دانش کی ’عقل‘ کی باتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوبیس سال کی عمر میں دانش کنیریا ایک باصلاحیت بولر سے پاکستان کی بولنگ یونٹ کے اہم ستون کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا میں ہونے والی سیریز میں وہ ٹیم کے واحد سپیشلسٹ سپنر تھے جہاں انہوں نے لمبے سپیل کیے۔ جو ان کے لیے مفید بھی ثابت ہوئے۔ آسٹریلیا میں تین ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے کل 150 اوور کیے اور 33.37 کی اوسط سے 15 وکٹ حاصل کیے جس میں سڈنی میں 188 رنز دے کر سات وکٹ بھی شامل ہیں۔ اس میچ میں انہوں نے کل 49.3 اوورز کیے۔ اب ان کے کندھوں پر ان کے ٹیسٹ کیریئر کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ ان کی کاؤنٹی ایسکس کے کپتان رونی ایرانی کا کہنا ہے کہ کنیریا میں اس چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کنیریا ’دنیا کے نمبر ون سپن بولر بن سکتے ہیں‘۔
رونی ایرانی نے کہا کہ ان کے خیال میں دانش کنیریا بھارت میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ وکٹ حاصل کرنے والے بولر ہوں گے۔ کنیریا کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے دورے سے ان میں بہت اعتماد آیا ہے۔ ’میں چیلنج قبول کرنے کے لیے سو فیصد سے زیادہ تیار ہوں‘۔ انہوں نے سیزن میں اتنی اچھی کارکردگی دکھائی کہ ایسکس نے ان کے ساتھ دو سال کا نیا معاہدہ سائن کر لیا ہے۔ کنیریا کہتے ہیں کہ ان کا ٹارگٹ ’راہول ڈراوڈ‘ کی صورت میں ان کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ بھارتی سپنر پاکستانی سپنروں سے بہتر ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک طرح سے اچھا بھی ہے کیونکہ ہمارے ذہنوں پر اچھا پرفارم کرنے کا اتنا دباؤ نہیں ہو گا اور ہم بغیر دباؤ کے کھیلیں گے۔ اب دانش کتنی عقل کی بات کر رہے ہیں یہ تو آنے والے میچز سے پتا چل جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||