اسٹیو بکنر کے100 ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسٹ انڈیز کے امپائر اسٹیوبکنر کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کولکتہ میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ اس لحاظ سے یادگارہے کہ یہ ان کا بحیثیت امپائر سوواں ٹیسٹ میچ ہے۔ وہ اس سنگ میل تک پہنچنے والے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے پہلے امپائر ہیں۔ اسٹیو بکنر کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ سو ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ ویسٹ انڈیز میں انہیں سال میں بس ایک دو ٹیسٹ میچز ملتے تھے۔ 58 سالہ اسٹیو بکنر نے89-1988 میں ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان کنگسٹن ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ امپائرنگ کی تھی۔ اس طویل سفر کو وہ اطمینان بخش اور کامیاب قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طویل سفر کی سب سے یادگار بات مسلسل چار ورلڈ کپ فائنلز میں امپائرنگ کرنا ہے۔ اپنے سوویں ٹیسٹ کے بارے میں اسٹیوبکنر کہتے ہیں کہ وہ اسے ایک نئے ٹیسٹ اور عام سے میچ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ پاک بھارت ٹیسٹ ہے تو اس کا پریشر وہ اپنے اوپر طاری کرلیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے میچز بہت مشکل ہوتے ہیں۔ ان میچوں کا اپنا پریشر ہوتا ہےلیکن وہ اس کے لئے تیار ہیں۔ ’ان پر سوویں میچ کا کوئی پریشر نہیں ہوگا‘۔ جب اسٹیو بکنر سے پوچھا گیا کہ وہ مزید کتنا عرصہ امپائرنگ کرنا چاہیں گے تو ان کا جواب تھا فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ان کے ذہن میں ہے کہ اگلے ورلڈ کپ میں وہ امپائرنگ ضرور کریں۔ بکنر کہتے ہیں کہ کھلاڑی ان کی عزت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ان کی عزت کراتے ہیں۔ ’دراصل آپ کو اسی وقت عزت اور بلند مقام ملتا ہے جب آپ کے فیصلے ایماندار ہوں اور آپ کے فیصلے صحیح ہوں‘۔ بکنر کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں ٹیکنالوجی متعارف کرائے جانے سے کھیل میں بہتری آئی ہے۔ بکنر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں امپائرنگ آسان نہیں ہے کیونکہ یہاں کی وکٹیں ٹرننگ ہوتی ہیں جن پر فیصلے دینا آسان نہیں ہوتا۔ بھارت میں پانی ، گرمی اور تیز مرچوں والے کھانوں سے وہ کچھ پریشان رہتے ہیں لیکن انہیں یہاں آکر خوشی ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||