BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 November, 2004, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کنیریا کا جادو سرچڑھ کر بولا

دانش کنیریا
دانش کنیریا ایک منجھے ہوئے باولر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں
جس طرح ایک مصور اپنی انگلیوں میں دبائے برش سے شاہکار تخلیق کرتا ہے اسی طرح ایک لیگ اسپنر کی انگلیوں اور کلائی کے امتزاج سے شاندار کارکردگی جنم لیتی ہے۔

سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ایک ایسی ہی متاثرکن کارکردگی دانش کنیریا کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے جس نے پاکستان کی جیت میں جو بیٹسمینوں نے بہت مشکل بنادی تھی اہم کردار ادا کیا۔

دانش کنیریا کے لئے یہ میچ اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگیا تھا کہ پاکستانی بولنگ اٹیک شعیب اختر اور محمد سمیع سے محروم ہونے کے بعد عبدالرزاق رانا نوید الحسن اور ریاض آفریدی کی موجودگی میں زیادہ موثر نظر نہیں آرہا تھا۔

لیکن پہلی اننگز میں پاکستانی بولرز سری لنکا کو صرف208 رنز پر محدود رکھنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس میں عبدالرزاق کی پانچ وکٹوں کے بعد دوسری بہترین کارکردگی دانش کنیریا کی طرف سے دیکھنے میں آئی جنہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں لیکن دوسری اننگز میں جب بیٹنگ کے لئے سازگار وکٹ پر دوسرے بولرز جے سوریا کے سامنے بے بس دکھائی دیتے تھے۔

دانش کنیریا کا جادو سرچڑھ کر بولا اور وہ چوتھے دن چھ وکٹیں حاصل کرکے پاکستانی ٹیم کو جیت کی راہ پر لے آئے جو ایک موقع پر اس سے ہٹ چکی تھی۔

میچ کے آخری دن انہوں نے مزید ایک وکٹ حاصل کی یوں انہوں نے118 رنز کے عوض7 وکٹیں حاصل کیں جبکہ میچ میں انہوں نے دس وکٹیں 190 رنز دے کر حاصل کیں۔

دانش کنیریا پاکستان کی طرف سے20 ٹیسٹ کھیل چکے ہیں جن میں ان کی وکٹوں کی تعداد 87 ہوگئی ہے ابتدا میں ان کی عمدہ کارکردگی کو محض اس لئے اہمیت نہیں دی گئی کہ ان کی وکٹوں کی اکثریت بنگلہ دیش کے خلاف تھی۔

لیکن نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف بھی کنیریا نے اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کی جیت میں انہوں نے پہلی اننگز میں ہرشل گبز اور یاک کیلس کی وکٹوں کے بعد دوسری اننگز میں46 رنز کے عوض5 کھلاڑی آؤٹ کرکے بخوبی ادا کیا جس نے اس تاثر کی نفی کردی کہ کنیریا صرف کمزور بیٹنگ لائن کو ہی آؤٹ کرسکتے ہیں۔

تیس سالہ دنیش پرابھو شنکر کنیریا کا تعلق ہندو برادری سے ہے تاہم وہ خود کو دانش کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے ایک کزن انیل دلپت بھی ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں لیکن کنیریا نے ان کی طرح وکٹ کیپنگ کے بجائے ہمیشہ سے لیگ اسپن بولنگ کو ترجیح دی اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ کراچی کی گلیوں سے کرکٹ شروع کرنے والے اس نوجوان نے عبدالقادر کو اپنا آئیڈیل بنایا ہوا تھا اور وہ انہی کی طرح کامیابیاں حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ ان کے انکل نے لیگ اسپن میں ان کی بہت رہنمائی کی اور جب وہ پاکستانی ٹیم میں آئے تو مشتاق احمد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اعتماد سے بولنگ کرو۔

دانش کنیریا اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ان کی ہمیشہ سے کوشش رہتی ہے کہ ان کی بولنگ ٹیم کی جیت میں اپنا کردار ادا کرے۔

دانش کنیریا دوسال سے انگلش کاؤنٹی ایسیکس کی بھی نمائندگی کررہے ہیں اس دوران ان کی کارکردگی میں خاصا نکھار آیا ہے اور وہ بین الاقوامی کرکٹ کے سخت چیلنج سے عہد برا ہونے کے لئے خود کوتیار رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد