اسرائیل: دھماکوں میں تیرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے ساحلی شہر اشدود میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم تیرہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خوکش بمبار بھی شامل ہیں۔ حملوں کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ ملاقات منگل کے روز ہونے والی تھی۔ خودکش حملہ آوروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی عمریں اٹھارہ برس تھیں اور وہ غزہ کی پٹی میں قائم جبالیہ پناہ گزیں کیمپ کے رہنے والے تھے۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق، بم دھماکے شہر کے بندرگاہ والے علاقے میں ہوئے۔ پہلا دھماکہ اشدود کی بندرگاہ کے باہر ہوا۔ یہ علاقہ عام طور پر زبردست حفاظتی انتظامات کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ فلسطینی شدت پسند تنظیم الاقصیٰ شہدا بریگیڈ نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی شدت پسند تنظیم حماس کے ساتھ مل کی ہے۔ شدت پسند تنظیم حماس کے ترجمان عبدالعزیز رینتیسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں چوالیس فلسطینیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں دھماکوں کو ایک فیکٹری میں پیش آنے والے حادثات قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لئے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ یہ دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے جب اسرائیل اور فلسطین کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے لئے انتظامات کئے جا رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||