ماموں پر فخر مگر شناخت اپنی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی ٹیسٹ میں شاندار سنچری بنانے والے فیصل اقبال کہتے ہیں کہ انہیں اپنے ماموں جاوید میانداد پر فخر ہے لیکن ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے نام سے پہچانے جائیں۔ پچیس سالہ فیصل اقبال کی بیٹنگ میں جاوید میانداد کی جھلک واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماموں نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی ہے انہیں جاوید میانداد کا بھانجا ہونے پر فخر ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کرکٹ میں اپنے نام سے ان کی شناخت ہو۔ فیصل اقبال کو انضمام الحق کے ان فٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا اور انہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور گیارہویں ٹیسٹ میں پہلی سنچری بنا ڈالی۔ وہ کہتے ہیں کہ وسیلے انسان ہی بنتے ہیں لیکن اس سیزن میں انہوں نے سات سنچریاں بھی اسکور کی ہیں یہ کارکردگی بھی یقیناً ان کی ٹیم میں شمولیت کا سبب بنی ہے۔ فیصل اقبال کی ٹیم میں واپسی تین سال بعد ہوئی ہے لہذا وہ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ فیصل اقبال نے تین سال قبل آسٹریلیا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں83 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی جس میں انہوں نے شین وارن جیسے ورلڈ کلاس بولر کے سامنے جارحانہ انداز اختیار کیا تھا وہ اس اننگز کو نہیں بھولے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ سنچری ان کی بہترین اننگز ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||