BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 January, 2009, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑائی میں مزید تیزی لانے کا انتباہ
اسرائیل تیسرے مرحلے کی کارروائی کرنے والا ہے

پندرہ دن کی مسلسل بمباری کے بعد جس میں آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اسرائیل نے غزہ پر پرچیاں گرائی ہیں جن میں غزہ کے لوگوں کو فوجی کارروائی مزید تیز کرنے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے پرچیوں کے علاوہ لوگوں کو فون کے ذریعے بھی یہ پیغامات موصول ہوئے جن کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل اس لڑائی میں نئے حربے اختیار کرنے والا ہے۔

ہفتے کو اسرائیل نے ایک درجن سے زائد حماس سے متعلق عمارتوں کو نشانہ بنایا جن میں مبینہ طور پر راکٹ داغنے کے اڈے، ہتھیاروں کے ذخیرے اور سمگلنگ کی سرنگیں شامل تھی۔

غزہ میں طبی عملے کا کہنا ہے کہ آٹھ سو فلسطینی اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تیرہ اسرائیل ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ پر فضا سے پھینکی جانے والی پرچیوں اور فون کے ذریعے دیئے جانے والے پیغاموں میں عربی زبان استعمال کی گئی اور غزہ کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حماس کی عمارتوں کے قریب نہ جائیں۔ ان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی غزہ کے لوگوں کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ وہ حماس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

فون کے ذریعے موصول ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ فوجی کارروائی تیسرے مرحلے میں جلد داخل ہو جائے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے ممیں اسرائیل کی فوج غزہ میں آبادی والے علاقوں اور مہاجرین کیمپوں میں داخل ہونے کا سوچ رہی ہے جس میں شہریوں اور اسرائیل فوج کے جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

فلسطینی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کو تشدد کے بدترین واقعہ میں آٹھ افراد جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عام شہری تھے اسرائیل فوج کے ایک ٹینک کا شیل لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار حمزا ابو قمر نے اطلاع دی ہے کہ ریڈ کراس کے کارکنوں نے تیرہ خواتین اور بچوں کو غزہ کے شمالی علاقوں سے نکالا ہے جب کہ اسرائیل فوج نے انہیں وہ سے لاشیں اُٹھانے سے روک دیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کو ستر سے زیادہ فضائی، زمینی اور بحری حملے کیئے۔

ایک اسرائیل فوجی ترجمان نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں حماس کے ایک سینئر اہلکار امیر منسی بھی شامل ہیں جو کہ اسرائیل پر راکٹ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

اب تک چار ہزار کے قریب فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں


قبل ازیں اسرائیل اور حماس دونوں نے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے فائربندی کی اپیل مسترد کردی تھی۔ تاہم سینیئر فلسطینی اہلکار مصر میں ہیں جہاں وہ لڑائی کے خاتمے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

امدادی آپریشنز دوبارہ بحال
 دریں اثناء غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ادارہ اپنے امدادی آپریشنز دوبارہ بحال کر رہا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق سنیچر کی صبح اسرائیل کی بمباری میں حماس کی خفیہ سرنگوں اور ہتھیاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے فوجیوں اور غزہ میں موجود شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

لیکن یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سرجنٹ کے مطابق غزہ سے ملنے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ اسرائیلی افواج ابھی گنجان آبادی والے علاقوں میں داخل نہیں ہورہی ہیں۔

اسرائیل نے غیرملکی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

غزہ کے باشندوں کے مطابق سنیچر کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس، بیت لاہیہ اور غزہ شہر کے اطراف میں عمارتوں اور مقامات پر حملے کیے جو استعمال میں نہیں تھیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق سنیچر کو حماس نے چند راکٹ اسرائیل پر داغے لیکن کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ جمعہ کو غزہ سے تیس سے زائد راکٹ اسرائیل میں داغے گئے۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی ہائی کمشنر ناوی پلے نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایک عمل ہی جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائی کمشنر نےیہ بات اس واقعہ کے تناظر میں کہی جس میں غزہ کے اندر زخمی فلسطینوں کو تحفظ دینے میں اسرائیلی فوج کی ناکامی ایک رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ ریڈ کراس کی طرف سے سامنے لائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے کے عملے کو زیتون کے قرب و جوار میں ایک گھر سے ایک ماں کی لاش کے پاس چار لاغر بچے ملے جو انتہائی سہمے ہوئے تھے۔

غزہ کے باشندے انسانی بحران کا شکار ہیں
ناوی پلے نےکہا: ’یہ واقعہ بہت کرب انگیز ہے کیونکہ اس میں وہ تمام عناصر پائے جاتے ہیں جن کو اگر یکجا کردیں تو یہ ایک جنگی جرم کہلائے گا۔ زخمیوں کا تفحظ ، بیماروں کا علاج اور انہیں محفوظ جگہ منتقل کرنا ایک ذمہ داری ہے لیکن ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی وہاں کھڑے دیکھتے رہے اور ان چار بچوں اور ایک بالغ کے لیے جو حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے، انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔‘

فائربندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کے بارے میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرارداد ’ناقابلِ عمل‘ ہے۔

حماس نے پہلے ہی اس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کو تیار کرنے کے عمل میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔

غزہ میں حماس کے ترجمان سمعی ابو ظُہری کا کہنا تھا: ’حماس کا موقف یہ ہے کہ ہمیں اس قرارداد کی پروا نہیں کیونکہ حماس سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ وہ اس مسئلہ کا ایک اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ، قرارداد تیار کرتے وقت اس میں فلسطینی عوام کے مفادات پر غور نہیں کیا گیا، خاص کر وہ لوگ جو غزہ میں رہتے ہیں۔‘

دریں اثناء غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ادارہ اپنے امدادی آپریشنز دوبارہ بحال کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ترجمان مشیل مونٹاس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی نے انہیں معتبر یقین دہانی کرائی کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی، اس کی تنصیبات اور امدادی کاموں کا احترام کیا جائے گا۔

’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
غزہتیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
غزہاسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
اسرائیل چاہتا کیا ہے؟
فوجی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی مقاصد کیا ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد