BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 01:07 GMT 06:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی وزیراعظم استعفی دیں
یہود اولمرت اور لوینی
’یہ وزیر اعظم اور میرے درمیان کوئی ذاتی معاملہ نہیں ‘
اسرائیلی وزیر خارجہ نے وزیراعظم یہود اولمرت سے کہا ہے کہ وہ استعفی دے دیں کیونکہ گزشتہ برس لبنان میں ہونے والی جنگ سے نپٹنے کے طریقے پر ایک رپورٹ میں ان پر شدید تتنقید کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ ٹزیپی لوینی نے کہا کہ نہ تو وہ استعفی دیں گی اور نہ ہی وہ یہود اولمرت کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کریں گی لیکن ان کی جگہ لینے کے لیے بطور امیدوار کھڑی ہوں گی۔

اولمرت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہود اولمرت استعفی نہیں دیں گے بلکہ رپورٹ میں شائع ’غلطیوں‘ کو سدھارنے کی کوشش کریں گے۔

ایک ریٹائرڈ جج الیاہو ونوگریڈ کی جانب سے چھ ماہ کی تحقیقات کے بعد شائع ہونے والی اس رپورٹ میں وزیر اعظم پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ 34 روزہ جنگ کے دوران ذمہ دارانہ اور صحیح فیصلے کرنے میں ناکام رہے۔

وزیر اعظم یہود اولمرت کے ساتھ مذاکرات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹزیپی لوینی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے کہہ دیا ہے کہ ’ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ استعفی دے دیں‘۔

اس کے کچھ دیر بعد ہی کدیمہ اتحاد کے چئیرمین اویگدور یتزاقی نے کھلے عام وزیر اعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

یہود اولمرت اور لوینی
جنگ کے دوران دونوں کے درمیان تعاون کی کمی تھی۔
لوینی نے بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے تعلقات صحیح نہیں تھے اور گزشتہ برس ہونے والی جنگ کے دوران دونوں کے درمیان تعاون کی کمی تھی۔

انہوں نے کہا ’یہ وزیر اعظم اور میرے درمیان کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ہم دونوں سے بہت بڑی بات ہے‘۔

محترمہ لوینی نائب وزیر اعظم کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔

اس سے قبل یہود اولمرت نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کہا تھا کہ یہ ان کے استعفی دینے کے لیے مناسب وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ اس رپورٹ کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ کی ایسے حلقوں میں بھی تعریف کی گئی ہے جہاں اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی ۔ حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے بیروت میں ایک جلسے میں کہا کہ اس رپورٹ کا احترام کیا جانا چاہئیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد