لاہورٹیسٹ: تیسرا روز بارش کی نذر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں بارش اور خراب روشنی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کا صرف پندرہ اوروں کا کھیل ممکن ہو سکا۔ بھارت نے بغیر کوئی وکٹ گنوائی اپنے سکور میں اسی رنز کا مزید اضافہ کیا۔ وریندر سہواگ نے شاندار کھیل پیشں کرتے ہوئے چھیانوے رنز بنائے اور ابھی کھیل رہے ہیں۔ان کے ساتھ کپتان ڈرواڈ ہیں جنہوں نے 37 رنز بنائے ہیں۔ بھارت کا مجموعی سکور 145 رنز ہے۔ پاکستان کےمحکمہ موسمیات کے مطابق سوموار اور منگل کو بھی لاہور اور اس مضافات میں موسم ابر آلود رہے گا اور بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ سنیچر کے روز کھیل کے اختتام پر بھارت نے پاکستان کے پہلی اننگز کے سکور 679 رن کے جواب میں بنا کسی نقصان کے 65 رن بنائے تھے۔ بھارت کو فالو آن سے بچنے کے لیے مزید 415 رن کی ضرورت ہے۔ دوسرے دن جب خراب روشنی کی وجہ سے کھیل 21 اوور قبل روک دیا گیا تو اس موقع پر وریندر سہواگ 36 اور ڈراوڈ 22 رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ پاکستان کی پہلی اننگز میں چار کھلاڑیوں نے سینچریاں سکور کیں۔ یونس خان 199 بنا کر رن آؤٹ ہوئے جبکہ محمد یوسف نے 173 رنز بنائے۔ شاہد آفریدی اور کامران اکمل نے بھی سینچریاں مکمل کیں۔ شاہد آفریدی سات چوکوں اور سات چھکوں کی مدد سے 80 گیندوں پر 103 رن بنا کر اجیت اگرکر کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ یہ ٹیسٹ میچوں میں ان کی چوتھی سنچری تھی۔
انہوں نے ہربھجن سنگھ کے ایک اوور میں چار لگاتار چھکوں کی مدد سے 27 رن بھی بنائے۔ وہ دو رن کی کمی سے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رن بنانے کا ریکارڈ نہ توڑ سکے۔ یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا کے پاس ہے۔ جب پاکستان نے اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا تو وکٹ کیپر کامران اکمل اپنے کیرئر کی تیسری اور بھارت کے خلاف دوسری سنچری مکمل کرنے کے بعد 102 رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ کامران اکمل نے 80 گیندوں پر یہ سنچری بنائی اور ان کی یہ سنچری دنیائے کرکٹ کے کسی بھی وکٹ کیپر کی جانب سے ٹیسٹ میچ میں بنائی جانے والی تیزترین سنچری ہے۔ میچ کے دوسرے سیشن میں پاکستان نے آٹھ رن فی اوور کی اوسط سے رن بنائے اور کامران اکمل اور شاہد آفریدی کے درمیان 170 رن کی پارٹنرشپ ہوئی۔
اس سےقبل دوسرے دن کے کھیل کے پہلے سیشن میں پاکستانی ٹیم نے 159 رن بنائے اور اسے تین وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ نائب کپتان یونس خان ایک رن کی کمی سے ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے اور 199 رن بنا کر ہربھجن سنگھ کی تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے دیگر کھلاڑیوں میں کپتان انضمام الحق صرف ایک رن بنا سکے۔ انہیں انیل کمبلے ایل بی ڈبلیو کیا۔ محمد یوسف بھی 173 رن بنا کر انیل کمبلے کی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کے لیے تیسری وکٹ کی شراکت میں محمد یوسف اور یونس خان نے 319 رن بنائے۔ محمد یوسف نے کھیل کی ابتداء میں ہی اپنی سنچری مکمل کی اور اس کے بعد یونس خان کے ساتھ مل کر پاکستان کے سکور کو تیزی سے آگے بڑھایا۔ بھارت کی جانب سے انیل کمبلے اور اجیت اگرکر نے دو، دو جبکہ عرفان پٹھان نے ایک وکٹ حاصل کی ہے جبکہ ہربھجن سنگھ، وریندر سہواگ اور سورو گنگولی کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
پہلے روز جب خراب روشنی کی وجہ سے جب کھیل پانچ اوور پہلے ہی روک دیا گیا تھا تو پاکستان نے پچاسی اووروں کے کھیل میں تین اعشاریہ چوراسی رنز فی اوور کی اوسط سے 326 رنز بنائے تھے اور اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ پاکستانی ٹیم : انضمام الحق (کپتان)، سلمان بٹ، شعیب ملک، یونس خان، محمد یوسف، شاہد آفریدی، کامران اکمل، رانا نوید الحسن، محمد سمیع، شیعب اختر، اور دانش کنیریا۔ بھارتی ٹیم : راہول ڈراوڈ (کپتان)، وریندر سہواگ، وی وی ایس لکشمن، سچن تندولکر، سوروگنگولی، یوراج سنگھ، مہندر دھونی، عرفان پٹھان، انیل کمبلے، اجیت اگارکر اور ہربھجن سنگھ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||