غزہ میں سرنگوں پر اسرائیل کا حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی علاقے غزہ میں شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے مصری علاقے رفاہ کی سرحد پر غزہ میں واقع سرنگوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ یہ سرنگیں ہتھیار اور دوسری اشیاء کی سمگلنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی ہے۔ اسرائیل گزشتہ دنوں تقریباً تین ہفتے تک ان سرنگوں کو بمباری کا نشانہ بناتا رہا ہے تاہم وہ انہیں مکمل طور پر تباہ نہیں کرسکا۔ اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان لے جانے والے قافلوں کو بھی روک رکھا ہے۔ بدھ کے حملے سے پہلے گزشتہ روز جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائی نے اس وقت بمباری کی جب اس کا ایک فوجی ایک دھماکے میں ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر بھی غزہ کی پٹی میں داخل ہوگئے تھے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق خان یونس شہر کے اطراف زبردست جھڑپیں ہوئی تاہم بعد میں اسرائلی فوجی واپس چلے گئے۔ ایک اطلاع کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ اس کے ایک رہنما زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں دس دن قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا پرتشدد واقع ہے۔ غزہ پر تین ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جن میں سے تین فوجی اپنی فوج کی طرف سے ہی چلائے جانے والے گولے کا نشانہ بن گئے تھے۔ جبکہ فلسطینی اسپتال ذرائع کے مطابق اسرائیلی کارروائی سے تیرہ سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے زیادہ تر عام شہری تھے جبکہ اسرائیل کا دعوٰی ہے کہ ان میں اکثریت حماس کے جنگجوؤں کی تھی۔ پچھلے دنوں دونوں فریقوں نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد منگل کا دن خون ریز ثابت ہوا۔ تشدد کے حالیہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب نئے امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی ایلچی جارج میچل مستقل معاہدے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں اور آج سے وہ بعض عرب، فلسطینی اور اسرائیلی راہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم غزہ پر کنٹرول رکھنے والی حماس سے ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائل کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ میں پھر فضائی حملہ27 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیلی فوج کے لیے ریاستی تحفظ‘26 January, 2009 | آس پاس ’غیر جانبداری متاثر ہوگی‘26 January, 2009 | آس پاس حماس’جنگ بندی بات چیت پر تیار‘25 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||