غزہ میں تشدد، میچل اسرائیل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے امریکی سفیر جارج میچل اسرائیل کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ غزہ میں فلسطینی شدت پسندوں اور اسرائیلی افواج کے درمیان مسلح جھڑپوں کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔ جارج میچل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے مذاکرات کریں گے۔ لیکن وہ حماس سے بات چیت نہیں کریں گے جس کا غزہ پر کنٹرول ہے۔ امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ جارج میچل کے دورے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے معاملے میں پیش رفت کے لیے فریقین سے ان کی رائے جاننا ہے۔ جارج میچل کے دورے سے ایک دن قبل حماس کے کارکنوں نے ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا جس کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے مصر کے ساتھ لگنے والی غزہ کی سرحد پر حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو نشانہ بنایا جس کے ذریعے اسرائیل کے مطابق حماس کے کارکن ہتھیاروں کی اسمگلِنگ کرتے ہیں۔ اسرائیلی میزائلوں سے بچنے کے لیے رفع شہر کے باشندے اپنے گھروں سے بھاگنا شروع ہوئے۔ فلسطینی شہر خان یونس کے اطراف میں منگل کے روز ہونے والی لڑائی میں طبی ذرائع کے مطابق ایک فلسطینی ہلاک ہوگیا۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تازہ لڑائی سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین فائربندی کتنی کمزور ہے۔
جارج میچل آئندہ دو روز اسرائیل اور فلسطین کے اعلیٰ رہنماؤں سے اس بات پر مذاکرات کریں گے کہ خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے کیا کیا جائے۔ اسرائیلی رہنما یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی کیا رائے ہے اور امریکہ ایران کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لیے کیا کرے گا۔ چونکہ آئندہ ماہ اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ جارج میچل اپنا زیادہ تر وقت فریقین کی رائے جاننے میں صرف کریں گے جیسا کہ ان سے صدر اوباما نے کرنے کو کہا ہے۔ قاہرہ میں صدر حسنی مبارک سے بات چیت کے بعد جارج میچل نے کہا تھا کہ یہ کافی اہم ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان فائربندی میں توسیع کی جائے اور اسے مستحکم بنایا جائے۔ جارج میچل نے کہا تھا کہ صرف ایک ہفتے کے اندر ہی صدر اوباما کی جانب سے ان کی مشرق وسطیٰ کے سفیر کے طور پر تقرری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نئے امریکی صدر خطے میں مستقل قیام امن کے خواہاں ہیں۔ غزہ میں تین ہفتوں کی لڑائی کے بعد اسرائیل نے سترہ جنوری کو یکطرفہ فائربندی کا اعلان کیا تھا جس کے ایک روز بعد حماس نے بھی فائربندی کا اعلان اس شرط پر کیا کہ اسرائیلی فوجی ایک ہفتے کے اندر غزہ سے نکل جائیں۔ فائربندی کے بعد تشدد کا پہلا واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ حماس کی کارروائی میں اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد کیے جانے والے اسرائیلی حملے اسرائیل کی جانب سے ابتدائی کارروائی ہیں اور مکمل کارروائی بعد میں کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیلی فوج کے لیے ریاستی تحفظ‘26 January, 2009 | آس پاس ’غیر جانبداری متاثر ہوگی‘26 January, 2009 | آس پاس قصور حماس کا ہے: یورپی اتحاد27 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پھر فضائی حملہ27 January, 2009 | آس پاس غزہ میں سرنگوں پر اسرائیل کا حملہ28 January, 2009 | آس پاس ایدھی غزہ کے امدادی مشن پر26 January, 2009 | آس پاس ’حقیقی تبدیلی درکار، ماضی کے لیے معافی‘28 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||