غلط امپائرنگ نے امپائر بنادیا: علیم ڈار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں ضرور اتار چڑھاؤ اور غیرمستقل مزاجی نظرآتی ہے لیکن پاکستان سے تعلق رکھنے والے امپائر علیم ڈار کی مستقل مزاجی اور اعلی معیار کی امپائرنگ پر کسی کو شک وشبہ نہیں۔ اس وقت وہ آسٹریلیا کے سائمن ٹافل کے بعد دنیا کے دوسرے بہترین کرکٹ امپائر ہیں۔ اڑتیس سالہ علیم ڈار کا امپائر بننا دلچسپ پس منظر رکھتا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے والے کسی بھی نوجوان کی طرح وہ بھی ٹیسٹ کرکٹر بنناچاہتے تھے لیکن ان کے والد پولیس میں تھے اور ان کی پوسٹنگ بہاولنگر۔ چشتیاں اور سہالہ میں ہوتی رہی جہاں کرکٹ نہیں تھی۔ لہذا علیم ڈار کو ان کے بڑے بھائی لاہور لے آئے جہاں اسلامیہ کالج سول لائنز میں وسیم اکرم کے ساتھ ان کا داخلہ ہوا، تاہم ایک عشرے پر محیط فرسٹ کلاس کرکٹ کریئر میں محض سترہ میچز کھیلنے کے بعد انہوں نے امپائرنگ کی طرف رجوع کیا جس کا مشورہ انہیں اظہر زیدی نے دیا جن کے کلب پی اینڈ ٹی جمخانہ سے متعدد ٹیسٹ کرکٹرز بھی کھیلتے رہے ہیں۔ علیم ڈار بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’امپائرنگ میں آنے کی وجہ شاید یہ بھی رہی کہ مجھے بھی بعض اوقات غلط آؤٹ دے دیا گیا۔اس کے علاوہ مجھے یہ بھی احساس تھا کہ پاکستانی امپائرنگ کا معیار بھی اچھا نہیں تھا جسے میں اپنی اہلیت اور کارکردگی سے بلند کرنا چاہتا تھا۔‘ علیم ڈار سات سال سے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کررہے ہیں اور اکتوبر2003 میں انہوں نے پہلی مرتبہ ڈھاکہ میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ میں امپائرنگ کی۔ان کے اعلیٰ معیار کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نے انہیں ایلیٹ پینل میں شامل کرنے میں دیر نہیں کی اور اپریل2002 میں تشکیل پانے والے ایلیٹ پینل میں علیم ڈار کی شمولیت اپریل2004 میں ہوگئی۔
علیم ڈار مختصر عرصے میں37 ٹیسٹ اور75 ون ڈے انٹرنیشنل میچز سپروائز کرچکے ہیں جبکہ سب سے زیادہ117 ٹیسٹ میں امپائرنگ کا ریکارڈ اس وقت ویسٹ انڈیز کے اسٹیو بکنر کا ہے اور انگلینڈ کے ڈیوڈ شیپرڈ 172ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کے عالمی ریکارڈ کے مالک ہیں۔ علیم ڈار کہتے ہیں: ’میں پچاس سال کی عمر تک امپائرنگ کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس وقت تک فیلڈ میں رہنا چاہتا ہوں جب تک میری آنکھیں اور کان میرا ساتھ دیتے رہیں۔‘ آئی سی سی نے حال ہی میں یہ رائے شماری کرائی تھی کہ کون سا امپائر دوسرے کس امپائر کے ساتھ امپائرنگ کرنا پسند کرتا ہے جس کا نتیجہ اس فیصلے کی صورت میں سامنے آیا کہ سائمن ٹافل اور علیم ڈار کی جوڑی سب سے بہترین اور لائق ہے۔ خود علیم ڈار کو بلی باؤڈن اور ڈیرل ہارپر کے ساتھ امپائرنگ میں مزہ آتا ہے جو ان کے خیال میں بذلہ سنجی میں مشہور ہیں۔ علیم ڈار کا کہنا ہے: ’امپائر کو فیلڈ میں اپنے ساتھی امپائر اور کھلاڑیوں کے ساتھ دوستانہ ہوناچاہیئے لیکن اگر کھلاڑی نظم وضبط کی حد عبور کرے تواسے اپنی ذمہ داری کے مطابق اس کی فوراً رپورٹ کرنی چاہئے۔ کچھ امپائرز ہیں جن کا میں نام لینا نہیں چاہوں گا، وہ میدان میں غیرمعمولی طور پر سنجیدہ رہتے ہیں، ان کے ساتھ سات گھنٹے گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘ ویسٹ انڈین بیٹسمین برائن لارا نے جس ٹیسٹ میں چارسو رنز کی ریکارڈ ساز اننگز کھیلی تھی اس میں علیم ڈار امپائر تھے۔ اس کے علاوہ وہ اس ون ڈے میں بھی امپائر تھے جس میں جنوبی افریقہ نے435 رنز کا ریکارڈ ہدف عبور کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ان دونوں میچوں کو وہ اپنے یادگار لمحات قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’ہرشل گبز نے اس میچ میں175 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ ایسے میچ کا مزہ باہر بیٹھ کر دیکھنے میں ہے لیکن میں جب لیگ امپائر کی پوزیشن پر کھڑا ہوتا ہوں تو اچھی بیٹنگ سے بھرپور لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں اور میرے منہ سے بے ساختہ گڈ شاٹ بھی نکلتا ہے۔‘ علیم ڈار کے خیال میں کرکٹ میں جتنی ٹیکنالوجی آگئی ہے وہ کافی ہے، اس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔وہ ایل بی ڈبلیو فیصلے کے لئے ٹی وی امپائر کی مدد حاصل کیے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ کیا کوئی فیصلہ بعد میں غلط ثابت ہوا؟ علیم ڈار کہتے ہیں: ’ایشیز سیریز کے لارڈز ٹیسٹ میں آسٹریلوی بیٹسمین سائمن کیٹچ کو کاٹ بی ہائنڈ دینا مشکوک تھا، لیکن کوئی بھی امپائر دانستہ غلط آؤٹ نہیں دیتا۔ جہاں تک ایلیٹ پینل کے امپائر کا تعلق ہے تو اسے سو میں سے چورانوے نمبر حاصل کرنے ہوتے ہیں، کم کی صورت میں اسے اپنی جگہ چھوڑنی پڑسکتی ہے۔ لہذا وہ بہت احتیاط اور ذمہ داری سے میچ سپروائز کرتا ہے۔‘ علیم ڈار کے تین بیٹے ہیں۔ بڑے کو وہ حافظ قرآن بناناچاہتے ہیں جبکہ سب سے چھوٹے کے بارے میں انہوں نے سوچ رکھا ہے کہ وہ کرکٹر بنائیں گے۔ علیم ڈار سے ان کی دیرینہ خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بولے: ’بھارت میں کھیلی گئی چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر سائمن ٹافل نے خواہش ظاہر کی کہ آسٹریلوی ٹیم فائنل نہ کھیلے تاکہ وہ فائنل میں امپائرنگ کرسکیں لیکن آسٹریلوی ٹیم نے سائمن ٹافل کی خواہش پوری نہ ہونے دی اور میں نے فائنل میں امپائرنگ کی۔ میری خواہش اس کے برعکس ہے کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل کھیلے، اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر مجھے فائنل میں امپائرنگ کرکے خوشی ہوگی۔‘ |
اسی بارے میں اسٹیو بکنر کے100 ٹیسٹ14 March, 2005 | کھیل آسٹریلوی تمیز سیکھیں: میگرا17 January, 2006 | کھیل آخر گیٹنگ کو معافی مانگنا پڑی03 October, 2005 | کھیل ایمپائرز تنقید سے بالا نہیں: عمران06 September, 2004 | کھیل شیفرڈ ایمپائر نہیں ہونگے30 August, 2004 | کھیل علیم ڈار ایلیٹ پینل میں شامل06 February, 2004 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||