BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 September, 2006, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
9 ویں مرتبہ میچ ریفری کے روبرو

انضمام الحق
انضمام الحق کو پال ٹمپرنگ سزا پر احتجاج کرنے پر کوئی ندامت نہیں ہے۔
ویسٹ انڈین امپائر اسٹیو بکنر سے جب پوچھا گیا کہ انہیں میدان میں سب سے آسان کپتان کون لگا جس نے انہیں بہت کم پریشان کیا ہو تو ان کا جواب تھا انضمام الحق۔

لیکن یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ میدان میں تحمل مزاج مشہور انضمام الحق کو حالیہ برسوں کے دوران تواتر کے ساتھ میچ ریفریز اور امپائرز کے روبرو پیش ہونا پڑا ہے۔

انضمام الحق 27 اور 28 ستمبر کو جب لندن میں آئی سی سی میچ ریفری رنجن مدوگالے کے روبرو پیش ہونگے تو یہ ان کے کرئر کی 9 ویں اور سب سے اہم ترین پیشی ہوگی۔

1992 میں آئی سی سی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق متعارف کرائے جانے کے بعد اس کی زد میں آنے والے پہلے کرکٹر اور کپتان پاکستان کے عاقب جاوید اور جاوید میانداد تھے۔ اس کے بعد سے اب تک پاکستان کے21 کرکٹرز آئی سی سی میچ ریفریز کے سامنے پیش ہوکر مختلف نوعیت الزامات کا سامنا کرچکے ہیں۔ان کے علاوہ دو منیجرز انتخاب عالم اور اسد عزیز کو بھی میچ ریفریز کی پیشیاں بھگتنی پڑی ہیں۔

انضمام الحق کو سب سے زیادہ اور 8 مرتبہ اس صورتحال کا سامنا کرناپڑا ہے۔ وہ 1997 کے صحارا کپ میں پہلی مرتبہ میچ ریفری جیکی ہینڈرکس کی دو ون ڈے میچوں کی پابندی کی زد میں آئے لیکن امپائر کے فیصلے پر اعتراض کرنے کے جرم میں نہیں بلکہ ایک تماشائی کو مارنے کی پاداش میں جو مسلسل آلو آلو کہہ کر انہیں مشتعل کررہا تھا۔

اگلے سال میچ ریفری جان ریڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں امپائر کے فیصلے کو قبول نہ کرنے پر ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ کیا۔

2000 میں انضمام الحق کو دو مرتبہ میچ ریفریز کی پیشیاں بھگتنی پڑیں۔ ایک پاکستانی اخبار میں سری لنکن کھلاڑیوں کے بارے میں ریمارکس دینے پر کراچی ٹیسٹ کے میچ ریفری برائن ہیسٹنگز نے صرف سرزنش پر اکتفا کیا لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں آؤٹ دیئے جانے پر عدم اطمینان ظاہر کرنے پر میچ ریفری پیٹر برج نے ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ عائد کردیا۔

2001 کی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے فائنل میں انضمام الحق نے ایک مرتبہ پھر آؤٹ دیئے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا نتیجہ میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ اور دو ون ڈے کی معطلی کی صورت میں سامنے آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ ریفری ایک مرتبہ بھر نیوزی لینڈ کے برائن ہیسٹنگز تھے۔

2004 میں بھارت کے خلاف پنڈی ون ڈے میں میچ ریفری رنجن مدوگالے نے انضمام الحق پر سلو اوور ریٹ پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ عائد کیا۔

انضمام الحق کے لیئے 2005 مشکل سال رہا جس میں انہیں تین مرتبہ میچ ریفری کے سامنے پیش ہونا پڑا تینوں مرتبہ میچ ریفری کرس برڈ تھے جنہوں نے سلو اوور ریٹ۔ بہت زیادہ اپیلیں کرنے۔ رن آؤٹ ہونے پر غصے میں بلا پھینکنے اور امپائر کے فیصلے پر شدید ردعمل پر ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی اور مجموعی طور پر ایک سو تیس فیصد جرمانہ عائد کیا۔

فلیچر بھی تنازعے میں
فلیچر بھی بال ٹیمپرنگ تنازعے کی زد میں آگئے
بال ٹیمپرنگ کا معائنہدنیا کا ذرائع ابلاغ
ایمپائرز سے تفصیلی وضاحت کا تقاضا
پاکستان کرکٹ ٹیم’ون ڈے سیریز جاری‘
پی سی بی کو یہی توقع ہے
سٹیو وا’ اصول پسند ڈیرل‘
آسٹریلیا میں امپائر ڈیرل ہیئر کی حمایت
مینیجمنٹ یا کنفوژن
دو پریس کانفرنسوں میں ایک ہی بات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد