ویسٹ انڈیز: کرکٹ کا جوڑ توڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کرکٹ کپ کے ابتدائی مرحلے میں ناقابل شکست رہنے والی میزبان ویسٹ انڈین ٹیم سپر ایٹ کے اب تک اپنے تینوں میچ ہارکر شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ میزبان ٹیم کی خراب کارکردگی نے ویسٹ انڈین کرکٹ کے ان بہت سے تضادات کو ایک بار پھر اجاگر کرنا شروع کردیا ہے جو ٹیم کی ابتدائی بہتر پرفارمنس سے پس منظر میں چلے گئے تھے۔ ان تضادات میں مبصرین کے بقول سر فہرست جوڑ توڑ کا معاملہ ہے جس کو بہت سے کرکٹ شائقین بھی خرابی کی اصل وجہ قرار دے رہے ہیں۔ گروپ ڈی میں ناقابل شکست رہتے ہوئے ویسٹ انڈیز سپر ایٹ مرحلے میں دو بونس پوائنٹس کے ساتھ آئی تھی اور اب تک اس کے پاس کل یہی دو پوائنٹس ہیں۔ سپر ایٹ مرحلے میں ہر ٹیم کو چھ چھ میچ کھیلنے ہیں اور ویسٹ انڈیز اب تک دفاعی چیمپئین آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا سے کھیل چکی ہے جبکہ اسے بنگلہ دیش، انگلستان اور جنوبی افریقہ سے کھیلنا باقی ہے۔ کرکٹ کے تجزیہ نگاروں کے خیال میں اب تک ویسٹ انڈیز نے سپر ایٹ مرحلے میں جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی روشنی میں اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ وہ جنوبی افریقہ جیسی مضبوط اور پرجوش ٹیم کو ہرا سکے۔
ٹیم کی خراب کارکردگی نے ایک بار پھر یسٹ انڈیز میں اس بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اچھے اور باصلاحیت کرکٹروں کے ہوتے ہوئے بھی ویسٹ انڈین ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مستقل جوڑ توڑ اور گروہ بندیوں کے سبب ویسٹ انڈین ٹیم ایک ٹیم کے بجائے انفرادی سطح پر کھیلتی ہے۔ گروہ بندیوں کے الزامات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات کے روز نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس بریفنگ میں کپتان برائن لارا نے بلا جھجھک سلیکشن کمیٹی کے رکن اور ماضی کے ایک عظیم فاسٹ بولر اینڈی روبرٹس پر ان کے تبصروں کے حوالے سے تنقید کی۔ اینڈی روبرٹس نے آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف بعض کھلاڑیوں کے انتخاب پر حیرت ظاہر کی تھی اور دوران میچ برائن لارا کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ویسٹ انڈیز میں لوگوں کے خیال میں کرکٹ کے معاملات پر چار بڑے ملک جمیکا، باربیڈوس، ٹرینیڈاڈ اور گیانا چھائے ہوئے ہیں اور وہ میرٹ کے بجائے اپنے اپنے کھلاڑیوں کو آگے بڑھانے پر زیادہ زور ڈالتے ہیں۔ موجودہ کرکٹ ٹیم میں بھی ان چاروں ملکوں کے علاوہ صرف گرینیڈا کے ایک کھلاڑی ڈیون سمتھ شامل ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے عالمی کپ کا کوئی میچ نہیں کھیلا ہے۔ اسی تناظر میں ایک اور پہلو جس کی جانب ویسٹ انڈین کرکٹ شائقین اب بہت زیادہ انگلی اٹھارہے ہیں وہ کرکٹ کے معاملات میں خود ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کا اپنا کردار ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے سال ویسٹ انڈیز کی موجودہ سلیکشن کمیٹی تشکیل ہوئی لیکن سبکدوش ہونے والی کمیٹی نے رخصت ہونے سے ذرا پہلے عالمی کپ تک کے لیے ٹیم کا انتخاب کیا تھا۔ اسی بناء پر موجودہ سلیکشن کمیٹی جس میں ماضی کے عظیم اوپننگ بیٹسمین گورڈن گرینیج بھی شامل ہیں، خود کو موجودہ ٹیم کی کارکردگی سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح تقریباً جولائی سن دوہزار تین میں گس لوگی کو ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا لیکن مبصرین کے مطابق تمام تر کوششوں کے باوجود کے باوجود نہ تو ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ لوگی کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے پر تیار ہوا نہ ہی انہیں ان کے مطلوبہ وسائل مہیا کیے گئے۔ لوگی سن دوہزارچارکی چیمپئینزٹرافی میں فتح کےبعدمستعفی ہوگئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جس وقت دوسری ٹیمیں کوچنگ میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کررہی تھیں، لوگی کے بقول ویسٹ انڈین ٹیم کے پاس وڈیو کیمرہ تک نہیں تھا۔ خود لوگی نے بھی سبکدوشی کے بعد وسائل کی کمی کا شکوہ ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا۔ تاہم ان کی سبکدوشی کے فوراً بعد جب آسٹریلین بینٹ کنگ ویسٹ انڈیز کی کوچ بنے تو نہ صرف ان کو لامحدود وسائل دیے گئے بلکہ سلیکشن کمیٹی میں بھی شامل کیا گیا۔ تجزیہ نگاروں کےخیال میں عالمی کپ کےبعد ویسٹ انڈین کرکٹ کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنی گمشدہ عظمت حاصل کرنےکے لیے یہ فیصلہ کرے کہ آیا ویسٹ انڈین کرکٹ میں کسی انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں ویسٹ انڈیز کی دوسری شکست29 March, 2007 | کھیل ورلڈ کپ: سُپر 8 مرحلہ منگل سے26 March, 2007 | کھیل پیگیسز ہوٹل پر میڈیا کی یلغار27 March, 2007 | کھیل ورلڈ کپ جاری رہے گا: آئی سی سی23 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||