پاکستان اور بھارت: پہلی ہار، پہلی جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کو 1952 میں پہلی بار جب ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اعزاز ملا تو پاکستان کا پہلا دورہ بھارت کا تھا۔ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں پاکستان کو بھارت کے خلاف ایک اننگز اور ستر رنز سے شکست ہوئی۔ فیروز شاہ کوٹلہ دہلی میں اس تاریخی ٹیسٹ میں بھارت کے کپتان لالہ امرناتھ تھے اور پاکستان کے کپتان عبدالحفیظ کاردار۔ تقسیمِ ہند سے پہلے کاردار بھارت کی طرف سے بھی ایک ٹیسٹ کھیلے ہوئے تھے اور پاکستان کے لیگ سپنر امیر الٰہی نے بھی بھارت کی طرف سے ایک ٹیسٹ کھیلا ہوا تھا۔ لیکن بھارت کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے سامنے پاکستان کے بلے باز جم نہ سکے اور بھارت کے تین سو بہتر رنز کے جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں ایک سو پچاس رنز بنا سکی اور دوسری اننگز میں ایک سو باون۔ پاکستان کی شکست کا سبب سپنر ونو منکڈ تھے جنہوں نے میچ میں ایک سو اکتیس رنز دے کر تیرہ وکٹ حاصل کیے۔ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی شکست تھی اور بھارت کی پاکستان کے خلاف پہلی فتح۔ لیکن صرف دوسرے ہی ٹیسٹ میں لکھنؤ یونیورسٹی گراؤنڈ میں پاکستان نے اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ جیتا اور بھارت کو پہلی بار پاکستان کے خلاف شکست ہوئی۔ پاکستان نے یہ میچ ایک اننگز اور تینتالیس رنز سے جیتا۔ لکھنؤ ٹیسٹ کی خاص بات اوپننگ بیٹسمین نذر محمد کی سینچری تھی۔ انہوں نے ایک سو چوبیس رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کی طرف سے پہلی سنچری تھی۔ 1982 میں نذر محمد کے بیٹے مدثر نذر نے بھی اوپننگ بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ایک سو باون رنز بنائے اور آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔ لکھنؤ ٹیسٹ میں فضل محمود کی تباہ کن بولنگ کے سامنے بھارت کے بلے باز پاکستان کے ایک سو تینتیس کے جواب میں ایک سو چھ اور دوسری اننگز میں ایک سو بیاسی رنز بنا سکی۔ لالہ امرناتھ واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے نصف سنچری بنائی۔ فضل محمود نے چورانوے رنز دے کر بارہ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ تو تھی ٹیسٹ میچوں میں ایک دوسرے کے خلاف پہلی جیت اور پہلی ہار۔ لیکن پہلی ٹیسٹ سیریز بھارت نے پانچ میچوں میں سے دو میچ جیت کر ایک۔دو سے جیت لی۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز پاکستان کی سرزمین پر 1978 میں اور 87-1986 میں بھارت کی سرزمین پر پہلی بار جیتی۔ عمران خان کی قیادت میں مدراس ، کولکتہ، جے پور اور احمد آباد کا ٹیسٹ برابر ہونے کے بعد بنگلور کے چیناسوامی سٹیڈیم میں سولہ رنز سے پانچواں اور آخری ٹیسٹ جیت کر سیریز صفر۔ایک سے جیت لی۔
بھارت کو جیتنے کے لیے پاکستان نے 221 رنز کا ٹارگٹ دیا تھا لیکن بھارت کی ٹیم 204 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کے سپنر اقبال قاسم اور توصیف احمد کی تباہ کن بالنگ کے سامنے کوئی بھی جم کر نہیں کھیل سکا لیکن دنیا کے مایہ ناز بیٹسمین سنیل گواسکر نے اپنے کیرئر کی آخری اننگز کھیلتے ہوئے 96 رن بنائے لیکن وہ بھی بھارت کو شکست سے نہ بچا سکے۔ اس میچ کے بعد گواسکر نے 125 ٹیسٹ کھیل کر اور 34 ٹیسٹ سینچریاں بنا کر کرکٹ کو خیرباد کہا۔ اقبال قاسم نے اس میچ میں نو وکٹیں لیں اور توصیف احمد نے بھی میچ میں نو وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت نے پہلی بار 1955 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا لیکن کبھی کوئی سیریز نہیں جیتی لیکن 2004 میں بھارت نے جب سررو گنگولی کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تو پہلی دفعہ پاکستان کی سرزمین پر نہ صرف ٹیسٹ جیتا بلکہ سیریز بھی۔ ملتان ٹیسٹ میں بھارت کی ٹیم نے پاکستان کو ایک اننگز اور 52 رنز سے شکست دی۔ وریند سہواگ نے 309 رنز بناتے ہوئے بھارت کے پہلے بیٹسمین بنے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سینچری بنائی ہو۔ سچن تندولکر نے 196 رنز بنائے۔ لاہور ٹیسٹ پاکستان نے نو وکٹوں سے جیت لیا۔ انضمام الحق کی سینچری اور عمران فرحت کے 101 نے بھارت کے بالروں کو بے بس کر دیا۔ راولپنڈی میں کھیلے جانے والے آخری ٹیسٹ میں بھارت نے ایک اننگز اور 31 رنز سے میچ جیت کر سریز دو ایک سے جیت کر پہلی دفعہ پاکستان میں ٹیسٹ سیریز جیتی۔ بھارت نے اس کے علاوہ ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کو ہرا دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارت آنے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو پاکستان کی سرزمین پر ہرا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی کہانی24 February, 2004 | کھیل خواب جو حقیقت بن گیا01 April, 2004 | کھیل ٹرپل سنچری بنانے والے پہلے انڈین30 March, 2004 | کھیل ٹرپل سنچری بنانے والے پہلے انڈین29 March, 2004 | کھیل لٹل ماسٹر، کرکٹ کے مہمان 22 February, 2005 | کھیل حنیف محمد کی خواہش25 March, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||