BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 January, 2006, 05:31 GMT 10:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریکارڈ نہ بن سکا، میچ ڈرا
امپائر
مناسب روشنی کی کمی کی وجہ سے امپائروں نے میچ روکنے کا اعلان کیا
لاہور ٹیسٹ کے آخری دن چائے کے وقفے کے بعد کم روشنی کی وجہ سے امپائروں نے کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس طرح سے پہلا ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گیا۔

بھارتی اوپنر وریندر سہواگ کو ڈبل سنچری بنانے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

میچ کے پانچویں دن صرف 14 گیندوں کا کھیل ہو سکا اور کھیل کے ایک مختصر سیشن کے بعد امپائروں نے کم روشنی کی وجہ سے کھیل روک دیا اور چائے کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔

اس مختصر سیشن میں بھارت کو اپنا پہلا اور واحد نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب کھیل کے آغاز میں ہی سہواگ اپنے ڈھائی سو رن مکمل کرنے کے بعد اپنے ذاتی سکور میں چار رن کے مزید اضافے کے بعد رانا نوید کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہو گئے۔

اس وقت بھارت کا مجموعی سکور 410 تھا اور یوں سہواگ اور ڈراوڈ اوپننگ پارٹنر شپ کا عالمی ریکارڈ بھی چار رن کی کمی سے نہ توڑ سکے۔ جب کھیل حتم ہوا تو اس وقت راہول ڈراوڈ 128 رن بنا کر ناٹ آؤٹ تھے اور لکشمن نے ایک رن بنایا تھا۔

سہواگ اور ڈراوڈ عالمی ریکارڈ نہ توڑ سکے

لاہور میں رات کو بارش ہوتی رہی جس کے باعث گراؤنڈ میں پانی جمع ہو گیا تھا اور منگل کی صبح بھی مطلع ابرآلود رہا جس سے میچ کے بروقت شروع ہونے کے امکانات معدوم ہوتے گئے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق دو بج کر بیس منٹ پر امپائروں نے میدان میں روشنی کا جائزہ لینے کے بعد کھیل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس سیشن میں صرف چودہ گیندوں کا کھیل ممکن ہو سکا۔

میچ کے چوتھے دن جب کھیل ختم ہوا تھا تو بھارت نے 403 رن بنائے تھے اور اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا تھا۔ وریندر سہواگ نے میچ کے چوتھے دن کا کھیل شروع ہوتے ہی اپنی گیارہویں ٹیسٹ سنچری ترانوے گیندیں کھیل کر بنائی اور بطور اوپنر بھارت کے لیےتیز ترین سنچری بنانے کا سنیل گواسکر کا 23 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی سنچری کو ڈبل سنچری میں بدلا تو ان کی یہ 182 گیندوں کی اننگز ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ڈبل سنچری تھی۔

کم روشنی کے سبب میچ کے چوتھے دن صرف ایک سو پچاسی منٹ کا کھیل ہو سکا جس میں سینتالیس اوورز ہی کروائے جا سکے۔

لاہور ٹیسٹ اپنی بے جان وکٹ اور بلے بازوں کی لمبی اننگز کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اس میچ میں جہاں پاکستان کی جانب سے چار بلے بازوں نے سنچریاں سکور کیں وہیں بھارتی اوپنروں نے 410 رن کی اوپپنگ پارٹنر شپ بھی بنائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد