BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 January, 2006, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت سیریز کا فیصلہ کن مرحلہ

راہول ڈراوڈ
’وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے‘
بولرز کا قبرستان ثابت ہونے والی لاہور اور فیصل آباد کی وکٹوں پر رنز کے بھاری بھرکم کتبے لگانے کے بعد پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اتوار سے کراچی ٹیسٹ اس امید کےساتھ شروع کررہی ہیں کہ نیشنل اسٹیڈیم کی وکٹ بولرز سے بھی وفا کر ےگی۔

پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ بات کسی طور خوش آئند نہیں کہ کپتان انضمام الحق سیریز کے اس فیصلہ کن مرحلے میں کھیلنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں اور یہ فیصلہ انہوں نے میچ کی صبح تک مؤخر کردیا ہے۔

انضمام الحق نے ہفتے کو ٹیم کی پریکٹس کے دوران کچھ دیر بیٹنگ کی لیکن ٹیم کے کوچ باب وولمر کو ان کے کھیلنے کے بارے میں پچاس فیصد یقین ہے۔

فاسٹ بولر شعیب اختر جو دونوں ٹیسٹ میں بولرز کے لیے سازگار وکٹیں نہ ہونے کے باوجود زیادہ وکٹ نہیں لے سکے ہیں اس فیصلہ کن ٹیسٹ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

انضمام الحق نے شعیب ملک کی جگہ عمران فرحت کی ٹیم میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے جبکہ خود ان کے نہ کھیلنے کی صورت میں فیصل اقبال کو موقع ملنے کی توقع ہے۔

شعیب اختر
شاید یہاں سے کچھ مل جائے

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کی وکٹ پچھلے دو ٹیسٹ سے مختلف دکھائی دیتی ہے اور وہ اس پر تین ریگولر فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

وکٹ کے بارے میں متواتر سوالات سے انضمام الحق اب بیزار سے ہوگئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ سوال ان سے نہیں وکٹ بنانے والوں سے پوچھا جائے۔

بھارتی کپتان راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے بولنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں جانا چاہتے ہیں جو انہیں بیس وکٹیں دے سکے۔ ان کے خیال میں وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے۔

بھارتی کپتان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہ ہوگا کہ وہ سارو گنگولی اور ہربھجن سنگھ میں سے کسے فوقیت دیں۔

بھارتی کپتان یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ٹاس اہم کردار ادا کرے گا ان کا کہنا ہے کہ سیریز کے اس آخری مرحلے پر دونوں ٹیمیں جیت کے لیے بے تاب ہیں۔

راہول ڈراوڈ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ لاہور اور فیصل آباد ٹیسٹ جن وکٹوں پر کھیلے گئے ان کے نیتجے میں پاک بھارت کرکٹ اپنی روایتی سحرانگیزی سے محروم ہوسکتی ہے البتہ وہ بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ اس روایتی سحرانگیزی کو برقرار رکھنے کے لیے سیریز کے درمیان وقفہ ضروری ہے۔

شعیب بہت تیز ہے
آج تک اتنی تیز گیندیں نہیں کھیلیں: دھونی
 شاہد آفریدی’چھکوں کی برسات‘
آفریدی کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ہے
سہواگلاہور ٹیسٹ
ایسی وکٹ نہیں ہونی چاہیے: سہواگ
لالہ امرناتھ اور عبدالحفیظ کاردارپہلی ہار، پہلی جیت
قصہ پاکستان اور بھارت کی پہلی ٹیسٹ سیریز کا
اسی بارے میں
شیعب کی فٹنس مشکوک
26 January, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد