’اسرائیلی فوج کے لیے ریاستی تحفظ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ وہ ایک خصوصی قانونی ٹیم تشکیل دے رہے ہیں تاکہ اگر غزہ میں کارروائی میں شامل کسی اسرائیلی فوجی پر جنگی جرائم کا الزام لگایا گیا تو اسے بیرونِ ملک مقدمے کا سامنا کرنے سے بچانے کے لیے ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ایہود اولمرٹ نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے فوجیوں کا دفاع کرے گی اور ملک کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے فوجیوں کو بیرونِ ملک جنگی جرائم کے مقدمات کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضروررت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان کا عمل ملک کی حفاظت کے لیے تھا اور اسرائیل ان کی حفاظت کرے گا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’ وہ کمانڈر اور فوجی جنہیں غزہ مشن پر بھیجا گیا یہ جان لیں کہ وہ کسی بھی ٹرائبیونل سے محفوظ ہیں اور اسرائیلی ریاست اس معاملے میں ان کی مدد کرے گی اور ان کی حفاظت کرے گی‘۔ خیال رہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں سے شہری ہلاکتوں کے ملنے والے شواہد کی بناء پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو بین لاقوامی چھان بین کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے غزہ پر حملے کے دوران تیرہ سو سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اقوامِ متحدہ چاہتا ہے کہ اس بات کی آزادانہ تحقیق کی جائے کہ آیا اس دوران جنگی جرائم سرزد ہوئے ہیں کہ نہیں۔
حقوقِ انسانی کے گروپوں کی جانب سے کی جانے والی شکایات میں اسرائیل کو بلاتفریق فائرنگ اور شہری آبادی پر سفید فاسفورس بموں کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں سفید فاسفورس بموں کے استعمال کا اعتراف تو کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق میدانِ جنگ میں سفید فاسفورس کا استعمال کھلے میدان میں دھوئیں کی چادر تاننے کے لیے کیا جا سکتا ہے لیکن صحافیوں اور حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اسرائیل نے یہ بم پر ہجوم شہری علاقوں میں استعمال کیے۔ اسرائیل نے اٹھارہ جنوری کو غزہ میں فوجی کارروائی بند کی تھی اور حماس نے چند گھنٹے بعد ہی فائر بندی کا اعلان کر دیا تھا۔ ادھر حماس کے اراکین غزہ کی پٹی میں نافذ غیر مستحکم جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے لیے مصر کے اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حماس کے مخالف گروپ الفتح کے نمائندے بھی مفاہمت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے مصر جانے والے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے مصر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک مذاکرات کار کا کام کیا ہے۔ اسرائیل حماس کو ایک شدت پسند تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتا آیا ہے۔ مصر کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے مصر کے خفیہ چیف عمر سلیمان حماس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ اس سے پہلے جمعرات کوقاہرہ میں اسرائیلی ایلچی سے بھی بات چیت کر چکے ہیں۔
اس بات چیت کا مقصد جنگ بندی کا معاہدہ کر کے فی الوقت غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے لیکن حماس کو مطمئن کرنے کے لیے اس معاہدے میں ایسا منصوبہ شامل کرنا ہوگا جس کے تحت غزہ سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے۔ دوسری طرف برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک اجلاس میں فلسطینی دھڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات حل کرکے یک زبان ہو کر بات کریں۔ حماس کا کیش غزہ میں حماس ان افراد کو پیسے دینے شروع کر دیے ہیں جن کے یا تو رشتہ دار جنگ کے دوران ہلاک ہوئےہیں یا پھر ان کا کوئی مالی نقصان ہوا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ رقم کی ادائیگی ہر انسان کے نقصان کے مطابق ہو گی ناکہ اس بات پر کہ اس کی سیاسی وابستگی کیا ہے۔ تاہم غزہ میں بی بی سی کے علیم مقبول کا کہنا ہے کہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ اسے حمایت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جائے۔ |
اسی بارے میں ’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘22 January, 2009 | آس پاس فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا21 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر19 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل کی فائربندی کا اعلان جلد‘ 17 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||