BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس’جنگ بندی بات چیت پر تیار‘
غزہ کا انسانی بحران
اسرائیل بمباری میں 13000 فلیسطینی ہلاک ہوئے تھے۔

حماس کے اراکین غزہ کی پٹی میں نافذ غیر مستحکم جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے لیے مصر کے اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

حماس کے مخالف گروپ الفتح کے نمائندے بھی مفاہمت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے مصر جانے والے ہیں۔

حماس نے اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے بعدگزشتہ ہفتے غزہ میں وقتی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائی میں کم از کم 1300 فلیسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس آپریشن کے دوران 13 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے جس میں تین اسرائیلی شہری تھے۔

ایک طویل عرصے سے مصر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک مذاکرات کار کا کام کیا ہے۔ اسرائیل حماس کو ایک شدت پسند تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتا آیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے مصر کے خفیہ چیف عمر سلیمان حماس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ اس سے پہلے جمعرات کوقاہرہ میں اسرائیلی ایلچی سے بھی بات چیت کرچکے ہیں۔

اس بات چیت کا مقصد جنگ بندی کا معاہدہ کر کے فی الوقت غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے لیکن حماس کو مطمئن کرنے کے لیے اس معاہدے میں ایسا منصوبہ شامل کرنا ہوگا جس کے تحت غزہ سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے۔

 غزہ میں اسرائیلی بمباری کے درمیان جو اسکول اور سرکاری وزارت تباہ نہیں ہوئے تھے انہیں سنیچر کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ غزہ میں امدادی کام کرنے والی عالمی امدادی اداروں نے مشترکہ اپیل کی ہے کہ انہیں غزہ پٹی تک بنا کسی روکاوٹ کے جانے دیا جائے۔

سنہ2007 میں حماس کے غزہ پر قبضہ کرنے کے بعد اسرائیل اور مصر نے اس سرحد کو بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سرحد کو تب ہی کھولیں گے جب حماس اس بات پر راضی ہوجائے کہ اس سرحد پر اسلحہ کی اسمگلنگ پر قابو پانی کے لیے نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔

دریں اثناء برسلز میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ اپنے فلسطینی،مصری، اردنی اور ترک ہم منصبوں سے ملاقات میں مشرقہ وسطٰی کے لیے عرب ممالک سے مزید اپیل کے طریقۂ کار پر غور کریں گے۔ وزارئے خارجہ غزہ میں جنگ بندی کے حالات پر بھی بات کریں کے اور غزہ متاثرین کے لیے مزید امداد بڑھانے پر غور کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے امریکی صدر باراک اوباما کے مشرقِ وسطٰی کے خصوصی ایلچی جارج مچل بدھ سے خطے کا دورہ کریں گے۔ جارج مچل مصر، اسرائیل، غرب اردن اور اردن کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے لیکن سفارتکاروں نے ان کے حماس کی قیادت سے براہ راست ملاقات کے امکانات کو خارج کردیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری کے درمیان جو اسکول اور سرکاری وزارت تباہ نہیں ہوئے تھے انہیں سنیچر کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ غزہ میں امدادی کام کرنے والی عالمی امدادی اداروں نے مشترکہ اپیل کی ہے کہ انہیں غزہ پٹی تک بنا کسی روکاوٹ کے جانے دیا جائے۔

اسی دوران بی بی سی سے دوبارہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ متاثرین کے لیے امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ برطانوی ٹی وی چینلوں آئی ٹی وی، چینل فور اور چینل فائیو نے غزہ کے متاثرین کے لیے امداد اپیل نشر کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ بی بی سی نے کہا تھا کہ اُسے اس بات پر شک ہے کہ امداد غزہ کے متاثرین تک پہنچ سکے گی اور بی بی سی نہیں چاہتا کہ عوامی سطح پر اس کی غیر جانبداری پر کوئی اثر پڑے۔

غزہ، کب کیا ہوا
فوجی کارروائی کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات
غزہ کے مسئلے پر
فرانسیسی مسلمان اور یہودیوں میں تناؤ
 غزہاسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
یو اینیو این ڈائری
غزہ سفارتکاری میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم
اسی بارے میں
بان کی مون غزہ کے دورے پر
20 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد