BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزیدامداد کی اپیل، 3100 ہلاکتیں
بنگلہ دیش
متاثرین امداد کی فراہمی میں تاخیر سے مشتعل ہیں
بنگلہ دیش نے سمندری طوفان ’سدر‘ سے متاثرہ افراد کے لیے مزید عالمی امداد کی اپیل کی ہے جبکہ تاحال اس بات کا امکان ہے کہ کچھ متاثرہ علاقوں تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔

جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان سے بنگلہ دیش میں کم از کم اکتیس سو افراد ہلاک اور دس لاکھ خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی فوج کا کہنا ہے کہ وہ پانچ دن قبل آنے والے طوفان سے متاثرہ ساحلی دیہات کی تیس فیصد آبادی تک امداد نہیں پہنچا سکی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ اس وقت ہم بین الاقوامی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم متاثرین کی مدد کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق کوششیں کر رہے ہیں‘۔

بنگلہ دیش کو اب تک ایک سو چالیس ملین ڈالر مالیت کی امداد کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ سعودی عرب نے ایک سو ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ برطانیہ پانچ ملین ڈالر کی امداد بھیج رہا ہے۔ امریکہ نے دو ملین ڈالر کی امداد کے علاوہ امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے دو بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

سندربن میں موجود بی بی سی کے نمائندے الیسٹر لاسن کے مطابق متاثرہ علاقوں تک امداد کی فراہمی جاری ہے اور فوجی ہیلی کاپٹر امدادی سامان کی فراہمی کے لیے محوِ پرواز دیکھے جا سکتے ہیں۔

طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے

تاہم الیسٹر لاسن کے مطابق متاثرین امداد کی فراہمی میں تاخیر سے مشتعل ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب تک بہت سے متاثرین تک امداد پہنچے اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو۔ ساحلی گاؤں پتھرگھاٹ کی رہائشی خاتون صفورہ بیگم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’میں یہاں کئی گھنٹے سے خوراک اور پانی کی تلاش میں ہوں لیکن مجھے یقین نہیں کہ میں وہ حاصل کر پاؤں گی‘۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق طوفان کو پانچ دن گزر جانے کے باوجود بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہیں خوراک مہیا نہیں کی جا سکی ہے اور دیہات میں چاولوں پر حصول پر لڑائی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ مکانات تباہ ہو گئے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تار کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں جنہوں نے بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی۔

بی بی سی کی کشتیبنگلہ دیش پہلا شکار
’عالمی حدت سے بنگلہ دیش کو شدید خطرہ ہے‘
سیلاب زدہسیلاب سے تباہی
متاثرین کوخوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا
بنگلہ دیشسیلاب جو نہیں بھولتا
بنگلہ دیش: لوگ قدرتی آفت سے کیسے نمٹتے ہیں
جنوبی ایشیا سیلابامداد شدید مشکل
جنوبی ایشیاء میں سیلاب متاثرین کو مشکلات
اسی بارے میں
1500ہلاک، امدادی کام جاری
17 November, 2007 | آس پاس
بنگلہ دیش کے مسائل
15 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد