اسرائیلی کابینہ کے ہنگامی مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی کادیمہ پارٹی کے ایک سینئر ممبر نے وزیر اعظم سے ان کے لبنان جنگ کے سنمبھالنے کے طریقہ کار پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم ایود اولمرت کا تعلق قدیمہ پارٹی سے ہی ہے۔ یہ صورت حال اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس میں مسٹر المرت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے لبنان جنگ کے دوران کئی غلط فیصلے کئے تھے۔ قدیمہ پارٹی کے چیرمین اوگدر یزہکی نے اسرائلی ریڈیو پر بات چیت کرتے ہوئےکہا ’ وزیم اعظم کو جانا ہوگا تاکہ قدییمہ پارٹی اپنے عمل پر جاری رہ سکے‘۔ بدھ کو مسٹر یزہکی نے کہا کہ فی الوقت انتخابات ہونے کی کوئی امید نہیں ہے لہذہ مسٹر المرت کو مستعفی ہو جانا چاہيے۔ ان کا کہنا تھا ’ ایک رہنما عوام کی رہنمائی اس وقت ہی کر سکتا ہے جب تک اسے عوام کا بھروسہ حاصل ہو۔ وزیر اعظم کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے اور مستعفی ہو کر قدیمہ کو نیا اتحاد بنانے کی اجازت دینی چاہیے۔‘ وزیر اعظم نے اس رپورٹ پر بات چیت کرنے کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ وہ فی الوقت اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیں گے۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کے چیئرمین کے اس مطالبے پر بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے جس ميں انہیں مستعفی ہونے کو کہا گیا ہے۔ بدھ کو اسرائیل کے اخبارات میں شائع کئے گئے ’پولز‘ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے بیشتر افراد چاہتے ہیں کہ مسٹر المرت مستعفی ہو جائيں۔ ریڈیو اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس بحران کے سبب کابینہ سےایک وزیر مستعفی ہو چکے ہیں اور دفاعی وزیر عامر پریٹز اپنا عہدہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں شیرون کے عہد کا خاتمہ 11 April, 2006 | صفحۂ اول غزہ: مزید اسرائیلی حملے29 October, 2005 | صفحۂ اول صحافی اسرائیلی حراست میں13 August, 2004 | صفحۂ اول مسجدالاقصیٰ میں تشدد02 April, 2004 | صفحۂ اول اسرائیل: دھماکوں میں تیرہ ہلاک14 March, 2004 | صفحۂ اول متنازعہ باڑ کےایک حصےکوگرانےپرغور21 February, 2004 | صفحۂ اول لبنان پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری20 January, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||