کراچی ٹیسٹ اور سیریز کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستانی بالروں نے بھارتی بیٹنگ آرڈر تہس نہس کرتے ہوئے میچ جیت لیا ہے۔ بھارت کے آخری کھلاڑی یوراج سنگھ تھے جنہیں عبدالرزاق نے آؤٹ کیا۔ ان کی بہت دباؤ میں بنائی گئی سنچری بھی بھارتی ٹیم کے کام نہ آسکی۔ اس طرح تین ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز پاکستان نے صفر ایک سے جیت لی ہے۔ لاہور اور فیصل آباد میں ہونے والے دونوں ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئے تھے اور اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سیریز بورنگ ہے اور تماشائیوں کو کھیل سے دور کر رہی ہے ۔ لیکن کراچی میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے بولر اور بیٹسمین دونوں ہی کھیل پر حاوی رہے اور اس طرح پاکستان یہ میچ ایک بڑے سکور یعنی 341 رنز سے جیت گیا۔
پاکستان کی بولنگ میں سب سے بڑی کامیابی محمد آصف کی بولنگ تھی جن کے سامنے بھارتی جم نہ سکی۔ ان کے علاوہ عبدالرزاق کی درست لائن اور لینتھ والی بولنگ کے سامنے بھی بھارت کی مڈل آرڈر بیٹنگ فیل ہو گئی اور 265 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں یہ پاکستان کی رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس نے1994 میں کولمبو میں سری لنکا کو301 رنز سے ہرایا تھا۔ بھارت کی رنز کے اعتبار سے یہ دوسری بڑی شکست ہے۔ 2004 میں آسٹریلیا کے خلاف ناگپور میں اسے342 رنز سے شکست ہوئی تھی۔ یوراج سنگھ کی سنچری بھی مہمان ٹیم کے کام نہ آسکی۔ پہلی اننگز میں چار وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی کے بعد محمد آصف نے دوسری اننگز میں بھی تین وکٹوں کی زبردست پرفارمنس دی جبکہ عبدالرزاق اس میچ کے سب سے قیمتی کھلاڑی ثابت ہوئے جنہوں نے پہلی اننگز میں 45 اور دوسری اننگز میں 90 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے علاوہ پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم مین آف دی میچ کامران اکمل اہم موقع پر سنچری بنانے کے سبب قرار پائے۔
مین آف دی سیریز ایوارڈ دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بنانے والے یونس خان کے حصے میں آیا۔ پاکستانی بولروں کی گیندوں کا سامنا مہمان بیٹسمینوں کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا۔ پہلے ہی اوور میں شعیب اختر کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں ڈراوڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد آصف کی گیندوں پر وریندر سہواگ، لکشمن اور سچن تندولکر آؤٹ ہو گئے۔ 74 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد سوروگنگولی اور یوراج سنگھ کی بیٹنگ اننگز میں ٹھہراؤ لے آئی لیکن ان کی103 رنز کی عمدہ شراکت کو عبدالرزاق نے توڑکر بھارتی ڈریسنگ روم کی مایوسی میں اضافہ کردیا۔ انہوں نے چائے کے وقفے کے بعد پہلی ہی گیند پر سوروگنگولی کو37 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے پرنس آف کلکتہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔
عبدالرزاق کی بظاہر بے ضرر لیکن انتہائی مہلک گیندوں نے خطرناک دھونی اور عرفان پٹھان کو سلپ میں عمران فرحت اور فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ کراکے پاکستان کو جیت کے مزید قریب کردیا۔ دانش کنیریا جن کی پہلی اننگز میں کپتان کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی انیل کمبلے کو سلپ میں عمران فرحت کے ہاتھوں کیچ اور ظہیر خان کو بولڈ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد عبدالرزاق نے سنچری میکر یوراج سنگھ کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرا کر پاکستان کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ اس سے قبل یونس خان نے پاکستان کی اننگز599 رنز7 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی جو نیشنل اسٹیڈیم پر کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔ فیصل اقبال 139 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ عبدالرزاق دس رنز کی کمی سے چوتھی ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کرسکے۔ دوسری اننگز کی خاص بات پاکستان کے ابتدائی سات بیٹسمینوں کا پچاس سے پچاس سے زائد سکور کرنا تھا۔ اس طرح انہوں نے نصف سنچریاں بنا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی نے بھارت کے خلاف1999 کی سیریز کے کولکتہ ٹیسٹ کی یاد تازہ کردی جس میں اس نے26 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد میچ کو اپنی گرفت میں کیا تھا۔ کراچی ٹیسٹ میں یہ صورتحال39 رنز پر چھ وکٹیں گرنے سے پیدا ہوئی جس پر پاکستانی ٹیم قابو پانے میں کامیاب ہوگئی۔ بھارت کی طرف سے انیل کمبلے سب سے کامیاب بالر رہے جنہوں نے 37 اوور میں 151 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پرتاب سنگھ، ظہیر خان ، یووراج سنگھ اور عرفان پٹھان نے اس اننگز میں پاکستان کے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستانی ٹیم بھارتی ٹیم |
اسی بارے میں پانچ سو کی لیڈ، فیصل کی سنچری31 January, 2006 | کھیل کراچی: پاکستانی بیٹسمین جم گئے30 January, 2006 | کھیل ڈراوڈ کو آؤٹ کرنا آسان ہے: آصف30 January, 2006 | کھیل پاک بھارت سیریز کا فیصلہ کن مرحلہ28 January, 2006 | کھیل انضمام اور شیعب کھیلیں گے: وولمر27 January, 2006 | کھیل فیصل آباد ٹیسٹ بھی ڈرا ہو گیا25 January, 2006 | کھیل ریکارڈ نہ بن سکا، میچ ڈرا17 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||