ایمپائرز تنقید سے بالا نہیں: عمران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ ایمپائرز پر ہونے والی تنقید سے آئی سی سی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اور کسی آفیشل کو تنقید کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے ایمپائرڈیوڈ شیپرڈ پر پاکستانی چیف سلیکٹر وسیم باری کی تنقید کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے اس معاملے سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد آئی سی سی نے وسیم باری کو آئندہ ایمپائرز پر تنقید سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کے خلاف کارروائی کے لئے کہا ہے۔ سابق کپتان عمران خان پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئی سی سی کو جواب پر شدید ردعمل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ پیر کو امریکہ سے وطن واپسی پر ایک بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ آئی سی سی کا پینل مقدس گائے نہیں کہ جس پر تنقید نہ کی جاسکے۔اس پینل کو سب سے زیادہ پیسے ملتے ہیں لہذا اس پر تنقید کا حق ہونا چاہیئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ امپائرز کی ان غلطیوں پر کیسے خاموش رہا جاسکتا ہے جو میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوں۔آئی سی سی کو اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف منیجر کپتان اور کوچ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے دائرے میں آنے چاہیں دوسرے آفیشلز کو تنقید سے نہیں روکا جاسکتا۔ البتہ اس قسم کی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ ماضی میں ایسی صورتحال بھی رہی ہے جب بھارت نے میچ ریفری مائیک ڈینس کے فیصلوں پر کھلم کھلا احتجاج کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||