اسرائیل: سیاسی بے یقینی کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں مخلوط حکومت میں شامل اہم سیاسی جماعت لیبر پارٹی کے قائد کے انتخاب کے لیے ہونے والے انتخابات کے بعد ملک کے اندر سیاسی بے یقینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ لیبر پارٹی کے رہنما عمیر پرتز پارٹی کی قیادت سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی قیادت سے متعلق ہونے والے ابتدائی انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے جبکہ سابق وزیراعظم ایہود باراک اور داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ عامی آیالون کو رائے عامہ کے ابتدائی جائزوں میں واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ اِن دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر موجودہ وزیراعظم ایہود اولمرت استعفی نہیں دیتے تو ان کی جماعت مخلوط حکومت سے علیحدہ ہو جائےگی۔ ابتدائی رائے شماری کے بعد دونوں اشخاص بارہ جون کو ہونے والی دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔ موجودہ کابینہ میں وزیر دفاع کے طور خدمات سر انجام دینے والے عمیر پرتز پر لبنان جنگ سے متعلق ایک سرکاری رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ایہود باراک نے انتخابات کے پہلا مرحلے میں 36 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں ان کے مقابلے میں نوآموز سیاسی رہنما عامی آیالون نے 31 فیصد جبکہ عمیر پرتز نے 22 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ایک لاکھ چار ہزار افراد کی دو تہائی تعداد نے ابتدائی رائے شماری میں حصہ لیا۔
65 سالہ باراک کا کہنا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے انہوں نے اولمرت حکومت میں عارضی طور پر کام کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔ 61 سالہ آیالون کا کہنا ہے کہ اگر ایہود اولمرت کی قدیمہ پارٹی انہیں بحثیت پارٹی قائد کے ان کے عہدے سے الگ نہیں کرتی تو لیبر پارٹی بھی حکومت کا ساتھ نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ درحقیقت صرف لیبر پارٹی کے لیے کسی قائد کے انتخاب کے لیے رائے شماری میں حصہ نہیں لے رہے ہیں بلکہ دراصل وہ ملک کی مستقبل کی قیادت کو منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ میں حصہ رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران باراک نے ذرائع ابلاغ کے سامنے آنے سے گریز کیا اور زیادہ تر وقت پارٹی کے اراکین کے ساتھ براہ راست رابطوں میں صرف کیا۔
انتخابی دوڑ میں 1999 سے 2001 کے دوران بطور وزیراعظم کام کرنے والے مسٹر باراک کو ایک مضبوط امیدوار مانا جا رہا ہے۔ ان کے دور اقتدار کے دو مشکل ترین برسوں میں اسرائیلی فوج کا انخلاء، ناکام امن مذاکرات اور فلسطینیوں کی بغاوت جیسے اقدام شامل ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ان کی اپنی جماعت کے اندر اب بھی ان کے بہت سے دشمن ہیں۔ 2001 کے انتخابات میں ایرئیل شیرون کے ہاتھوں شکست کے بعد انہوں نے تقریباً چھ سال سیاسی جلاوطنی میں گزارے ہیں۔ |
اسی بارے میں ایہود اولمرت پر استعفی کا دباؤ17 January, 2007 | آس پاس اسرائیلی سکینڈلز: دو اور استعفے18 February, 2007 | آس پاس اسرائیلی وزیراعظم استعفی دیں03 May, 2007 | آس پاس اسرائیلی کابینہ کے ہنگامی مذاکرات 02 May, 2007 | آس پاس سفارتکاری جاری اور اسرائیلی کارروائی بھی25 July, 2006 | آس پاس ’ایک تہائی اسرائیل حزب اللہ کی زد میں‘29 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا انکار، مشکلات میں اضافہ29 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||