BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتکاری جاری اور اسرائیلی کارروائی بھی
لبنان کی سرحد کے اندر اسرائیلی فوج کے زمینی حملے جاری ہیں۔
لبنان کی سرحد کے اندر اسرائیلی فوج کے زمینی حملے جاری ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوسرے روز اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کر رہی ہیں جبکہ لبنان کے ساحلی شہر طائر پر اسرائیلی فضائیہ اور بحریہ کے حملے جاری ہیں۔

بات چیت سے قبل ایہود اولمرت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں فوری طور پر کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ لبنانی شہریوں کی انسانی ضروریات کے بارے میں ’نہایت باخبر‘ ہیں لیکن ان کا اصرار تھا کہ اسرائیل دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔


اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بھی لبنان کے قصبے بنت جبیل میں اپنی کارروائی جاری رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے ٹینکوں اور فوجیوں نے اس ساحلی قصبے کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ بنت جبیل لبنانی سرحد کے چار کلومیٹر اندر واقع ہے۔ ہفتے کو قریبی قصبے مارون الراس پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے بنت جبیل میں شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ کے کئی جنگجوؤں نے اس قصبے میں اسرائیلی فوج کے خلاف مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ اسرائیل نے بنت جبیل پر شدید گولہ باری کی ہے لیکن اس دوران حز ب اللہ کی طرف سے ان کے مورچوں پر کٹوشا راکٹوں سے حملے جاری ہیں۔

منگل کو لبنان کا ساحلی شہر طائر بھی شدید بمباری کی زد میں رہا ہے۔ اس دوران اسرائیلی فضائیہ اور بحریہ نے شہر کے شمال میں پہاڑی علاقے کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا ہے۔

طائر کے جنوب میں واقع نباطیہ نامی گاؤں پر کل رات ایک فضائی حملے میں ایک گھرانے کے سات افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں پانچ بچے شامل تھے۔

کونڈولیزا رائس اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ملاقات سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ہدف مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن ہے۔ ’ اس خطے کے لوگ بہت عرصہ خوف اور تشدد گزار چکے ہیں، وہ ایک نئے مشرق وسطیٰ کے حقدار ہیں۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی حملوں میں فوری طور پر کوئی کمی نہیں آئے گی اور یہ کہ حزب اللہ کے جو لوگ راکٹ داغ رہے ہیں ان سے انتہائی سختی کے ساتھ نمٹا جائےگا۔

ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ پندرہ لاکھ سے زائد اسرائیلیوں کو حزب اللہ کے راکٹوں کے خوف میں رہنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھےگا۔

نامہ نگاروں کے مطابق کونڈولیزا رائس اور ایہود اولمرت کے درمیان ملاقات کے دوران اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کو کہیں گی نہ ہی اس بات کا امکان ہے کہ وہ اسرائیل پر کھلے بندوں تنقید کریں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان سمپسن کے مطابق یہ سمجھا جا رہا کہ کونڈولیزا رائس اسرائیل کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ امریکہ اسے فوجی کارروائی کیلیئے مزید وقت دے گا۔

گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک تین سو اسی لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں۔اس دوران چالیس اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔

ادھر نیویارک کے انسانی حقوق کے گروپ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اس بات کے ثبوت شائع کیے ہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں شہری علاقوں کو نشانہ بناتے وقت ’کلسٹر‘ بموں کا استعمال کیا ہے۔

گروپ کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیلی ٹینکوں نے ایک لبنانی گاؤں پر حملے میں کلسٹر بم استعمال کیے گئے تھے۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات بچوں سمیت بارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ گروپ کے ڈائریکٹر کینیتھ روتھ نے کہا کہ مذکورہ ہتھیار اس قدر ناقال بھروسہ ہیں کہ انہیں بالکل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

امکان ہے کہ امریکی بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر لبنان کے لیے امداد لے کر منگل کو لبنان پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔اسرائیلی حملوں سے دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار جان سمپسن کے مطابق یہ سمجھا جا رہا کہ کونڈولیزا رائس اسرائیل کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ امریکہ اسے فوجی کارروائی کیلیئے مزید وقت دے گا
دریں اثناء انسانی امداد کے لیئے اقوام متحدہ کے سرکردہ اہلکار یاں ایگلینڈ نے حزب اللہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بزدلوں کی طرح شہری آبادی میں چھُپنا بند کریں۔

یاں ایگلینڈ نے کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ حزب اللہ اس بات فخر کر رہی ہے کہ اس کے صرف چند جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور اسرائیلی حملوں کا شکار زیادہ تر عام شہری ہوئے ہیں، یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے کہ مسلح افراد سے زیادہ عورتیں اور بچے مرے ہیں۔

لبنان سے اسرائیل جاتے ہوئے انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھل کر بات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ یہ اثر زائل کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی تنقید کا نشانہ صرف اسرائیل ہے۔ واضح رہے کہ یاں ایگلینڈ نے کہا تھا کہ اسرائیل ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کر کے انسانی قوانین توڑنے کا مرتکب ہو رہا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ریڈیو کا کہنا ہے کہ وہ بنت جبیل کے اہم قصبے پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے کہا کہ ان کی فضائیہ نے بقول ان کے لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد