لاہور کی پِچ پر شدید تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کی پِچ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اب تک کے کھیل نے ثابت کیا کہ یہ پِچ بلے بازوں کے لیے بنائی گئی ہے اور بالر کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ کرکٹ مبصرین بھی ایسی پچ تیار کیے جانے پر حیران ہیں۔ گریک چیپل نے کہا کہ یہ پچ بلے بازوں کے لیے تو بہترین ہے لیکن بالرز کے لیے اس میں کچھ نہیں۔
انہوں نے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے اچھی بیٹنگ وکٹ نہیں دیکھی۔پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے بھی وکٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایسی بے جان وکٹ بنائے جانے پر تحقیقات ہونی چاھیں۔ پاکستان کے بلے باز شاہد آفریدی نے بھی اس پچ کو مردہ قرار دیا اور کہا کہ وکٹ ایسی ہونی چاہیے جس پر کچھ باؤنس ہو اور جو بلے بازوں کے ساتھ ساتھ بالروں کو بھی مدد دے۔ آخر اس طرح کی وکٹ بنانے کے درپردہ کیا عوامل تھے؟ آیا پاکستان کرکٹ بورڈ نے جان بوجھ کر ایسی وکٹ بنائی یا ان کے پاس اچھی وکٹیں بنانے والے نہیں؟ باؤنسی وکٹ بنانے کے دعوے کا کیا ہوا؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔
شہر یار خان نے کہا کہ ہم نے تین پچیں تیار کی تھیں لیکن تیکنیکی وجوہات کی بنا پر درمیان والی وکٹ پر میچ کروانا پڑا انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ فیصل آباد ٹیسٹ میچ میں بہتر وکٹ دی جائے۔ پاکستان کی ٹیم کے کوچ باب وولمر نے اتوار کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ایسی پچ سرد موسم کی وجہ سے بنی، ایک تو پچ بنانے والوں کو سردی کے سبب پچ بنانے کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا اور سردی کی وجہ سے پچ خشک نہ ہو سکی کہ سیم بالرز کی مدد کر پاتی۔ انہوں نے بھی امید ظاہر کی کہ فیصل آباد کی وکٹ اچھی ہوگی۔ پاکستان میں کافی عرصے سے پچیں بنانے والے محمد بشیر کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ایک پچ پر سال میں کئی کئی میچ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پچ کی طاقت ختم ہو جاتی ہے جبکہ آسٹریلیا اور انگلینڈ وغیرہ میں ایک پچ پر سال میں ایک ہی ٹیسٹ میچ ہوتا ہے۔ انہوں نے بھی سردی کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ انگلینڈ کے خلاف یہی پچ ٹھیک تھی کیونکہ اس وقت درجہ حرارت اتنا کم نہیں تھا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||