حماس’جنگ بندی بات چیت پر تیار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کے اراکین غزہ کی پٹی میں نافذ غیر مستحکم جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے لیے مصر کے اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حماس کے مخالف گروپ الفتح کے نمائندے بھی مفاہمت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے مصر جانے والے ہیں۔ حماس نے اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے بعدگزشتہ ہفتے غزہ میں وقتی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائی میں کم از کم 1300 فلیسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس آپریشن کے دوران 13 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے جس میں تین اسرائیلی شہری تھے۔ ایک طویل عرصے سے مصر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک مذاکرات کار کا کام کیا ہے۔ اسرائیل حماس کو ایک شدت پسند تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتا آیا ہے۔ مصر کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے مصر کے خفیہ چیف عمر سلیمان حماس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ اس سے پہلے جمعرات کوقاہرہ میں اسرائیلی ایلچی سے بھی بات چیت کرچکے ہیں۔ اس بات چیت کا مقصد جنگ بندی کا معاہدہ کر کے فی الوقت غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے لیکن حماس کو مطمئن کرنے کے لیے اس معاہدے میں ایسا منصوبہ شامل کرنا ہوگا جس کے تحت غزہ سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے۔ سنہ2007 میں حماس کے غزہ پر قبضہ کرنے کے بعد اسرائیل اور مصر نے اس سرحد کو بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سرحد کو تب ہی کھولیں گے جب حماس اس بات پر راضی ہوجائے کہ اس سرحد پر اسلحہ کی اسمگلنگ پر قابو پانی کے لیے نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔ دریں اثناء برسلز میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ اپنے فلسطینی،مصری، اردنی اور ترک ہم منصبوں سے ملاقات میں مشرقہ وسطٰی کے لیے عرب ممالک سے مزید اپیل کے طریقۂ کار پر غور کریں گے۔ وزارئے خارجہ غزہ میں جنگ بندی کے حالات پر بھی بات کریں کے اور غزہ متاثرین کے لیے مزید امداد بڑھانے پر غور کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے امریکی صدر باراک اوباما کے مشرقِ وسطٰی کے خصوصی ایلچی جارج مچل بدھ سے خطے کا دورہ کریں گے۔ جارج مچل مصر، اسرائیل، غرب اردن اور اردن کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے لیکن سفارتکاروں نے ان کے حماس کی قیادت سے براہ راست ملاقات کے امکانات کو خارج کردیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے درمیان جو اسکول اور سرکاری وزارت تباہ نہیں ہوئے تھے انہیں سنیچر کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ غزہ میں امدادی کام کرنے والی عالمی امدادی اداروں نے مشترکہ اپیل کی ہے کہ انہیں غزہ پٹی تک بنا کسی روکاوٹ کے جانے دیا جائے۔ اسی دوران بی بی سی سے دوبارہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ متاثرین کے لیے امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ برطانوی ٹی وی چینلوں آئی ٹی وی، چینل فور اور چینل فائیو نے غزہ کے متاثرین کے لیے امداد اپیل نشر کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ بی بی سی نے کہا تھا کہ اُسے اس بات پر شک ہے کہ امداد غزہ کے متاثرین تک پہنچ سکے گی اور بی بی سی نہیں چاہتا کہ عوامی سطح پر اس کی غیر جانبداری پر کوئی اثر پڑے۔ |
اسی بارے میں ’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘22 January, 2009 | آس پاس فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا21 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر19 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل کی فائربندی کا اعلان جلد‘ 17 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||