آفریدی: لاکھوں دلوں کی دھڑکن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دھواں دار بیٹنگ کے لیے مشہور شاہد آفریدی پاکستان کے ہر شہر کی طرح فیصل آباد کے شہریوں کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔ شاہد آفریدی جب کھیل رہے ہوں تو تماشائیوں کے قدم خود بخود سٹیڈیم کی طرف چل پڑتے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ میچ میں جب آفریدی بیٹنگ کرنے آئے تھے تو فیصل آباد کے تماشائیوں نے کافی دیر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں لیکن اس میچ میں آفریدی فورا ہی آؤٹ ہو گئے۔ اس بار بھارت کے خلاف آفریدی نے فیصل آبادیوں کا گلہ دھو دیا اور انہیں اپنی بیٹنگ سے خوب محظوظ کیا۔ فیصل آباد کے ٹیسٹ میچ کے پہلے کھیل ختم ہونے پر آفریدی نے پچاسی رنز بنائے تھے جس میں گیارہ چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ آفریدی کی یہی دھواں دار بیٹنگ میچ کے دوسرے دن دوگنے تماشائیوں کی آمد کا سبب بنی کیونکہ انہیں امید تھی کہ دوسرے دن بھی انہیں ایسا ہی جاندار کھیل دیکھنے کو ملے گا اور ایسا ہی ہوا آفریدی نے دوسرے دن بھی جارحانہ بیٹنگ کی اور اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا سب سے زیادہ سکور بھی کیا۔ انہوں نے128 گیندوں پر ایک سو چھپن رنز بنائے جن میں ان کے بیس چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔آفریدی آؤٹ بھی ہمیشہ کی طرح ایک اونچی شارٹ لگا کر ہی ہوئے۔ آفریدی کے یہی چھکے اور چوکے دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی بڑی تعداد کے سٹیڈیم آ جانے سے خود تماشائیوں کو تو مشکلات کا سامنا ہوا ہی پولیس والے بھی خوب تنگ ہوئے اور انہیں تماشائیوں کو قابو کرنے کے لیے گاہے بگاہے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
ایک پولیس اہلکار شیخ اسلم کا کہنا تھا کہ’ ہم لاٹھی چارج نہیں کرنا چاہتے لیکن لوگ ہمیں مجبور کر دیتے ہیں۔ لوگ لائن نہیں بناتے، بھلا اتنے لوگ اکٹھے اندر داخل کیسے ہو سکتے ہیں اور پھر جب یہ لوگ بھگدڑ مچاتے ہیں تو ہمیں مجبور ہو کر کارروائی کرنی پڑتی ہے‘۔ ایک پولیس والے کے مطابق سٹیڈیم میں جگہ نہیں تو لوگوں کو کیسے اندر جانے دیا جائے۔ ادھر تماشائی پولیس والوں سے نالاں ہیں کہ وہ آفریدی کا کھیل دیکھنے آئے ہیں اور پولیس انہیں سٹیڈیم کے اندر جانے نہیں دیتی۔ ایک تماشائی انور کا کہنا تھا کہ وہ آفریدی کا دیوانہ ہے اور صرف اس کا کھیل دیکھنے کے لیے آیا ہے لیکن ڈنڈے کھانے پڑ رہے ہیں۔ کامران علی نے کہا کہ ’پہلے دن میں اور میرے دوست میچ دیکھنے نہ آ سکے جس کا ہمیں کافی افسوس ہوا کیونکہ آفریدی کو چھکے مارتے ہوئے میدان میں دیکھنے کا الگ ہی مزا ہے۔ہم نے سوچا کہ آج یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا اسی لیے سٹیڈیم میں آئے اور شکریہ آفریدی کا کہ اس نے پھر شارٹیں لگائیں اور ہم نے خوب لطف اٹھایا، کاش وہ آؤٹ نہ ہوتے‘۔
میچ کے پہلے دن کی نسبت دوسرے دن سٹیڈیم میں خواتین شائقین کی تعداد تین گنا تھی اور وہ آفریدی کی بیٹنگ پر خوب نعرے لگا رہی تھیں۔ ایک دور تھا کہ عمران خان خواتین کی دلوں کی دھڑکن ہوا کرتے تھے اور اب خواتین شائقین کرکٹ میں شاہد آفریدی کی مقبولیت کا گراف دن بہ دن اوپر جا رہا ہے۔ راحیلہ نامی تماشائی کا کہنا تھا کہ انہیں آفریدی کا سٹائل، ان کی بیٹنگ اور ان کا چھکے مارنے کا انداز سب بے پناہ پسند ہے اور آفریدی ٹیم میں نہ ہوں تو پاکستان کی ٹیم اچھی ہی نہیں لگتی وہ تو سٹیڈیم میں صرف آفریدی کو دیکھنے آئی ہیں۔ فرح کا کہنا تھا کہ وہ چار بہنیں ہیں اور چاروں میں اس بات پر جھگڑا ہوتا ہے کہ شاہد زیادہ اچھا کھلاڑی ہے یا شعیب اختر زیادہ بہتر۔ فرح کی بہن سبین نے کہا کہ وہ شعیب اختر ہی کو دیکھنے آئی ہیں۔ آج تو شعیب اختر نے بھی بالنگ سے پہلے تماشائیوں کو اپنی بیٹنگ سے محظوظ کیا۔ انہوں نے سینتالیس رنز بنائے جن میں تین چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے اور یوں آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے آنے والوں کو شعیب کے چھکے بھی دیکھنے کو مل گئے۔ |
اسی بارے میں بھارتی بلے بازوں کی پراعتماد بیٹنگ22 January, 2006 | کھیل پاکستان مستحکم پوزیشن میں21 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||