پاک بھارت ٹیسٹ کرکٹ، تاریخ کے آئینے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا موجودہ دورۂ بھارت گزشتہ چھ برس میں پہلا اور 53 / 1952 کے افتتاحی دورے کے بعد سے چھٹا دورہ ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک بھارتی سر زمین پر ستائیس ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں جن میں سے بھارت نے پانچ جبکہ پاکستان نے چار میچ جیتے ہیں۔ بقیہ اٹھارہ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔ 1952 / 53 سیریز پانچ ٹیسٹ ، نتیجہ: بھارت فاتح 1 - 2 اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھارتی آل راؤنڈر ونو منکڈ کی تباہ کن بولنگ کی بدولت لالہ امرناتھ کے سربراہی میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کو اننگز کی شکست سے دوچار کیا۔ منکڈ نے میچ میں 131 رنز کے عوض 13 کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا۔
لکھنؤ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں جیت پاکستان کے حصے میں آئی اور فتح گر تھے فضل محمود اور نذر محمد۔ اس میچ میں فضل محمود نے 94 رنز دے کر 12 بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ نذر محمد کے ناقابلِ شکست 124 رن اس میچ میں بھارتی ٹیم کی اننگز کی شکست کی ایک بڑی وجہ تھے۔ تیسرے ٹیسٹ میں حالات پھر بھارت کے لیے موافق ثابت ہوئے اور وجے ہزارے اور پولی امریگر کے سینچریوں کی بدولت بمبئی ٹیسٹ بھارت 10 وکٹ سے جیت گیا۔ مدراس میں کھیلا جانے والا چوتھا ٹیسٹ بارش کی نذر ہو گیا جبکہ کلکتہ کا آخری ٹیسٹ پاکستان کی آہستہ بلے بازی کی وجہ سے ڈرا ہو گیا اور یوں بھارت نے ان دونوں ممالک کے درمیان کھیلی جانے والی پہلی سیریز 1 - 2 سے جیت لی۔ 1960 / 61 سیریز پانچ ٹیسٹ نتیجہ: برابر 0 - 0 گو کہ بمبئی ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان کی جانب سے حنیف محمد اور سعید احمد نے سنچریاں بنائیں مگر بارش کی بنا پر یہ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔
کانپور ٹیسٹ میں اگرچہ بارش تو نہیں ہوئی تاہم پاکستانی بلے بازوں نے پہلی اننگز میں 200 اوور کھیل کر 335 رن بنائے اور میچ بے نتیجہ ہی رہا۔ کلکتہ ٹیسٹ میں پاکستانی کپتان فضل محمود کی جانب سے اننگز ڈکلیئر کرنے کے فیصلے نے میچ کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان تو پیدا کیا مگر بھارت نے فی اوور 5 رن کی اوسط سے 268 رنز کے ہدف کے حصول کی کوشش کی ہی نہیں اور یہ میچ بھی ڈرا ہو گیا۔ مدراس کی بیٹنگ وکٹ پر دونوں ممالک نے اپنی پہلی اننگز میں بڑے سکور بنائے تاہم نتیجہ وہی رہا اور یہ میچ بھی ڈرا ہو گیا۔ اس سیریز کا آخری ٹیسٹ دہلی میں کھیلا گیا۔ اس میچ میں امریگر کی سنچری کی بدولت بھارت نے 463 رن کا بڑا سکور بنایا اور پھر ومن کمار کی شاندار بولنگ کی بدولت پاکستان کو فالو آن پر مجبور کر دیا لیکن ناری کنٹریکٹر کی ٹیم پاکستان کو دوسری اننگز میں آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 127 اوورز میں صرف 250 رن بنائے اور یہ میچ بھی بے نتیجہ رہا۔ 1979 / 80 سیریز چھ ٹیسٹ نتیجہ: بھارت فاتح 0 - 2 اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ بنگلور میں کھیلا گیا اور مدثر نذر کی سنچری کے سوا اس بے نتیجہ میچ میں کچھ خاص نہ تھا۔
دہلی ٹیسٹ اگرچہ ہار جیت کے فیصلے کے بنا ہی ختم ہوا لیکن میچ کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال نے اسے نہایت دلچسپ پنا دیا تھا۔آصف اقبال کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم کپل دیو کی بولنگ کا نشانہ بنی اور پہلی اننگز میں 273 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ کپل نے اس اننگز میں 58 رن دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بھارتی اننگز میں پاکستانی بولر سکندر بخت نے تن تنہا پوری بھارتی ٹیم کو مشکلات کا شکار رکھا۔انہوں نے 69 رنز کے عوض 8 کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا اور بھارتی ٹیم 41.5 اوورز میں 126 رن بنا کر ڈھیر ہوگئی۔دوسری اننگز میں پاکستان کو 242 رن پر آؤٹ کر لینے کے بعد بھارت کو فتح کے لیے 390 رنز کا ہدف ملا جبکہ ان کا سامنا ایسے پاکستانی بولنگ اٹیک سے تھا جس میں عمران خان زخمی ہونے کی وجہ سے شامل نہیں تھے لیکن 131 اوور کے کھیل اور دلیپ وینگسارکر کی 146 رنز کی شاندار اننگز کے باوجود میچ اس وقت برابری پر ختم ہوا جب بھارت کو جیت کے لیے 26 رن چاہیے تھے۔ خراب موسم نے کانپور کے چوتھے ٹیسٹ کو تو بے نتیجہ بنا دیا لیکن مدراس میں بھارت نے 10 وکٹ سے فتح حاصل کر کے یہ سیریز جیت لی۔ مدراس ٹیسٹ میں سنیل گواسکر نے 166 رنز بنائے جبکہ کپل دیو نے اس میچ میں144 رنز کے عوض 11 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ 1983 / 84 سیریز تین ٹیسٹ نتیجہ: برابر 0 - 0 کلکتہ ٹیسٹ میں گو کہ سات گھنٹے کا کھیل بارش سے متاثر ہوا تاہم یوں لگتا تھا کہ کسی بھی ٹیم کو جیتنے کی جلدی نہیں ہے۔ پہلی اننگز میں دونوں ممالک کے سکور کا فرق 13 رن تھا لیکن دوسری اننگز میں گواسکر کی اٹھائسویں ٹیسٹ سنچری ریکارڈ بک میں ایک اور ڈرا میچ درج کروانے کا باعث بنی۔
جالندھر میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں جہاں بارش نے میچ کو نتیجہ خیز بنانے میں رخنہ اندازی کی وہاں بھارتی بلے باز انوشمن گائیکواڈ کا بھی اس ٹیسٹ کو ڈرا کرنے میں بہت عمل دخل تھا۔ گائیکواڈ کے 201 رن اس وقت تک کی سب سے سست رفتار ڈبل سنچری تھی۔ تین ٹیسٹوں کی اس سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ ناگپور میں کھیلا گیا اور پاکستان کی فتح میں بارش ایک رکاوٹ بنی۔ آخری اننگز میں پاکستان کو فتح کے لیے صرف 186 رنز درکار تھے مگر بارش نے یہ فتح پاکستان کے ہاتھوں سے چھین لی۔ اس میچ میں پاکستان کی جانب سے ظہیر عباس نے پہلی اننگز میں پچاسی رن بنائے جبکہ دوسری اننگز میں محمد نذیر جونئیر نے بہتر رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ 1986 / 87 سیریز پانچ ٹیسٹ نتیجہ: پاکستان فاتح 0 - 1 سنہ چھیاسی، ستاسی کی یہ سیریز پاکستان کے لیے یوں اہم ہے کہ یہ وہ واحد سیریز ہے جس میں پاکستان نے بھارت کو بھارت میں ہرایا اور یوں عمران خان وہ واحد پاکستانی کپتان بنے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
عمران اس پوری سیریز میں شاندار فارم میں تھے۔ مدراس میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں عمران نے 135 رن کی اننگز کھیلی جس میں 14 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ کلکتہ ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کو سخت مشکلات میں رکھا۔ محمد اظہر الدین نے پہلے تو 141 رنز بنائے اور اس کے بعد راجر بنی نے 56 رنز کے عوض 6 پاکستانی کھلاڑی آؤٹ کر کے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ جیت کے لیے پاکستان کو 356 رن کا ہدف ملا لیکن کھیل ختم ہونے تک پاکستان نے 5 وکٹ کے نقصان پر 179 رن بنائے اور یہ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بنا ہی ختم ہو گیا۔ سیریز کا تیسرا ٹیسٹ جے پور میں کھیلا گیا اور بھارت نے پہلی اننگز میں اظہر الدین اور روی شاستری کی سنچریوں کی بدولت 465 رنز بنائے۔ پاکستان نے جواب میں 341 رن بنائے جس میں رمیز راجہ کے 114 رن بھی شامل تھے لیکن پھر بارش نے اس میچ کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیا۔ احمد آباد میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلے دو دن بیٹنگ کی اور اعجاز فقیہہ کی سنچری کی بدولت 395 رنز بنا ڈالے۔ بھارتی اننگز میں پاکستان کے جانب سے وسیم اکرم نے 60 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا لیکن میچ ڈرا ہوگیا۔ اس سیریز کا آخری اور فیصلہ کن میچ بنگلور کی سپن وکٹ پر کھیلا گیا اور دونوں ممالک کے سپن بالروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کی پہلی اننگز صرف 166 رنز پر سمٹ گئی جب منندر سنگھ نے 27 رنز کے عوض 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ دلیپ وینگسارکر کی نصف سنچری کی بدولت بھارت نے 4 وکٹ کے نقصان پر یہ ہدف تو عبور کیا لیکن پھر پاکستانی سپن بالروں اقبال قاسم اور توصیف احمد نے بھارت کی آخری چھ وکٹیں 19 رن کے عوض اڑا دیں۔ اقبال قاسم نے 48 رن دے کر 5 جبکہ توصیف نے 54 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں پاکستان نے 249 رن بنائے اور جیتنے کے لیے بھارت کو 221 رن کا ہدف دیا۔ گو کہ یہ ایک آسان ہدف تھا لیکن گواسکر کے 96 رن کے باوجود بھارتی ٹیم پاکستانی سپن بالروں کا شکار ہوگئی اور پاکستان نے یہ میچ 16 رن سے جیت لیا۔ 1998 / 99 سیریز دو ٹیسٹ ، نتیجہ: برابر 1 - 1 چنائی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انیل کملے نے 70 رن دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن ان کی یہ کارکردگی بھی بھارت کو شکست سے نہ بچا سکی۔ پاکستان کے دوسری اننگز میں شاہد آفریدی نے 141 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور پاکستان نے بھارت کو میچ جیتنے کے لیے 271 رنز کا ہدف دیا۔
بھارت کی دوسری اننگز میں سچن تندولکر نے 136 رن بنائے لیکن بھارت کی پوری ٹیم 258 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یوں پاکستان 12 رن سے یہ میچ جیت گیا۔ پاکستان کی جانب سے ثقلین مشتاق نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس مختصر سیریز کا دوسرا ٹیسٹ دہلی مںی کھیلا گیا اور بھارتی سپن بالر انیل کمبلے کے نام رہا۔ پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے 420 رن کا ہدف ملا لیکن کمبلے نے تاریخ ساز بالنگ کرتے ہوئے پاکستان کی تمام وکٹیں حاصل کر کے برطانوی بالر جم لیکر کا تنتالیس سال پرانا ریکارڈ برابر کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||