یہ صرف امریکہ ہی میں ممکن تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ تمام لوگ اپنے آنسو نہیں روک سکے ہیں جو بھی باراک حسین اوبامہ کو امریکہ کا صدر دیکھنا چاہتے تھے۔ پھر چاہے میرا لیاری کراچی سے تعلق رکھنے والا نیویارک میں رہنے والا دوست ہو یا جارجیا ریاست میں مارٹن لوتھر کنگ جونئر کی شہری آزادیوں کی تحریک کے دنوں کا لیجنڈری کردار اور اب منتخب سینیٹر جان لوئيس۔اور کچھ نہیں لیکن بیسویں صدی کے امریکہ میں کم از کم تاریخ کی ٹرین چل پڑی ہے۔ کم از کم امریکی میڈیا اور واشنگٹن میں تو یہی دیکھا جا رہا ہے۔ میں اس دن ایک پاکستانی ڈاکٹر کے کلنک میں بیٹھا تھا جس دن باراک اوباما سترہ جنوری کو ریاست پینسلوینیہ کے شہر فلاڈیلفیا (جسے پیار سے فلی کہتے ہیں) سے سیٹی والے سٹاپوں والی ٹرین پر واشنگٹن میں امریکہ کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کیلئیے سورا ہوا تھا۔ ہزاروں لاکھوں لوگ ہر جگہ ہر سٹیشن پر اسکے استقبال کو امڈ کر آئےتھے۔ میں ایک پاکستانی ڈاکٹر کے کلنک میں تھا۔ بنگلہ دیشی، ہندوستانی، پاکستانی مریض مرد عورتیں بچے۔ امریکہ میں ہم پاکستانی یا تو ٹیکسی چلانے والی قوم ہیں یا ڈاکٹر پیدا کرنے والی۔ کہتے ہیں امریکہ میں کوئی تیس ہزار سے بھی زیادہ پاکستانی ڈاکٹر ہیں۔
میمونہ خان نامی پاکستانی مریضہ ستر سال سے بھی اوپر کی ہوگي۔ وہ بھی ان امریکہ میں لاکھوں لوگوں میں شمال ہیں جنکے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں۔ دل اور کئي بیماریوں میں گھری بڑی بی میمونہ خان کے پاس وہ کنٹرولڈ دوا ختم ہوگئي تھی اور اسے ڈاکٹر سے نسخہ (پرسکرپشن ) لکھوانا تھا۔ ’تمہیں پرسکرپشن تب تک نہیں مل سکتا جبتک ساٹھ ڈالر نقد ادا نہیں کرو گی‘۔ڈاکٹرز آفس کی سیکرٹری نے میمونہ خان سے کہا- ’میرے پاس تو پیسے بھی نہیں۔ تم بعد میں بل بھیج دینا اور میر پاس دوائي تو آج رات کیلیے بھی نہیں۔‘ میمونہ خان سیکرٹری سے کہتی تھیں۔ میں نے سوچا یہ خاتون اگر بغیردوا کے آج کی رات گذر گئي تو ذمہ داری کس کی ہوگي اور یہ بھی کہ پاکستانی ڈاکٹر جن کے کلنک دیسی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اگر ایک ہموطن بزرگ خاتون سے فیس نہ لیں گے تو انکے مالی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ جس دن پاکستانی بزرگ مریضہ خاتون کو امریکہ میں فقط ساٹھ ڈالر نہ ہونے پر زندگي بچانے والی دوا سے محروم ہونا پڑا تھا بلکل اسی طرح باراک اوباما کی ماں کو بھی انشورنش کمپنیوں کیطرف سے علاج سے انکار پر کینسر سے مرجانا پڑا تھا۔ اور اب باراک اوباما کے امریکہ کے صدر بننے کیلیے کیے گۓ وعدوں میں ایک بڑا وعدہ ہر امریکی کو ہیلتھ انشورنس مہیا کرنا بھی ہے۔
میمونہ خان جیسے لاکھوں تارکین وطن جنکی طرف اپنے ہی بھائي بند ڈاکٹر 'اجمل قصاب' بنے ہوۓ ہیں کی زندگیوں میں کیا کوئي واقعی فرق پڑنے والا ہے یا سب کچھ صرف امریکی میڈیا کی چھوٹی سکرینوں پر بدلا بدلا لگتا ہے۔ کہتے ہیں اس بار امریکہ میں صرف تاریخ ہی نہیں ٹیکنالوجی بھی تبدیلی لےآ ئي ہے۔ لیکن واشنگٹن میں مارٹن لوتھر کنگ جونئر کی تاریخی 'آئي ہیو اے ڈریم ' تقریر والے عظیم اجتماع اور ملین مین مارچ کی تاریخ لیے واشنگٹن میں بیس تاریخ کو بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے تاریخ بنتی دیکھنے آئی تھے۔ بقول شخصے ویسے تو ہر صدارتی تقریب تاریخی ہوتی ہے لیکن باراک اوباما کے عہدہء صدارات کی تقریب تاریخ میں باب رقم کر رہی تھی۔ ایک ایسی تاریخ جہاں کیپیٹل ہل کی عمارت ان سیاہ فام غلاموں کے خون اور پسینے سے بنائي گئي تھی اب وہاں ایک سیاہ فام آدمی امریکہ کےچوالسویں صدر کا حلف اٹھا رہا تھا۔ دنیا امریکہ کو کتنا ہی برا بھلا کہے لیکن یہ بھی فقط امریکہ میں ہی ممکن تھا۔ اور جہاں کل تک یہ سب کچھ ناممکن تھا۔ سینیٹر جان لوئیس تو مشہور سیاہ فام شخصیت ہیں لیکن ان کے ہمعصر گمنام ساتھی ایسے کئي سیاہ فام مرد اور خواتین آج بھی زندہ ہیں جو پچاس ساٹھ قبل واشنگٹن میں عہدہء صدرات کے جشن کے پبلک مقامات پر بھی اگر دیکھے جاتے تو تشدد سے گذارے جاتے تھے۔
جب ستمبر دو ہزار سات میں پہلی مرتبہ باراک اوباما امریکی صدارت کی امیدواری کا انتخاب جیتنے سے بھی کئي دن قبل نیویارک میں ہیلری کلنٹن کے زبردست حمایتی علاقے ولیج میں مشہور واشنگٹن سکوآئر پارک میں اپنی مہم کے جلسے سے خطاب کرنے آۓ تھے تو شاید کسی نے یقین سے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہی باراک اوبامگ ٹھیک چودہ ماہ بعد واقعی امریکہ کے صدر منتخب ہوجائيں گے۔ لیکن مجھے اب باراک اوباما کے صدر بننے کے بعد ایک پاکستانی امریکی دوست کی اس بات پر عدم یقین کی کوئي وجہ نظر نہیں آتی جب انہوں نے مجھ سے چند روز قبل کہا تھا ’مجھے یقین ہے کہ ڈمیوکرٹک پارٹی کیرولین کینڈي اور ایک سیاہ فام امیدوار کے بجاۓ ہیلری کنٹن کی خالی کردہ نشست پر مجھے سینیٹ کا ٹکٹ دے دی گي‘۔ بلکل ایسے جیسے مارٹن لوتھر کنگ جونئر کے ساتھی جان لوئيس رات ٹی وی پر کہہ رہ تھے ’باراک اوبامہ کا صدر بن جانا امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ جونئر کے دیکھے ہوۓ خواب کی تعبیر کی ڈائون پے منیٹ ہے۔‘ امریکی اینکر پرسن کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ جہاں سے باراک اوبامہ نے پریڈ دیکھی وہاں کلرڈ یا رنگدار لوگوں کی اکثریت پہلی بار دیکھی گئي وگرنہ بش کی تقریبِ عہدہء صدرات میں اتنی تعداد میں رنگدار لوگ کہاں۔ میں نے سوچا کہ میرا ٹی وی بلیک ینڈ وائٹ ہو چلا ہے یا پھر یہ سب کچھ خواب میں دیکھا لگ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے10 January, 2009 | آس پاس ایران پر نئی امریکی پالیسی کا وعدہ11 January, 2009 | آس پاس اوباما ’بیسٹ‘ پر سواری کریں گے 15 January, 2009 | آس پاس اوباما کی صدارتی کھانے میں شرکت08 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||