کوئی انگریزوں کا خشک مزاج کھیل نہیں رہا۔ یہ تو اب بہت تبدیل ہوگیا ہے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ اب کھیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ چکی ہائی فائی کی پیشگوئی ہے کہ کرکٹ میں جس کی طرح انہوں نے ڈالی ہے، وہ انداز آگے بڑھے گا اور مستقبل میں کرکٹ کے سب ہی شائقین کھیل کی دھن پر تھرکتے نظر آئیں گے۔ |
اسی بارے میں انڈیا کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ29 March, 2007 | کھیل سپر ایٹ میں ہو گا کیا؟29 March, 2007 | کھیل بنگلہ دیش’اِن‘ انڈیا ’آؤٹ‘25 March, 2007 | کھیل انیل کمبلے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر30 March, 2007 | کھیل پیٹرسن عالمی رینکنگ میں نمبرون26 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||