ایران: انتخابات میں ووٹنگ مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ ووٹنگ کے اوقات میں پانچ گھنٹے کے لیے یہ کہہ کر توسیع کر دی گئی تھی کہ پولنگ سٹیشنز پر ووٹ ڈالنے والوں کا رش زیادہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ اہلکار علی رضا افشار نے کہا ہے کہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ’عظیم الشان‘ اور گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مبصرین کا خیال تھا کہ ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا بلکہ شاید دارالحکومت تہران میں اس سے بھی کم ہو۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہت سے ایرانی ووٹ ڈالنے اس لیے نہيں گئے ہوں کہ ان کے اپنی پسند کے امیدوار انتخاب میں شریک ہی نہیں ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تہران کے پولنگ سٹیشنز پر کافی خاموشی تھی۔ ان انتخابات میں صدر احمدی نژاد کے مخالفین کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اصلاح پسندوں کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے قدامت پسندوں کے درمیان نشتوں کی بانٹ کس طرح ہو گی۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے آئیں تاکہ بقول انکے امریکہ اور ایران مخالف دیگر ممالک کو جواب دیا جا سکے۔ حالیہ انتخابات سے یہ نظر آ جائے گا کہ سن 2009 میں ہونے والے عہدۂ صدارت کے انتخاب کی شکل کیا ہو گی۔ صدر احمدی نژاد جو سینیگال میں اسلامی کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے ووٹ ڈالنے کے لیے ملک واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ایران کو اپنا ’رول ماڈل‘ اور مسیحا چنا کیا ہے۔ اصلاح پسندوں کوان انتخابات سے اس وقت اپنے آپ کو الگ کرنا پڑا جب انہیں اس بنیاد پر نا اہل قرار دیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اسلامی اقدار کے وفادار نہيں ہیں۔ ایران کی مجلس شوری نے، جو مذہبی رہنماؤں اور ججوں کی ایک غیر منتخب کاؤنسل ہے، 1700 امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات کے اصل فاتح سابق سخت گیر پاسداران انقلاب کے ارکان ہو سکتے ہیں جو اسمبلی میں اب تک سب سے بڑی طاقت یعنی مذہبی رہنماؤں کی جگہ لے سکتے ہیں۔ ان انتخابات میں یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ اگرسخت گیر نوجوانوں کی ایک نئي نسل کو اقتدار حاصل ہو گیا تو روحانی پیشوا آیت اللہ خامنائی کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔
پارلیمان کی 290 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے چار ہزار امیدوار میدان ميں ہیں۔ اصلاح پسندوں نے ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ملک کے 44 ملین یعنی ساڑے چار کروڑ ووٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والے ان آٹھویں انتخابات ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ صدر احمدی نژاد کے سیاسی مخالفین ایران کے جوہری پروگرام کے سبب امریکہ کی جانب سے تین مرتبہ ایران پر پابندیاں عائد کیے جانے کے لیے صدر کو ذمےدار قرار دیتے ہيں۔ امریکہ، اسرائیل اور اہم مغربی طاقتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہيں کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ سویلین توانائی پروگرام کے لیے یورینیئم کی افزودگی کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ایران: رکنِ پارلیمان نے’غداری‘ کی13 March, 2008 | آس پاس امریکہ ایران پرنئی پابندیوں کا حامی 23 February, 2008 | آس پاس ایران سے سنگساری کی منسوخی مطلوب07 February, 2008 | آس پاس ایران پر پابندیاں، برلن میں اجلاس22 January, 2008 | آس پاس امریکہ نے تقسیم کے بیج بوئے: ایران18 January, 2008 | آس پاس ’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘04 December, 2007 | آس پاس ’بات چیت مثبت اور بے لاگ رہی‘28 May, 2007 | آس پاس ایرانی ایٹمی پیش رفت، امریکہ ناراض10 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||