اصلاحات پسند، روشن خیال بادشاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چالیس سال تک افغانستان پر حکمرانی اور تین دہائیوں تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ظاہر شاہ کابل میں بانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ پانچ برس پہلے اپنے جنگ سے تباہ حال ملک کو واپس جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی کوشش میں وطن واپس لوٹنے والے ظاہر شاہ انیس سو تہتر میں ایک محلاتی سازش کے نتیجے میں تخت سے الگ کردیے گئے تھے۔ ظاہر شاہ کا چالیس سالہ دور ایک ایسے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کی جد وجہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو اب تک ایک کے بعد ایک بحران سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔ سن دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد جب ایک مرتبہ پھر متحد افغانستان کے لیے امید کی کرنیں پھوٹنا شروع ہوئیں تھیں تو کئی لوگ نہ صرف ظاہر شاہ کی واپسی کے منتظر ہوگئے بلکہ ان کی بادشاہت کی بحالی کی بھی باتیں ہونے لگیں تھیں۔ اکتوبر انیس سو چودہ کو پیدا ہونے والے ظاہر شاہ ، قتل کیے جانے والے افغان بادشاہ نادر شاہ کے بچ جانے والے واحد فرزند تھے جن کی تعلیم کابل اور فرانس میں ہوئی۔ آٹھ نومبر انیس سو تیتیس میں اپنے والد کے قتل کے چند گھنٹے بعد ہی ظاہر شاہ کو بادشاہ بنا دیا گیا اور انہوں نے متوکل اللہ پیرواِ دین ِ متین ِ اسلام کا ٹائیٹل اپنالیا۔ انیس چھیالس تک ظاہر شاہ کی بادشاہت میں ملک کا انتظام ان کے انکل محمد ہاشم اور شاہ محمود غازی نے چلایا۔
لیکن انیس سو چونسٹھ میں ظاہر شاہ نے ایک نیا آئین متعارف کروایا جس میں شاہی خاندان کی ارکان پر کچھ حکومتی عہدوں پر تعیناتی پر پابندی عائد کردی، دو ایوانوں پر مشتمل پارلیمینٹ، آزاد الیکشنز، آزاد پریس اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی اجازت دی گئی۔ اس سے افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ غیر ملکی مدد کی ملک میں آمد سے افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ ظاہر شاہ افعانستان میں اکثر مختلف علاقوں کے دورے کرتے تھے اور غیر ملکی دوروں پر بھی جاتے تھے۔ انیس سو تہتر میں جب ظاہر شاہ اٹلی کے دورے پر تھے تو ان کے کزن محمد داؤد نے ان کا تختہ الٹ دیا اور ایک ری پبلکن حکومت قائم کر لی جس کے صدر وہ خود بن گئے اور ظاہر شاہ چالیس سال تک افغانستان کے حکمران رہنے کے بعد اٹلی میں جلا وطن ہوگئے۔ ان کی جلا وطنی کے دوران افغانستان میں روسی فوجی مداخلت بھی ہوئی اور طالبان کا دور بھی آیا اور ملک بد سے بد تر حالات کی طرف بڑھتا گیا۔ انیس سو اکیانوے میں ظاہر شاہ پر روم میں ان کے گھر پر ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں وہ بچ گئے لیکن اس کے بعد اگلے دس برس تک وہ پبلک میں زیادہ نظر نہیں آئے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کی تیاری کی تو ایک بار پھر ظاہر شاہ سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے اور طالبان کے بعد کے افغانستان کو متحد کرنے میں ان کے کردار پر بات شروع ہوئی۔
ظاہر شاہ دو ہزار دو میں روم سے کابل واپس پہنچے اور تاریخی لویہ جرگے کی سربراہی کی۔ لیکن افغانستان کے بادشاہ کو اپنی سابق سلطنت میں قدم رکھتے ہی ایک بہت بری خبر نے آن لیا۔ لڑکپن میں ہی شادی کے بعد سے ان کی ساتھی ان کی ملکہ ہمیرا اٹلی میں دل کا دورہ پرنے سے انتقال کرگئیں۔ ظاہر شاہ ان کے انتقال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کئی دنوں تک کسی سے بھی ملاقات نہ کی۔ ظاہر شاہ کا افغانستان ترقی ، امن اور سیاسی اصلاحات کے لیے مشہور تھا اور وہ ایک مقبول اور روشن خیال بادشاہ کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان، انسانی حقوق کی پامالی‘14 December, 2004 | آس پاس افغانوں کو نو اکتوبر کا انتظار ہے08 October, 2004 | آس پاس افغانستان کی پہلی خاتون سراغ رساں23 November, 2004 | آس پاس طالبان کی حمایت: خوف یا پسند 07 October, 2004 | آس پاس افغانستان میں انتخابات، سوال اور جواب03 October, 2004 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس افغانستان: اجتماعی قبر کا انکشاف06 July, 2007 | آس پاس واپسی لیکن خوشی سے نہیں20 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||