اولمرت کے خلاف ایک وزیر مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر لبنان کے خلاف جنگ میں اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کے خلاف احتجاجاً مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ لبنان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس کا اظہار گزشتہ رات ٹیلی ویزن پر خطاب کے دوران کیا۔ لبنان پر حملے کے سلسلے میں احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد شروع ہوا ہے جسے تیار کرنے والے کمیشن کے کو خود ایہود المرت نے مقرر کیا تھا۔ یہ تقرر اس وقت کیا گیا تھا جب گزشتہ جولائی میں لبنان پر کیے جانے والے حملے کے حوالے سے اسرائیل میں شدید احتجاج کیا جا رہا تھا۔ لبنان پر کیے جانے والے حملے پر معترض ہونے والوں کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا، نہ تو اس حملہ سے لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کو ختم کیا جا سکا، نہ ہی ان دو فوجیوں کی واپسی ممکن ہو سکی جن کے اغواء کو لبنان پر حملے کا جواز قرار دیاگیا تھا۔ اس کے علاوہ چونتیس دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہوئی تھی۔
مذکورہ بالا رپورٹ میں وزیراعظم ایہود اولمرت کے کبنان پر حملے کے فیصلے کو غلط ناکامی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ایتان کیبل اسرائیلی کابینہ کے پہلے رکن ہیں جنہوں نے لبنان پر حملے کے حوالے اس استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’میں ایسی حکومت کی کابینہ کا رکن نہیں رہ سکتا جس کے سربراہ ایہود اولمرت ہوں‘۔ مسٹر کیبل نے کہا ہے کہ ایہود اولمرت کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت09 March, 2007 | آس پاس اولمرت کی کمیشن کے سامنے پیشی01 February, 2007 | آس پاس اولمرت کا صدر سے استعفی کا مطالبہ24 January, 2007 | آس پاس لبنان جنگ: تحقیقات کی منظوری17 September, 2006 | آس پاس لبنان سے اسرائیلی انخلاء مکمل01 October, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ13 January, 2007 | آس پاس اسرائیل، لبنان سرحدی جھڑپ08 February, 2007 | پاکستان رملہ میں چھاپہ، اٹھارہ گرفتار07 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||