BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 18:39 GMT 23:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمرت کا صدر سے استعفی کا مطالبہ
صدر موشے کاستو بدھ کو نیوز کانفرنس میں اپنی صفائی پیش کریں گے
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے صدر موشے کاستو سے زنا اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگائے جانے پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل صدر موشے کاستو نےاپنے خلاف ان الزامات کے لگائے جانے کے بعد چھٹیوں پر جانے کی درخواست دینے کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھاکہ اگر ان کے خلاف باضابط طور الزامات لگائے گئے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

تاہم وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے ان سنگین الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں اور انہوں نے اپنا نام پر لگا یہ دھبا دھونے کا عہد کیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق موشے کاستو صدر کے عہدے سے جس کی اسرائیلی آئین کے تحت رسمی حیثیت ہے مستفی نہیں ہو رہے۔ صدر کے خلاف ابھی باضابط طور پر یہ الزامات نہیں لگائے گئے ہیں تاہم ان پر کابینہ اور پارلیمنٹ کے اراکین کی طرف سے مستعفی ہوجانے کے لیئے شدید دباؤ ہے۔

اس سے قبل اسرائیل میں انصاف کی وزارت نے کہا تھا کہ وہ ملک کے صدر موشے کاستو کے خلاف ریپ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ درج کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اسرائیلی صدر کے خلاف باقاعدہ طور پر فردِ جرم ایک سماعت کے بعد ہی لائی جا سکتی ہے جس میں وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔

موشے کاستو پر ریپ اور جنسی بد چلنی کے الزامات حالیہ مہینوں میں کئی خواتین ملازمین نے عائد کیے تھے۔

ان پر فردِ جرم عائد کرنے کی سفارش ایسے وقت کی گئی ہے جب اسرائیل میں بڑے بڑے سیاست دانوں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔

موشے کاستو کے وکلاء کہتے ہیں کہ ان کے مؤکل بے گناہ ہیں اور جب ملک کے اٹارنی جنرل اسرائیلی صدر کے دفاع سے آگاہ ہوں گے تو ان کے خلاف عائد ختم ہو جائیں گے۔

ڈیوڈ لیبائی کہتے ہیں کہ صدر کا خیال ہے کہ سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ’غلط الزامات کا نشانہ‘ بنائے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر بدھ کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

اسرائیلی آئین کے مطابق صدر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے اور ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

اس سال صدر کاستو کے سات سالہ عہدے کی مدت بھی پوری ہو رہی ہے لیکن ان کے وکلاء کے مطابق اگر ان پر فردِ جرم عائد ہوئی تو وہ استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

اسرائیل کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کاستو کے خلاف دیگر جرائم کے علاوہ ریپ، اختیارات کے ناجائز استعمال، ہراساں کرنے اور انصاف کی راہ میں حائل ہونے کے الزامات کی کافی وجہ موجود ہے۔

ایران میں پیدا ہونے والے ساٹھ سالہ موشے کاستو انیس سو ستتر میں دائیں بازو کی لیکود پارٹی کی طرف سے رکنِ پارلیمان کا انتخاب لڑنے سے قبل صحافی تھے۔

اسرائیل میں صدر کے عہدے کا وقار اور لحاظ زیادہ ہے اگرچہ صدر کے پاس اختیارات محدود ہی ہیں۔ ان اختیارات میں قیدیوں کو معاف کردینے کا اختیار بھی شامل ہے۔

وہ سنہ دو ہزار میں لیبر پارٹی کے سینئر رہنما شیمون پیریز کو شکست دے کر صدر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔

صدر کاستو کے پیشرو کو بھی اپنا عہدہ معیاد ختم ہونے سے قبل اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب اٹارنی جنرل کو پتہ چلا تھا کہ اننہوں نے متنازعہ حالات میں غیر مناسب تحائف قبول کیے۔ لیکن ان پر کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

اسی بارے میں
رائس: صدر عباس کی حمایت
05 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد