BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2009, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ میں تشدد، میچل اسرائیل میں
مصر میں جارج میچل نے صدر حسنی مبارک سے بات چیت کی
مصر میں جارج میچل نے صدر حسنی مبارک سے بات چیت کی
مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے امریکی سفیر جارج میچل اسرائیل کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ غزہ میں فلسطینی شدت پسندوں اور اسرائیلی افواج کے درمیان مسلح جھڑپوں کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔

جارج میچل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے مذاکرات کریں گے۔ لیکن وہ حماس سے بات چیت نہیں کریں گے جس کا غزہ پر کنٹرول ہے۔

امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ جارج میچل کے دورے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے معاملے میں پیش رفت کے لیے فریقین سے ان کی رائے جاننا ہے۔

جارج میچل کے دورے سے ایک دن قبل حماس کے کارکنوں نے ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا جس کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے مصر کے ساتھ لگنے والی غزہ کی سرحد پر حملے کیے۔

اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو نشانہ بنایا جس کے ذریعے اسرائیل کے مطابق حماس کے کارکن ہتھیاروں کی اسمگلِنگ کرتے ہیں۔ اسرائیلی میزائلوں سے بچنے کے لیے رفع شہر کے باشندے اپنے گھروں سے بھاگنا شروع ہوئے۔

فلسطینی شہر خان یونس کے اطراف میں منگل کے روز ہونے والی لڑائی میں طبی ذرائع کے مطابق ایک فلسطینی ہلاک ہوگیا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تازہ لڑائی سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین فائربندی کتنی کمزور ہے۔

حالیہ اسرائیلی کارروائی میں تیرہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں
نئے امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے ہی جارج میچل کو مشرقِ وسطی کے لیے امریکی سفیر مقرر کیا ہے۔ اسرائیل جانے سے قبل جارج میچل قاہرہ گئے جہاں انہوں نے مصر کے صدر حسنی مبارک سے بات چیت کی۔ صدر حسنی مبارک حماس اور اسرائیل کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

جارج میچل آئندہ دو روز اسرائیل اور فلسطین کے اعلیٰ رہنماؤں سے اس بات پر مذاکرات کریں گے کہ خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے کیا کیا جائے۔

اسرائیلی رہنما یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی کیا رائے ہے اور امریکہ ایران کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لیے کیا کرے گا۔

چونکہ آئندہ ماہ اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ جارج میچل اپنا زیادہ تر وقت فریقین کی رائے جاننے میں صرف کریں گے جیسا کہ ان سے صدر اوباما نے کرنے کو کہا ہے۔

قاہرہ میں صدر حسنی مبارک سے بات چیت کے بعد جارج میچل نے کہا تھا کہ یہ کافی اہم ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان فائربندی میں توسیع کی جائے اور اسے مستحکم بنایا جائے۔

جارج میچل نے کہا تھا کہ صرف ایک ہفتے کے اندر ہی صدر اوباما کی جانب سے ان کی مشرق وسطیٰ کے سفیر کے طور پر تقرری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نئے امریکی صدر خطے میں مستقل قیام امن کے خواہاں ہیں۔

غزہ میں تین ہفتوں کی لڑائی کے بعد اسرائیل نے سترہ جنوری کو یکطرفہ فائربندی کا اعلان کیا تھا جس کے ایک روز بعد حماس نے بھی فائربندی کا اعلان اس شرط پر کیا کہ اسرائیلی فوجی ایک ہفتے کے اندر غزہ سے نکل جائیں۔

فائربندی کے بعد تشدد کا پہلا واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ حماس کی کارروائی میں اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد کیے جانے والے اسرائیلی حملے اسرائیل کی جانب سے ابتدائی کارروائی ہیں اور مکمل کارروائی بعد میں کی جائے گی۔

اوباما کے ایلچیاوباما کے ایلچی
امریکی صدر کے نامزد کردہ نمائندوں کا تعارف
اوباماذمہ داری اوباما پر
غزہ میں فوجی کارروائی کون بند کرائے گا؟
اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
تاریخ کی ٹرین
کلرڈ یا رنگدار لوگوں کی اتنی اکثریت پہلی بار
فلسطینیغزہ فائربندی
فلسطینیوں کی تباہ حال بستیوں میں واپسی
امیرۃ کِرچی کِرچی زندگیاں
’ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ دو راتیں گلی میں گزاریں ‘
رفاعغزہ:عینی شاہد
غزہ کی کہانی بی بی سی نامہ نگار کی زبانی
اسی بارے میں
غزہ میں پھر فضائی حملہ
27 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد