مزیدامداد کی اپیل، 3100 ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش نے سمندری طوفان ’سدر‘ سے متاثرہ افراد کے لیے مزید عالمی امداد کی اپیل کی ہے جبکہ تاحال اس بات کا امکان ہے کہ کچھ متاثرہ علاقوں تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔ جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان سے بنگلہ دیش میں کم از کم اکتیس سو افراد ہلاک اور دس لاکھ خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیشی فوج کا کہنا ہے کہ وہ پانچ دن قبل آنے والے طوفان سے متاثرہ ساحلی دیہات کی تیس فیصد آبادی تک امداد نہیں پہنچا سکی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ اس وقت ہم بین الاقوامی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم متاثرین کی مدد کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق کوششیں کر رہے ہیں‘۔ بنگلہ دیش کو اب تک ایک سو چالیس ملین ڈالر مالیت کی امداد کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ سعودی عرب نے ایک سو ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ برطانیہ پانچ ملین ڈالر کی امداد بھیج رہا ہے۔ امریکہ نے دو ملین ڈالر کی امداد کے علاوہ امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے دو بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ سندربن میں موجود بی بی سی کے نمائندے الیسٹر لاسن کے مطابق متاثرہ علاقوں تک امداد کی فراہمی جاری ہے اور فوجی ہیلی کاپٹر امدادی سامان کی فراہمی کے لیے محوِ پرواز دیکھے جا سکتے ہیں۔
تاہم الیسٹر لاسن کے مطابق متاثرین امداد کی فراہمی میں تاخیر سے مشتعل ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب تک بہت سے متاثرین تک امداد پہنچے اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو۔ ساحلی گاؤں پتھرگھاٹ کی رہائشی خاتون صفورہ بیگم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’میں یہاں کئی گھنٹے سے خوراک اور پانی کی تلاش میں ہوں لیکن مجھے یقین نہیں کہ میں وہ حاصل کر پاؤں گی‘۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق طوفان کو پانچ دن گزر جانے کے باوجود بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہیں خوراک مہیا نہیں کی جا سکی ہے اور دیہات میں چاولوں پر حصول پر لڑائی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ ’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ مکانات تباہ ہو گئے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تار کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں جنہوں نے بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش طوفان: 2300 افراد ہلاک 19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش:ہلاکتوں میں اضافہ19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں18 November, 2007 | آس پاس 1500ہلاک، امدادی کام جاری17 November, 2007 | آس پاس سمندری طوفان سے چھ سو ہلاک16 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک11 June, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ15 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||